میں
سوچتی تھی کہ کیا ایک ریچھ ماں آخری دن اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرکے انہوں درخت پر
چڑھاتے وقت غمگین ہوتی ہے۔ انہیں پیار کرنے، ان کی زندگی کیلئے لڑنے اور انہیں
زندہ رہنے کا ہنر سیکھانے کے بعد ان کی ماں غائب ہو جاتی ہے اور وہ اکیلے رہ جاتے
ہیں۔
مجھے
تسلیم کرنا پڑا کہ نشئی کے نوعمری تک پہنچنے کے بعد میری رہنمائی کے دن ختم ہو گئے
تھے مگر مجھے یقین نہیں تھا کہ میں نے اسے وہ سب کچھ
سکھا دیا ہے جس کی اسے زندہ رہنے کے لیے ضرورت ہے۔
مجھے
ایک والدہ کے کرادر کو کھونے کا افسوس ہے کیونکہ نشئی اور میں دونوں اپنی اپنی سمت
کی طرف نکل گئے تھے۔ نارانون نے مجھے والدہ کے کردار کو جانے دینے کے عمل میں بالاتر
طاقت کی اہمیت سکھائی۔
میں
نے نشئی کو سڑکوں پر چھوڑ دیا اور جب میں اُسے دیکھتی یا اس کی طرف سے سُنتی، تو اپنی
بقا کے لئے چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھانے میں کامیابی پر اُسے مبارکباد دیتی۔ جیسا کہ
وہ بحالی میں آتا اور جاتا رہتا ہے تو میں ریچھ ماں کی بہادری کی طرف دیکھتے ہوئے
نشئی سے اپنا فاصلہ برقرار رکھتی ہوں۔
شاید
ریچھ ماں بھی میری طرح ہی افسوس کرتی ہو۔ جب وہ اپنے چھوٹےبچوں سے دور جاتی ہو گی
تو اُس کی حیوانی جبلت اُسے غمگین ہونے سے بچا لیتی ہوگی۔ تاہم جب وہ اپنی بقا کی
کوشش جاری رکھتی ہے تو اُس کے ذہن میں اپنے چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کی فکر نہیں آنی
چاہیئے۔ ایسا کرنے سے وہ خود اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
آج
کی سوچ:
اب
میں اپنا اور اپنی ضروریات کا زیادہ خیال رکھتی ہوں۔ جب نشئی تیار ہوگا تو میرے
ایسا کرنے سے وہ خاموشی سے سیکھ سکتا ہے۔ اُسے میری مثال دی گئی ہے اور دوسرے
لوگوں کی مثالیں جنہیں اس کی بالاتر طاقت نے اس کی زندگی میں بھیجا ہے۔ مجھے اُمید
ہے کہ روزانہ اپنے طور پر زندگی گزارنے سے اس میں عزت نفس پیدا ہو رہی ہے۔ مجھے
معلوم ہے کہ میرا سکون خود اپنی زندگی سے لطف اندوز ہونے سے آ رہا ہے۔
’’خودغرضی
یہ نہیں ہے کہ کوئی اپنی مرضی سے زندگی جیے؛ خودغرضی یہ ہے کہ آپ دوسروں کو کہیں
کہ وہ آپ کی مرضی کےمطابق زندگی گزاریں۔ بے غرضی یہ ہے کہ دوسروں کی زندگی کو تنہا
چھوڑ دیا جائے، اس میں مداخلت نہ کی جائے۔ خود غرضی ایک جیسی چیزیں چاہتی ہے۔ بے
غرضی چیزوں کی لامحدود اقسام کو ایک خوشگوار چیز کے طور پر پہچانتی ہے، انہیں تسلیم
کرتی ہے، ان کی سامنے سرتسلیم خم کرتی ہے اور ان سے لطف اندوز ہوتی ہے۔‘‘ ~ آسکر وائلڈ
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں