میرے بالغ بیٹے کے پاس
تعلیم، اچھی نوکری، گاڑی اور گھر تھا۔ اپنی نشے کی لت کی وجہ سے اس نے ہر چیز کھو
دی اور سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہو گیا جہاں اس نے کچھ بہت بُرے حالات دیکھے۔ اس کا
سامنا ایک نوجوان بے گھر لڑکی سے ہوا۔ وہ بھی نشئی تھی اور عوامی بیت الخلا میں
اسکا اسقاطِ حمل ہو گیا۔
اُس لڑکی نے میرے بیٹے سے مدد کی التجا کی۔
میرے بیٹے نے اُسکی مدد کی جتنی وہ کر سکتا تھا مگر وہ لڑکی اور اسکا بچہ دونوں مر
گئے۔ یہ طرز زندگی اس سے بالکل مختلف تھا جس میں اس نے پرورش پائی تھی۔ وہ ایک
اوسط مضافاتی ماحول مگر ایک محفوظ پناہ گاہ میں پلا بڑھا تھا جہاں اس قسم کی تلخ حقیقت سے
اسے ڈھال کی طرح بچایا گیا تھا۔
بعد میں اُسے گرفتار کر
لیا گیا اور اس نے ایک ماہ جیل میں گزارا۔ تب
اس کو منشیات سے بحالی مرکز میں ایک سال گزارنے کی سزا سنائی گئی۔ بحالی کے مرکز میں داخلے سے
پہلے معائنہ کرنے والے ڈاکٹر نے میرے بیٹے میں ذہنی صدمے کی تشخیص کی۔
وہ بالکل
ایسے صدمے سے دوچار تھا جس طرح کوئی سپاہی جنگ سے بموں کی آوازیں سن
سن کر خستہ حال واپس آتا ہے یا دیگر لوگ جو ایسے ہی خوفناک حالات سے گذرتے ہیں۔ اب وہ
سڑکوں پر زندگی گذارنے کے دوران ہونے والے ذہنی صدمے سے نجات کے لئے ایک ماہر نفسیات
کے پاس جا رہا ہے۔
نشئی کو تکلیف میں دیکھ کر
مجھے بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے، لیکن ہوسکتا ہے کہ بظاہر اس ظالمانہ اور سخت
تجربے نے نشئی اور اسے چاہنے والے ہر شخص کی زندگی بچائی ہو۔
میں نے نارانون میں سیکھا
کہ جب میں اپنے پیارے مریض کو تکلیف میں دیکھنا برداشت نہیں کر سکتی تو میں اس کی
نشے میں معاونت کرتی ہوں۔ چونکہ مں اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی اس لیے میں اس کے
لئے ہر چیز ٹھیک کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ ایسا کرتے ہوئے میں ان تمام تجربات کی راہ
میں حائل ہو جاتی ہوں جن کی بدولت شاید نشئی بدلنے کی جرآت پا سکے۔
آج کی سوچ:
میری سوچیں اور دعائیں ایسے
مسائل کا سامنا کرنے والے تمام لوگوں اور ان کے پیاروں کے ساتھ ہیں
چاہے وہ والدین ہوں، جیون ساتھی، بچے یا دوست ہوں۔ آپ تنہا نہیں ہیں بلکہ اپنے سچے
دوستوں کے درمیان ہیں جو آپ کو دوسروں کی نسبت بہتر سمجھ سکتےہیں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں