چاہے میں کسی بھی
طرح کے گروپ میں شمولیت اختیار کرتی مگر میں ہمیشہ خود کو اجنبی محسوس کرتی تھی۔
مجھے کبھی محسوس نہیں ہوا کہ میں بھی اس گروپ کا حصہ ہوں۔ جب میں نارانون میں شامل
ہوئی تو یہ احساس بدل گیا۔ یہ میں نے پہلی ہی میٹنگ میں محسوس کر لیا کہ میں نے
اپنا دوسرا خاندان پا لیا ہے۔
میں ان لوگوں کے
ساتھ گھُل مِل گئی۔ یہاں میں بغیر شرم محسوس کیے اپنے نشئی بیٹے کے بارے میں بات
کر سکتی ہوں۔ میرا گروپ سمجھتا ہے کہ میں کیسا محسوس کر رہی ہوں اور میں خود کو
تنہا بھی محسوس نہیں کرتی۔ حقیقت میں جو میں ہوں یہاں میں وہی نظر آسکتی ہوں۔
خود کو محفوظ
سمجھنا اور نارانون دوست ہونا جنہیں میں فون کر سکتی ہوں کیونکہ وہ میرے پاگل پن
کے جذبات کو سمجھ سکتے ہیں میرے لیے بہت اہم ہے۔ میں نارانون گروپ کے سامنے کھڑے
ہونے میں آسانی محسوس کرتی ہوں کیونکہ مجھے پتا ہے کہ یہ لوگ مجھے قبول کرتے ہیں۔
میں یہاں برابری
کی حثیت رکھتی ہوں۔ میں یہاں عجیب یا یہ محسوس نہیں کرتی کہ لوگ مجھ پر رائے زنی
کر رہے ہیں۔ میں نارانون فیلوشپ کا غیر مشروط پیار محسوس کر سکتی ہوں۔ اب میں بحالی
محسوس کرسکتی ہوں۔
میرا بہت بُرا
وقت چل رہا تھا اور میں نے کئی ہفتوں تک نارانون میٹنگ میں جانا چھوڑ دیا۔ جب میں
واپس آئی تو مجھے خوش آمدید کہا گیا۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ ’’تم کہاں تھی؟‘‘ مجھے
قبول کیا گیا، گلے لگایا گیا اور بتایا گیا کہ مجھے واپس دیکھ کر انہیں خوشی ہوئی
تھی۔ نارانون خاندان کو میں نے خود چنا ہے اورمیں بہت شکر گزار ہوں کہ میں اس گروپ
سے تعلق رکھتی ہوں۔
اس تجربے نے
مجھے ایک نئے اعتماد کا احساس دلایا۔ اس نئے اعتماد کے احساس نے مجھے نارانون گروپ
کے باہر بھی لوگوں سے تعلق بنانے میں میری مدد کی۔ نارانون نے مجھے میری
خوداعتمادی اور عزت نفس واپس دلائی۔
آج مجھے معلوم
ہے کہ میں اپنی بالاتر طاقت کی مدد سے اپنی زندگی جاری رکھ سکتی ہوں چاہے میرا
بیٹا منشیات کا استعمال کررہا ہو یا نہیں۔ میری زندگی دوبارہ مجھے مل گئی ہے اور
اب یہ بامعنی ہے۔
آج کی سوچ:
نارانون سے حاصل
ہونے والی غیرمشروط محبت نے بالکل دوا کی طرح کام کیا۔ یہ اس درد اور تکلیف سے
بچاتی اور سکون پہنچاتی ہے جو میں نے نشئی کی وجہ سے برداشت کی، تاکہ زخم بھرنے سے
بحالی کا عمل شروع ہوسکے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں