جب میں نارانون میں پہلی
دفعہ آئی تھی تب میں اپنا اکثر وقت نشئی کے بارے میں سوچتے اور پریشان ہوتے ہوئے
گزارتی۔ خاص مشکل اوقات پر میں نے’’سکون کی دعا‘‘ جو میں نے سیکھی تھی، کرنے کا
فیصلہ کیا۔ میں اسے بار بار پڑھتی کیونکہ مجھے نہیں پتا تھا کہ اس کے علاوہ میں
کیا کروں۔
میں معلوم نہیں کرپا رہی
تھی کہ میں کونسی چیزوں کو بدل سکتی ہوں اور کونسی چیزوں کو نہیں بدل سکتی۔ ایک دن
میٹنگ میں ایک ساتھی نے کہا کہ اگر وہ اپنے پیروں کے گرد ایک گول دائرہ کھینچے تو
وہ اس دائرے کے اندر کی چیزوں کو بدل سکتی ہے اور ہر وہ چیز جو اس دائرے سے باہر
ہے ان چیزوں کو نہیں بدل سکتی۔
مجھے یہ جان کر بہت اطمینان ہوا کہ مجھے دوسرے
لوگوں کا بوجھ اپنی کمر پر لادنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر کوئی اپنی مرضی اور اپنی
ذمہ داریوں کا مالک ہے۔
میں دوسروں کو بدلنے کی
کوشش کو چھوڑنا سیکھ رہی ہوں اور اس عمل سے اپنے اندر سکون کی جگہ پاتی ہوں۔ یہ
جگہ میرے لئے بہت قیمتی ہے اور پرسکون رہنا اب میری زندگی کی اولین ترجیح ہے۔
آج کی سوچ:
میری بحالی میرے لئے بہت اہم ہے۔ میں خود کو
دیکھو گی کہ جہاں میں اپنے آپ کو تبدیل کر سکتی ہوں تبدیلی کروں گی تاکہ نارانون
میں میری روحانی ترقی کا عمل آگے بڑھتا رہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں