نارانون
پروگرام میں گزارے وقت نے مجھے ایک جھوٹا احساسِ تحفظ دیا۔ ہر کسی نے مجھے بتایا
کہ میں کتنی اچھی طرح پروگرام پر کام کر رہی تھی۔ میں نے قبول کر لیا کہ میں اپنے
شوہر کو نہیں بدل
سکتی،
لیکن میں ابھی بھی اس کی مدد کرنا چاہتی تھی۔
میں
ابھی بھی سوچتی تھی کہ میں نشئی کی بحالی میں لازمی حصہ ہوں۔ میں نے تھوڑی تھوڑی
مدد کبھی کسی کام میں کچھ یہاں اور کچھ وہاں کرنا شروع کردی لیکن میرا پروگرام
میرے ساتھ تھا۔
مجھے
محسوس ہوا کہ ’’اس بار میں ٹھیک ہوں، میں جانتی ہوں میں کیا کر رہی ہوں، اور میں
اس سے نمٹ سکتی ہوں۔ یہ وقت مخلتف ہے۔‘‘
ایک
شام میں نے گھر فون کیا اور نشئی نے فون کا جواب دیا۔ چند ہی منٹوں میں مجھے معلوم
ہو گیا کہ اُس
نے منشیات کا استعمال کیا تھا۔ میں جلد ہی دفتر سے اٹھی اور اُس کا سامنا کرنے کیلئے فوراً گھر واپس
گئی۔
یہ
سامنا جلد ہی باہمی جسمانی تصادم میں بدل گیا۔ نشئی نے میری گاڑی لے جانے کی کوشش
کی اور میں نے پولیس کو فون کر دیا۔ جب پولیس آئی تو ہم نے اپنی اپنی کہانی بتائی
اور ہم دونوں کو جیل لے جایا گیا۔
اس
وقت مجھے پروگرام پر کام کرتے ہوئے ایک سال ہو گیا تھا اور مجھے لگا کہ میراردعمل
میرے اختیار میں ہے۔ میں ان نتائج سے بچنے کیلئے پروگرام میں سیکھے ہوئے کسی بھی
طریقہ کار کو استعمال کر سکتی تھی۔ میرے پاس اُس رات سوچنے کا کافی وقت تھا۔
اس
وقت میں نے وہی کیا جو میرے خیال میں میرا پہلا ایماندارانہ دسواں قدم تھا: میں نے
تسلیم کیا کہ میں اس وقت جیل کی کوٹھری میں ہوں، نشئی کی وجہ سے نہیں، جو میرے
ساتھ والی کوٹھری میں موجود تھا، بلکہ اپنے غیرعقلمندانہ اعمال اور ردعمل کی وجہ
سے یہاں پہنچی ہوں۔ میں اپنے نتائج کیلئے خود ذمہ دار تھی۔
آج
کی سوچ:
بحالی
ایک عمل ہے۔ میں شاید کبھی بھی مکمل بہتر نہ ہوں۔ اگر میں ایک ایماندار، کھُلے اور
رضامند ذہن کے ساتھ چیزوں کو نئے انداز میں کرنا جاری رکھوں تو میں ہر روز آگے
بڑھنا سیکھ سکتی ہوں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں