ہفتہ، 30 مئی، 2015

اپنا خیال رکھنا

میں نے دیکھا ہے کہ نارانون میری زندگی کے ہر شعبے میں مدد کر سکتی ہے، صرف نشے کے مرض میں ہی نہیں۔ میرا کام میں بہت تھکانے والا ہے اور کئی ملاقاتوں کی وجہ سے میرا دن بہت مصروف ہوتا ہے۔ پچھلے ہفتے میری بیس میٹنگز طے تھیں۔ یاد دہانی کی کالز کے باوجود کچھ لوگ نہیں آئے، اور کچھ نے وقت تبدیل کرنے کا کہا۔ چیزیں طے شدہ پروگرام کے تحت نہیں چل رہی تھیں۔ میری توقع تھی کہ ہفتہ آرام سے گزرے گا۔ نارانون میٹنگز میں جانے، بارہ قدموں پر کام کرنے اور اس پروگرام کے دوسرے طریقے استعمال کرنے سے پہلے میں بہت شکایت کرتی کہ ان لوگوں کو کوئی خیال ہی نہیں۔ ان کی جرات کیسے ہوئی کہ کوئی وعدہ کریں اور پھر اس پر عمل نہ کریں۔

میں سیکھ رہی ہوں کہ میں دوسروں سے یہ توقع نہیں رکھ سکتی کہ ان کی ترجیحات بھی میری ترجیحات جیسی ہوں۔ میں اپنا خیال رکھ سکتی ہوں یہ طے کرکے کہ مجھے کیا کرنا ہے اور اگر میں کسی کے رویے سے مایوس ہوں تو اس کو جانے دوں۔ میں اپنی توقعات کو جانے دے سکتی ہوں۔ میں اپنی مایوسیوں اور نا امیدیوں کا اقرار کر سکتی ہوں، مگر ساتھ ہی میں اس بات کا فیصلہ کر سکتی ہوں کہ میں نے کیا محسوس کرنا ہے۔ ناراض ہونے کی بجائے میں جیسے حالات ہوں انہیں ویسے ہی قبول کر سکتی ہوں۔ میں مثبت چیزوں کو دیکھ سکتی ہوں اور ان لوگوں کی قدر کر سکتی ہوں جو وقت پر مجھ سے ملنے آئیں اور اس بات کو سمجھ سکتی ہوں کہ کچھ لوگوں کوملاقات کا وقت تبدیل کرنے کی کیوں ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ 

آج کی سوچ

میں اپنا خیال رکھوں گی، اپنے شیڈول کا، اپنے محسوسات  کا اور اپنی ضروریات کا۔ مجھے یہ محسوس کرنے کی ضرورت نہیں کہ مجھے ایک طرف پھینک دیا گیا ہے اور میں ناراضگی اور غصے سے آزاد ہو کر زندگی کے لمحات سے لطف اندوز ہو سکتی ہوں۔ 

’’کایا پلٹنے کا نتیجہ انسان کی سوچ، محسوسات اور رویوں میں تبدیلی میں ظاہر ہوتا ہے۔ مگر کایا پلٹنے کے اصل عمل میں ان چیزوں کو براہ راست تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں چیزوں کے بارے میں اپنا بنیادی نقطہ نظر تبدیل کرنے ضرورت ہوتی ہے۔‘‘~ میریلن شلٹز مینڈیلا، پی ایچ ڈی    

جمعرات، 28 مئی، 2015

کبھی تنہا نہیں


جب میں پہلی مرتبہ نارانون کی میٹنگ میں آیا تو مجھے اس پروگرام کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات تھے۔ میرا خیال نہیں تھا کہ پروگرام یا اس کے ارکان میری مدد کر سکتے تھے۔ وہ کیسے میرے حالات، ذہنیت اور مایوسی کے عمومی احساس کو بدل سکتے تھے؟ مجھے یقین تھا کہ نارانون کی میٹنگ بھی  ایسے لوگوں کا ایک گروپ تھا جو میری جدوجہد کو نہیں سمجھ سکتے تھے۔ میں نے سوچا کہ میں وہاں جاؤں گا اور یہ ثابت کروں گا کہ میری سوچ اور زاویہ نظر درست تھا۔ جب میں نے وہاں لوگوں کی  باتیں سنی تو اس کے برعکس ہوا۔

ایک کے بعد ایک، میں نے ان میں سے ہر ایک کو بہت سے وہی واقعات، وہی ناکامیاں، اسی تذبذب  اورآزردگی  کے بارے میں بات کرتے سنا جن میں سے میں گزر رہا تھا۔ میں یہ جان کر بہت حیران ہواکہ میں اس جدوجہد میں اکیلا نہیں ہوں۔ یہ سب باتیں مجھے اتنی ذاتی لگتی تھیں کہ میں یہ سمجھنے لگا کہ ان کا تعلق صرف مجھ سے ہے۔یہ میری بیداری کا  تجربہ تھا۔ میں نے سنا کہ جس تکلیف میں  میں مبتلا تھا، دوسرے بھی اسی درد سے دوچار تھے، اور ہمارے پاس ایک ایسا لائحہ عمل ہے جس پر چل کر میں اپنی زندگی میں کچھ ذہنی صحت، امن اور سکون کو لا سکتا ہوں۔

آج کی سوچ

میں جتنا زیادہ دوسرے کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہوں، مجھے اتنا ہی زیادہ احساس ہوتا کہ میں کتنا بے اثر ہوں۔ میں جتنا زیادہ اپنے آپ کو الجھ لیتا ہوں ، اتنا ہی زیادہ میری بےچینی غالب آجاتی ہے اور میرا سارا موڈ ڈپریشن میں بدل جاتا ہے۔ جب میں اپنے پروگرام پر عمل کرتا ہوں تو زندگی کی پیچیدگی بہت کم ہو جاتی ہے۔ آج کے دن میں چیزوں  کو سادہ رکھوں گا اور اس بات سے خوش رہوں گا کہ میں اکیلا نہیں ہوں۔

’’اپنا ذہن کھلا رکھیں اور جتنی میٹنگز میں جا سکیں جائیں۔ اپنی بات کہیں اور میٹنگ کے بعد سوال پوچھیں۔ آپ بہت جلد نئے دوست بنا لیں گے اور اپنے آپ کو اس گروپ کا حصہ سمجھیں گے۔‘‘ ~ نار انون کا نیلا کتابچہ

بدھ، 27 مئی، 2015

جیتنے کے لیے جُھکو


جب میں پہلی مرتبہ نار انون کے کمرے میں آئی تو میں ’’جیتنے کے لیے جھکو‘‘ کا مطلب بالکل نہیں سمجھ سکی ۔ میرا خیال تھا کہ ہتھیار ڈالنے کا مطلب ہے کہ میں ناکام ہو گئی ہوں، اس لیے میں کبھی بھی کسی شخص یا کسی چیز سے دستبردار نہیں ہوتی ۔ میں جتنی بھی تھکی ہوئی کیوں نہ ہوتی، اپنی جدوجہد برقرار رکھتی۔ ایک نشے کے مریض شوہر کے ساتھ رہتے ہوئے میں نے سیکھا تھا کہ اگر کسی بھی چیز کو ٹھیک ہونے یا مرمت کی ضرورت ہے تو مجھے ہی وہ کام کرنا ہے۔

ایک روز  جب میں کام کے طویل دن کے بعد گھر واپس آئی تو میں نے دیکھا کہ میرے غسلخانے میں پانی جمع تھااور  بہہ کر میرے سونے کے کمرے تک آ گیا تھا۔ میں فوراً کام میں جت گئی۔ تین گھنٹوں کی محنت کے بعد غسلخانہ ٹھیک اور کمرے صاف ہوئے۔ گندی اور تھکی ہوئی، میں فوراً نہائی۔  کھانا کھانے کے بعد میں نے برتن دھونے کی مشین چلائی تو وہ نہ چلی۔  میں نے فوراً اس کا نقشہ نکالا اور اسے ٹھیک کرنے کے لیے کھولنا شروع کر دیا۔ ٹھیک کرنے کے بعد جب بھی میں دوبارہ مشین چلاتی تو اس کا فیوز جل جاتا۔ چار مرتبہ فیوز جلنے کے بعد وہ  لمحہ آیا جب مجھے سمجھ آئی کہ: ہتھیار ڈال دو، جانے دو اور خدا کو کرنے دو۔

اس دن کے بعد میرے گھر میں ایک نئی روایت شروع ہوئی۔ میں اب اس وقت کا انتظار کرتی ہوں جب میں اور میرا بیٹا مل کر برتن دھوتے ہیں۔ آج میں برتن دھونے کی خراب مشین کے لیے شکر گزار ہوں اور یہ بات سمجھنے کے لیے اس سے بھی زیادہ شکر گزار ہوں کہ جھک جانا سکون کا راستہ ہے۔

آج کی سوچ

میں آج کے دن ہونے والے واقعات پر اپنے ردّ عمل کا انتخاب کر سکتی ہوں۔ میں انہیں مسائل کے طور پر دیکھ سکتی ہوں یا  بہتری کے مواقع کے طور پر۔

’’نیک ساعت کا تحفہ ہمیشہ خوبصورت  کاغذ میں لپٹا ہوا نہیں آتا۔‘‘   گمنام

منگل، 26 مئی، 2015

ذہنی سکون

جب میں پہلی مرتبہ نار انون میٹنگ میں آیا تو جن چیزوں نے سب سے پہلے مجھے متوجہ کیا ان میں سے ایک یہ چیز تھی کہ نار انون کے جو اراکین سب سے پر سکون نظر آتے تھے وہ’ جانے دینے‘ کے بارے میں بہت شیئرنگ کرتے تھے۔ اگر ان کے اردگرد بہت افراتفری اور انتشار بھی ہوتا تو وہ پھر بھی وہ جانے دینے اور اپنی ذہنی صحت اور سکون قائم رکھنے کے لیے اپنی بالا تر طاقت پر اعتماد کرنے کی بات کرتے۔

میں سیکھ رہا ہوں کہ مجھے باتوں، چیزوں اور لوگوں  سب کو جانے دینا ہے۔ مثلاً مجھے پبلک ریل گاڑی، جس پر بیٹھ کو میں روزانہ کام پر جاتا ہوں، پر کوئی کنٹرول نہیں ۔  مجھے اس بات پر کوئی اختیار نہیں کہ ریل گاڑی مجھے وقت پر کام پر پہنچائے گی یا نہیں۔ اسی طرح مجھے معلوم ہےکہ میرا اپنے نشے کے مریض پر کوئی اختیار نہیں۔ ایک نار انون کے رکن نے مجھ سے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’’جب چیونٹیاں ہماری ٹانگوں پر چڑھائی کر رہی ہوں تو ہمیں ہاتھیوں کو جانے دینا چاہیئے۔‘‘

اگر میں جھکنے کے لیے تیار ہو جاؤں تو کیا یہ ممکن ہے کہ میری زندگی  کا ایک بہتر منصوبہ موجود ہو؟

آج کی سوچ
میں نے دیکھا ہے کہ جب میں جانے دیتا ہوں اور خدا کو کرنے  دیتا ہوں (Let Go and Let God)   تو  میں امن و سکون پاتا ہوں۔ جب میں اپنی بالا تر طاقت کو  اپنی زندگی کا اختیار سونپ دیتا ہوں تو بہت دفعہ نتیجہ بہت بہتر نکلتا ہے۔

’’ہم نے دیکھا ہے کہ ان قدموں پر کام کرنے سے آپ کسی بھی مشکل کا حل نکال سکتے ہیں۔‘‘  نار انون نیلا کتابچہ

جمعرات، 14 مئی، 2015

ساتھ چھوڑنا


جب میری ماں نے مجھے چھوڑا تو میری نانی نے مجھ سے کہا کہ ان حرکتوں کے باوجود مجھے ہمیشہ اپنی ماں سے محبت کرنی چاہیئے۔ ان کے بغیر میں زندہ بھی نہ ہوتی۔ میرے خیال میں میری ماں ایک آزاد منش باغی تھی۔ اس نے مجھے نہیں پالا، میری نانی نے مجھے پالا۔ میں اپنی نانی کے میعار کے مطابق ایک اچھی بچی تھی کیونکہ میں اکثر وہی کرتی جو مجھ سے کہا جاتا۔ بڑا ہونے کے بعد بھی میں کچھ غلط نہیں کرنا چاہتی تھی، کیونکہ میں نے یہ سیکھا تھا کہ لوگوں کو خوش کر کے میں اچھا اور پیارا محسوس کرتی ہوں۔ میں محبت چاہتی تھی مگر میں اپنی ماں کی طرح نہیں بننا چاہتی تھی۔

میں نے جلد شادی کر لی اور میرے تین بچے ہوئے۔ جب میرا چوتھا بچہ ہونے والا تھا تو میرا شوہر باہر سیر کرنے گیا اور پھر کبھی واپس نہ آیا۔ مجھے پھر لگا کہ مجھے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ میں سارا دن کام کرتی، ہمیشہ میرے منہ پر مسکراہٹ ہوتی حالانکہ میرا دل اندر سے  دکھا ہوا تھا۔ میں مصروف رہتی، اپنے خاندان کو سہارا دیتی، مگر میرے  اپنے پاس کوئی مدد نہ تھی۔ میں نے مدد تلاش بھی نہ کی۔ میں زندہ رہنے اور یہ ثابت کرنے کہ میں ایک مضبوط انسان ہوں، صحیح کام کرنے  اور یہ ثابت کرنے کہ میں اپنی ماں کی طرح نہیں ہوں کی جدوجہد میں بہت زیادہ مصروف تھی ۔

جب میرے بچے بڑے ہو گئے تو انہوں نے نشہ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ مجھے ایک مرتبہ پھر محسوس ہوا کہ مجھے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ میں نے اپنے بچوں کے تین بچوں کو بھی پالا ہے اور ان کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ میں نے محبت سے ان کا خیال رکھا اور انہیں سب کچھ دیا۔ ایک مرتبہ پھر میں نے اپنے آپ کو پیچھے دھکیل دیا۔

آخر کار میں نے نار انون جا کر مدد مانگی۔ نار انون کے پروگرام اور میری بالاتر طاقت کے ذریعے میری زندگی بچی۔ میں نے جانا کہ میں نے اپنے آپ کو خود پیچھے دھکیل دیا تھا اور تنہا چھوڑ دیا تھا۔ آج میں بہت شکر گزار ہوں اور تنہا چھوڑے جانے کی تجربات کا دکھ ختم کرنے کی جدوجہد میں نہیں ہوں۔ میں نار انون خاندان کے محبت بھرے سہارے کی بدولت آج ایک نئی انسان ہوں۔ میں نے نار انون فیملی پروگرام سے بہت سی اچھی باتیں سیکھیں اور زندگی گزارنے کے بہتر طریقے سیکھے۔ میں اب دوسروں کی زندگی میں اپنے آپ کو تنہا چھوڑے بغیر حصہ ڈال سکتی ہوں۔

آج کی سوچ
میں نے یہ جانا کہ ہے میں معاف کر سکتی ہوں اور وہ چیزیں دہرانے کی خوف کے بغیر رہ سکتی ہوں جنہیں میں اپنی ماں کی غلطیاں سمجھتی تھی۔ میں دوسروں سے محبت کرنا چھوڑے بغیر اپنے لیے وہ کر سکتی ہوں جو میرے لیے صحیح ہے۔

’’محبت ہر اس شخص کا حصہ ہے جو زندہ ہے اور سانس لیتا ہے۔ محبت وہ طاقت ہے جو سب انسانوں کو ایک گہرے  سمندر کے قطروں کی طرح ایک دوسرے سے جوڑ کر رکھتی  ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ محبت سے نہ ہوں؟ اگر آپ کو اپنے اندر محبت نظر نہیں آتی تو پھر آپ نے اندر دیکھا ہی نہیں۔‘‘ رون راتھبن

بدھ، 13 مئی، 2015

خدمت

جب میں نے نار انون آنا شروع کیا تھا تو میں سوچتی تھی کہ زندگی غیر منصفانہ ہے ۔ میرا شوہر نشے کا مریض  ہی کیوں؟ کیا مجھے حق نہیں کہ میرا ایک نارمل، صحتمند خاندان ہو۔ یہ میری دوسری شادی تھی اور میں اسے کامیاب بنانے کے لیے پر عزم تھی۔ میں نے سوچا کہ اگر میں مہربان اور دینے والی بنوں گی تو میرا شوہر بہتر ہو جائے گا اور میرے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے گا۔

میں جب  اسے کچھ دیتی تو اس کے بدلے میں توقع رکھتی۔ میرا دینا اوروہ  جسے میں محبت سمجھتی تھی  حقیقتاً مشروط تھا۔ تاہم، جیسے جیسے میرے شوہر کا نشے کا مرض بڑھا، میں ایک نارمل، محبت کرنے والے خاندان یا رشتے کا وہم برقرار نہیں رکھ سکی۔ میں اس کی نشے کی عادت چھپانے اور اس کا علاج کرنے کے لیے سخت محنت کرتی مگر ہم دونوں کے رویے عجیب سے عجیب تر اور غیر صحتمندانہ ہوتے جا رہے تھے۔ صاف ظاہر تھا  کہ کوئی مسئلہ ہے اور مسئلہ صرف اس میں نہیں تھا۔جب ہم آخر کار علیحدہ ہو گئے تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے دنیا اندھیر ہو گئی ہے۔ میں تنہا محسوس کرتی، ناکام، کم حوصلہ، اور میں سب سے الگ تھلک ہونا چاہتی۔

اپنی طلاق ہونے سے پہلے میں نے نار انون کی میٹنگز میں جانا شروع کر دیا اور میں اس کے بعد بھی جاتی رہی۔ کام کے علاوہ میں صرف ان میٹنگز کے لیے باہر جاتی۔ اس پروگرام میں ایک سال گزارنے کے بعد مجھے کہا گیا کہ میں گروپ سروس کا نمائندہ بنوں جسے میں نے قبول کر لیا۔ میں نے سوچا کہ یہ باہر جانے کا ایک اور موقع ہو گا جس کی مجھے ضرورت تھی۔

 اپنی پہلی علاقے کی میٹنگ میں جب ایک عہدیدار نے اعلان کیا کہ وہ یہ ذمہ داری نہیں نبھا سکیں گی تو میں نے اپنی خدمات پیش کر دیں۔ اس بار نتائج بہت مختلف تھے۔ مجھے معلوم ہوا کہ نار انون میں خدمت کے کام کے ذریعے میں بحالی کا پیغام دوسروں تک پہنچا سکتی ہوں، جیسا کہ میں خود اس تجربے سے گزری تھی۔ میں نے جانا کہ جب میں بغیر کسی توقع کے دوسروں کو کچھ دیتی ہوں تو میں صحتمندانہ اور ہمدردانہ طور پر ان کی مدد کر سکتی ہوں۔

آج کی سوچ
میرے لیے نارانون فیلو شپ کو واپس دینا بے لوث محبت اور شفا یابی کے عمل کا ایک حصہ تھا۔ جب  میں خوشی سے، بغیر کسی توقع کےکچھ دیتی تو میں اپنے لیے اور دوسروں کے لیے شفا یابی کی فضا پیدا کرتی۔

’’لفظوں میں رحمدلی اعتماد پیدا کرتی ہے۔ سوچ میں رحمدلی گہرائی پیدا کرتی ہے۔ دینے میں رحمدلی محبت پیدا کرتی ہے۔‘‘    لاؤ سو