تین
تباہ کن قوتوں میں سے ایک غیبت ہے جو کسی گروہ کو تباہ کر سکتی ہے۔ جب میں پہلی
بار نارانون آیا تھا تو مجھے دوسروں کی رائے زنی کا خوف تھا۔ میں نے خود کو اپنے
خاندان اور دوستوں سے علیحدہ کر لیا تھا اور مجھے یہ تسلیم کرتے ہوئے شرم آتی تھی
کہ میرے خاندان میں کوئی مسئلہ ہے۔ میں بحث کا مرکز نہیں بننا چاہتا تھا اور میں
یقیناً یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ میرا خاندان مجھے ناکام تعلقات کی وجہ سے کالی
بھیڑ تصور کرے۔
مجھے
آج بھی یقین ہے کہ میرا خوف برحق تھا کیونکہ میرے دوست اور اہلِ خانہ بحالی کے عمل
میں نہیں ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ نشہ ایک بیماری ہے۔ ان کا خیال ہے کہ نشہ ایک
اخلاقی مرض ہے جس کی وجہ سے وہ منفی ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔
اس
مسئلے کیلئے ان کا جواب سادہ ہے ۔۔۔ نشئی سے جان چھوڑا لی جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو
جائے گا۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ میں بھی نشے کی بیماری سے متاثر ہوا کیونکہ میں بھی
اُسی طرح کا بیمار رویہ اپنا رہا تھا جو میں نے اپنے خاندن سے سیکھا تھا۔ میں حالیہ
رشتوں میں اپنے ماضی کے بیمار غیر فعال رشتوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کررہا تھا۔
اگر
میں نارانون میں مجھے یہ اعتبار نہ ملتا کہ میں یہاں محفوظ ہوں اور دوسروں کی رائے
زنی کا شکار نہیں ہوں گا تو میں نارانون کی میٹنگز میں جانا جاری نہ رکھ پاتا اور
میں کبھی صحیح بھی نہ ہو پاتا۔
جب
میں غیبت میں مصروف ہوتا ہوں تو میں یاد رکھتا ہوں کہ دوسروں پر رائے زنی عزت نفس
کی کمی کی ضمنی پیداوار ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو میں خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے کے
لئے کرتا ہوں۔ میں اپنی بحالی پر توجہ دینا بند کر دیتا ہوں اور دوسروں کا قاضی بن
جاتا ہوں۔
آج
کی سوچ:
جب
میری توجہ دوسروں پر اور ان کا قاضی بننے پر ہو تو میں نشے کی بیماری سے نہیں نکل
سکتا۔ میں دوسروں پر رائے زنی اور غیبت نہیں کروں گا بلکہ اپنے آپ پر توجہ مرکوز
رکھوں گا تاکہ میں بحالی کے تحائف سے لُطف اندوز ہو سکوں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں