اتوار، 19 اپریل، 2015

محبت سے چھوڑ دینا

نار انون نے مجھے نشے کے مریض سے محبت کرنا مگر مرض سے نفرت کرنا سکھایا۔ میں نے جانا کہ میں نشے کے مریض کو بدل نہیں سکتا۔ میں یہ کرسکتا ہوں کہ میں اپنا اور اپنے بچوں کا خیال رکھوں۔

 چھ ماہ نار انون کی میٹنگز اور اسکے پروگرام پر کام کرنے سے مجھے طاقت ملی اور میں فیصلہ کیا کہ میں مریض سے کہوں کہ وہ گھر سے نکل جائے۔ میں نے اس سے یہ بھی کہا کہ وہ مجھے فون نہ کرے۔ بہرحال اسکا رویہ میرے اختیار میں نہیں تھا اور وہ مجھے ہر تین ہفتوں بعد فون کرتی تھی۔ پھر مجھے اسکا ایک ای میل پیغام ملا جس میں اس نے صر ف ایک لفظ لکھا تھا: ٹیسٹنگ۔

 اگلے تین دن تک میں چکراتا رہا۔ جنونی سوچیں مجھ پر دوبارہ طاری ہو گئیں۔ مجھے خوشی تھی کہ وہ مجھ سے چھ سو میل دور تھی، ورنہ ہو سکتا تھا کہ میں ایک دن بھی اس سے دور نہ رہ پاتا۔ میں نے اس سلسلے کو ختم کر دیا تھا کیونکہ اس کی نشہ کرنے کی عادت میرے لیے بہت نقصان دہ تھی۔ مجھے اپنے بچوں کی بھی حفاظت کرنا تھی۔

 میں نے بالآخر اس بات کو تسلیم کر لیا کہ ایک ایسے انسان کے ساتھ رہنا جو نشہ کر رہا ہو میرے لیے کتنا مہلک تھا۔  میں ابھی بھی بہت غصے میں تھا کہ نشے نے اسے مجھ سے چھین لیا ہے۔  پھر مجھےایک خواب یاد آیا جو میں اس وقت دیکھا تھا جب ہم اکٹھے رہ رہے تھے اور وہ نشہ نہیں کر رہی تھی۔

 مجھے خواب میں ایک متعصب، تنگ نظر انسان آیا اور اس نے میری پیاری کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ میں نے اس کو شخس کو مارا، اس کے سر کو کچل دیا اور چیختے ہوئے اٹھ بیٹھا۔ دو ہفتے بعد وہ دوبارہ نشہ کرنے لگی۔ اب مجھے احساس ہوا ہے کہ نشے کے مرض نے اسے مجھ سے اسی طرح چھین لیا ہے جس طرح میرے خواب میں اس بیمار شخص نے اسے مجھ سے چھین لیا تھا۔ اس سوچ نے مجھے نشئی کے ساتھ ہمدردی محسوس کرنے میں مدد دی اور مجھے احساسِ جرم سے نجات دی۔

آج کی سوچ
میں اپنے آپ کو احساسِ جرم کے بغیر کو صحیح کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ میں اپنا خیال رکھتا ہوں اور دوسروں کو محبت سے جانے دیتا ہوں تاکہ وہ بھی اپنا خیال خود رکھ سکیں۔ 

’’یاد رکھو کہ تم بھی ہر وقت تبدیل ہو رہے ہو اور تم اپنی تبدیلی کے عمل کو اپنی مرضی کے مطابق موڑ سکتے ہو۔ اپنے آپ کو صرف تم خود بدل سکتے ہو۔ دوسروں سے تم صرف محبت کر سکتے ہو۔‘‘ نار انون کے نیلے کتابچے سے 

ہفتہ، 18 اپریل، 2015

سوچ کا نیا انداز

اگر میں گلی میں کسی پاگل شخص کو دیکھتا تو میں اس کے ساتھ عقل کی کوئی بات کرنے کی کوشش نہ کرتا۔ لیکن میں یہ کیوں سمجھتا ہوں کہ میں کسی نشئی کو عقل کی بات کرکے سمجھا سکتا ہوں؟ میں یہ کیوں سمجھتا ہوں کہ میں ایک نشئی سے بات کرکے اس کا علاج کر سکتا ہو؟ نار انون سے میں نے جانا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔

میں یہ سمجھتا تھا کہ اگر میں نشئی کا ایک اچھا والد، شریکِ حیات، دوست، بیٹا یا بھائی بن جاؤں تو وہ نشہ چھوڑ دے گا۔ اگر میں نشئی سے اچھا سلوک کروں تو وہ نشہ چھوڑ دے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں نے کبھی کسی نشئی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ ’’میں نےاس لیے نشہ چھوڑا کیونکہ میرا ماں یا باپ، شریکِ حیات، یا بچہ میرے ساتھ بہت اچھا تھا۔‘‘

 میں ہمیشہ ’’ایک اور چیز‘‘ کرنے کی کوشش کرتا۔ مجھے یقین تھا کہ یہ ’’ایک اور چیز‘‘ ایسی ہو گی جو کام کر جائے گی۔ نشئی اپنی پستی کو چھو لے گا، اس کو روشنی نظر آ جائے گی، وہ میٹنگ میں جانا شروع کر دے گا اور بحالی کو پا لے گا۔ مجھے یہ جاننے اور قبول کرنے میں بہت عرصہ لگ گیا کہ میرے کرنے کی کوئی ’’ایک اور چیز‘‘ نہیں۔ یہ میری ذمہ داری نہیں تھی۔

 نشئی کو نشے سے روکنے کے لیے کوئی ’’ایک اور چیز‘‘ نہیں ہے۔ نار انون نے مجھے دکھایا کہ میں کس طرح نشئی کے بارے میں ایک دوسری طرح کی سوچ اپنا کر اپنی توجہ کا مرکز تبدیل کر سکتا ہوں۔ حقیقت تو یہ تھی کہ وہ نشہ کر رہا تھا۔ یہ سوچ کر کہ وہ نشہ نہیں کرے گا میں اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا تھا۔ میں نے نشئی کے رویے کو اپنے اوپر مسلط کر لیا تھا اور میری سوچ مسخ ہو چکی تھی۔ نار انون سے میں نے سیکھا کہ نشہ ایک خاندانی بیماری ہے۔ 

آج کی سوچ

اپنی نار انون میٹنگز کے تحفظ میں میں بارہ اقدام پر کام کر سکتا ہوں، اپنے سپانسر سے بات کر سکتا ہوں اور خدمت کر سکتا ہوں۔ ان طریقوں سے میں اپنی سوچ تبدیل کرنے کی مشق کر سکتا ہوں۔ آہستہ آہستہ سوچ کا ایک نیا انداز اور زندگی گزارنے کا ایک نیا انداز ابھر رہا ہے۔ 

’’اپنی زندگی کے مسائل کا سامنا کرنے کے ایک دوسرے سے بالکل برعکس دو رویے ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ باہر کی دنیا کو بدلنے کی کوشش کی جائے، اور دوسرا یہ کہ اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کی جائے۔‘‘ جوینا فیلڈ

جمعرات، 16 اپریل، 2015

بدلنے کی طاقت

 مجھے یہ بات بڑی حیران کن لگتی ہے کہ چوتھے قدم پر کام اس بات کا تعین کر سکتا ہے کہ ہم زندگی کے مسائل کا سامنا کس طرح کرتے ہیں۔ اس قدم نے مجھے احساس دلایا کہ کسی بھی صورتحال میں میرے ردِ عمل کا اختیار  صرف میرے پاس ہے،اپنی بالا تر طاقت کی مدد سے۔ 

مجھے احساس ہوا ہے کہ اس سے پہلے میں نے غصے اور بے صبری کو یہ اختیار دے رکھا تھا کہ میں کسی صورتحال میں کیسے ردِ عمل کا اظہار کرتی ہوں اور یہ کہ مجھے کردار کے ان نقائص پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جو تبدیلی مجھ میں آئی وہ گہری تھی۔

 چوتھے قدم کی وجہ سے میرے اپنے نشئی کے بارے میں احساسات تبدیل ہو گئے۔ ایک وقت ایسا تھا جب میں اسے دیکھ کر بہت غصے میں آ جاتی۔ اب مجھے احساس ہوا ہے کہ بحالی کے سفر میں غصے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ میں جب سے غصہ کرنا چھوڑا ہے مجھے اپنے اندر اور اپنے نشئی کے اندر تبدیلی محسوس ہوئی ہے۔

اس کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ میں اپنے غصے کی وجہ سے ہر وقت برے موڈ میں نہیں رہتی۔ اب میں اس چیز تک پہنچ پاتی ہوں جس کی مجھے  ہمیشہ سے تلاش تھی۔۔۔ سکون۔ میں جسمانی، روحانی اور جذباتی طور پر اچھا محسوس کرتی ہوں۔  مجھے اب پیٹ میں درد نہیں ہوتا، میرا بلڈ پریشر اوپر نہیں جاتا اور میں اب اپنی زندگی میں اچھی چیزوں کی قدر کر سکتی ہوں۔ ابھی اگلے ہی دن میں نے ایک پرندے کے گانے کے جادو اور خوبصورتی کو سنا۔

 چوتھے قدم پر کام کر کے میں نے بہت سی چیزیں حاصل کی ہیں۔ میں اپنی بالا تر طاقت کی رہنمائی اوردلجوئی کی تلاش میں ہوں۔ مجھے  یہ بھی احساس ہو رہا ہے کہ نشئی ایک ایسا انسان ہے جو اذیت جھیل رہا ہے اور ہماری دردمندی کا حقدار ہے۔

آج کی سوچ
میں اپنی بالا تر طاقت کی شکر گزار ہوں جس نے مجھے نار انون پروگرام کو قبول کرنے اور چوتھا قدم اٹھانے کی ہمت اور طاقت دی۔ میں اب دباؤ کا شکار، جنونی، غصے والی  اور بے صبر انسان نہیں  ہوں جیسا کہ میں کبھی ہوا کرتی تھی۔

’’آج میں اپنی فہرست کو زندگی گزارنے کا ایک بہتر طریقے کو تلاش کرنے کے لیے استعمال کروں گی۔‘‘
ٹوڈے اے بیٹر وے  ۔۔۔ فیمیلیز انونیمس

بدھ، 15 اپریل، 2015

سوچ کی آزادی

میری بیٹی مجھ سے فاصلہ رکھنا پسند کرتی ہے کیونکہ میں ہر وقت اس کے بارے میں پریشان رہتا تھا۔ میں یہ سوچ کر پریشان رہتا کہ وہ کہاں ہے، کیا کر رہی ہے اور کیا استعمال کر رہی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کا خیال مجھ پر اس لیے مسلط ہو گیا تھا کیونکہ میں اس سے بہت  سخت ناراض تھا۔
میں اپنے غصے، اپنے خوف اور اپنی اداسی کا سامنا نہیں  کرتا۔ میں صرف یہ سوچتا کہ وہ کتنی ہولناک اور کتنی ناشکری ہے۔ میں اپنی بیٹی کو کسی طرح اپنے ذہن سے نہیں نکال پاتا۔
میں پریشان رہ رہ کر تھک چکا تھا اور میری منفی سوچوں نے مجھے گھائل کر دیا تھا۔ آہستہ آہستہ میں نے دیکھنا شروع کیا کہ میری جنونی اور بدبودار سوچوں نے مجھے قابو کر رکھا تھا اور مجھے بیمار کر رہی تھیں۔ اپنے نار انون گروپ کی مدد سے مجھے یہ احساس ہوا کہ صرف میں ہی اپنی سوچ کو تبدیل کر سکتا ہوں۔
ایک دن میں نے مختلف طرح سوچنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے اپنی بیٹی کی اچھائیوں کی ایک فہرست بنائی۔ بھر جب بھی مجھے اس کے بارے میں کوئی منفی خیال آتا، میں اس کی خوبیوں کی فہرست دیکھتا اور اس میں سے ایک خوبی منتخب کرتا اور اس کے بارے میں کچھ دیر تک سوچتا۔ م
ثلاً، میں سوچتا، ’’وہ کتنی لاپروا ہے،‘‘ مگر میری فہرست میں یہ لکھا ہے کہ اسے روحانیت سے لگاؤ ہے۔ اس لیے میں اپنی توجہ کا مرکز تبدیل کرکے اس کی روحانیت کی خوبی کے بارے میں سوچتا ہوں۔ آہستہ آہستہ، وقت کے ساتھ ساتھ میں نے دیکھا کہ اب میں اس کے بارے میں بہت کم سوچتا ہوں۔ اس کے بارے میں میرا جنون اور میری منفی سوچ غائب ہو گئی ۔
نار انون پروگرام نے مجھے علم دیا کہ میں اپنی سوچ کے بارے میں بے بس نہیں ہوں اور مجھے اس پر اختیار حاصل ہے۔ اس نے مجھے حوصلہ دیا  اور طریقے سکھائے جنہیں استعمال کر کے میں اپنی سوچ کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتا ہوں۔

آج کی سوچ
اگر دوسروں کے رویے میرے دماغ پر طاری ہو جائیں تو مجھے صرف اپنا رویہ اور سوچ کا مرکز تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ میں نشئی کی قابلِ قدر اور مفید صلاحیتوں پر توجہ مرکوز کر سکتا ہوں۔ شاید کسی دن میں اپنی توجہ اپنی طرف مرکوز کر سکوں۔

’’ہماری آزادی کا سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ ہم اس بات کا اختیار اور طاقت رکھیں کہ ہم سے باہر کوئی شخص یا کوئی چیز ہم پر کیسے اثر انداز ہو گی۔‘‘ سٹیفن کووے

اتوار، 12 اپریل، 2015

جانے دینا

میں نے پیار سے اپنے سترہ سالہ بیٹے کا نام ’’ری ہیب بوائے‘‘ رکھا ہے، یعنی کہ وہ نشے سے بحالی کے مرکز میں آتا جاتا رہتا ہے۔ آج اسے نشے سے بحالی کے مرکز میں گئے ایک ماہ ہو گیا ہے اور ابھی اسے تین ماہ وہاں مزید گزارنے ہیں۔

نو عمری میں  جرم کرنے کی وجہ سے عدالت نے نشے سے بحالی کے مرکز میں اس کا چار ماہ علاج لازمی قرار دیا ہے۔  اس کے اکثر جرائم معمولی چوری، منشیات بیچنا، منشیات حاصل کرنے کے لیے جسم فروشی جیسی  ساری بدنما چیزیں ہیں۔

دو سال تک میں نے اپنے بیٹے کے علاج  کے لیے سارے روایتی طریقے استعمال کیے۔ ان تمام چیزوں کے استعمال کے باوجود جو عام طور پر والدین بچوں کو نشے سے نکالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہ سو فیصد قابو سے باہر تھا۔دنیا کی کوئی چیز اسے نشہ کرنے اور گھر میں اور گھر سے باہر کہرام برپا کرنے سے نہیں روک سکتی تھی۔ مجھے بالکل نہیں معلوم تھا کہ جو طریقہ میں استعمال کر رہا تھا اس کے علاوہ کسی اور طریقے سے بھی میرے بیٹے کی مدد کی جا سکتی تھی۔  

میں نے اسے کہا کہ اب گھر میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اپنے بیٹے کو گھر سے نکالنا ایک باپ ہونے کے حیثیت سے مشکل کام تھا۔  وہ ایک سال تک سڑکوں پر پڑا رہا، بے گھر، نشے میں دُھت اور قابو سے باہر۔ اسے دوران میں نار انون فیملی گروپ سے وہ طاقت، مدد اور یقین حاصل کیا جس کی مجھے ضرورت تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر میں وہ نہ کرتا جو میں نے کیا تو شاید آج میرا بیٹا مر چکا ہوتا۔میں شکر گزار ہوں کہ ہو اس دوران نہیں مرا جس دوران وہ سڑکوں پر زندگی گزار رہا تھا۔ میں اس بات پر بھی شکر گزار ہوں کہ اس نے گھر کے کسی فرد یا گھر سے باہر کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ مجھے لگتا ہے کہ اگرمجھے اس کے راستے سے ہٹنے کی ہمت نہ ملتی اور وہ اپنی پستی کو نہ چھوتا تو اسے  وہ مدد نہ ملتی جو آج مل رہی ہے۔

آج کہ سوچ
نشئی کے پاس ایک بالاتر طاقت موجود ہے اور میں نے یہ جانا کہ میں وہ بالا تر طاقت نہیں ہوں۔ چاہے مجھے اس سے کتنا ہی دکھ نہ پہنچے، مجھے نشئی کے راستے سے ہٹ جانا چاہئے تاکہ وہ اپنے نشے کے نتائج بھگت سکے۔

’’ہم کسی اور چیز سے اتنا نہیں سیکھتے جتنا برے حالات سے سیکھتے ہیں‘‘ ۔۔۔ بنجمن ڈزرائیلی


ہفتہ، 11 اپریل، 2015

بحالی میرے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟

جنوری۱
ہر سال کا آغاز گزرے ہوئے سال کے بارے میں سوچنے کا بہترین وقت ہوتا ہے۔ عام طور پر ہمارے چیئر پرسن سال کے شروع میں موضوع پیش کرتے ہیں کہ ’’ریکوری یعنی بحالی میرے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟‘‘ اس سوال کو ذہن میں رکھتے ہوئے میٹنگ میں ہر رکن کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ خاص طور پر گزشتہ سال کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا تجربہ، خوبی اور امید سب کے ساتھ شیئر کریں۔
 میرے لیے بحالی بہت سارے معنی رکھتی ہے۔ میرے لیے اس کا مطلب ماضی کو جاننا اور قبول کرنا، اور یہ دریافت کرنا ہے کہ میں آج کیا ہوں، ان طاقتوں کو سمجھتے ہوئے جو مجھے یہاں تک لائی ہیں۔ مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ میرا رویہ ہمیشہ بہتریں نہیں ہوتا تھا کیوں کہ میں تشے کے خلاف رد عمل ظاہر کرتا تھا۔
کیونکہ مجھے اس بات کا شعور نہیں تھا مجھے معلوم ہے کہ میں نے وہ کیا جو ان حالات میں بہترین تھا۔ مجھے احساس ہوا ہے کہ مجھ میں خوبیاں اور خامیاں دونوں ہیں۔ یہ میرے لیے ان پوشیدہ پہلوؤں کو جاننے کا عمل بن گیا ہے جنہوں نے مجھے وہ بنایا ہے جو آج میں ہوں۔
میرے لیے بحالی کا مطلب ان باتوں کو تسلیم کرنا ہے جو میں نے اپنے بارے میں جانی ہیں اور اپنی زندگی میں ضروری تبدیلیاں کرنا ہے تاکہ میں خوش اور مطمیٔین رہ سکوں۔ بحال میرے لیے ان چیزوں کی کھوج ہے جو مجھے روز کے روز ایک بہتر انسان بننے میں مدد دے سکیں۔
میرے لیے بحالی نار انون کے بارہ اقدام، بارہ روایتوں اور بارہ تصورات پر کام کرنا ہے اور ان کو روزمرہ کی زندگی، خاندان، دوست احباب اور کام کی جگہ پر استعمال کرنا ہے۔ بحالی کا مطلب اس آسان پروگرام کا اس شعور کے ساتھ استعمال ہے کہ میں یہ اپنی ذات کے لیے کر رہا ہوں نا کہ دوسروں کے لیے اور نہ ہی نشئی کے لیے۔
بحالی یہ ہے کہ دوسروں کو اپنا تجربہ، طاقت اور امید دے کر جو کچھ میرے پاس ہے اسے اپنے پاس رکھ سکوں۔ بحالی میرا اپنےآپ کو ایک تحفہ ہے اور جو معنی بحالی میرے لیے رکھتی ہے، یہ دوسروں کے لیے تحفہ ہے۔
آج کی سوچ
میں سمجھتا ہوں کہ میری بحالی کا انحصار میری ثابت قدمی، میٹنگ میں باقاعدگی سے جانے اور رفقا کی خدمت پر ہے۔ اور جو سبق میں نے نار انون پروگرام میں سیکھے ہیں وہ میری اُس ذات کا حصہ بن گئے ہیں جو آج میں ہوں۔
’’میرا خیال ہے کہ اس پروگرام کے بغیر میں اس بات کی قدر نہیں کر سکوں گا کہ مشکل اوقات کے باوجود میری زندگی حیرت انگیز طور پر خوبصورت ہو سکتی ہے۔‘‘ (ان آل آور افئیر)

کردار کے نقائص

میرا خیال ہے کہ مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں اس بات کا تقاضا کروں کہ مجھے پہچانا جائے اور سمجھا جائے۔ اس لیے میں ہمیشہ اپنی وجوہات، آرا، عذر اور ضروریات کو جتنا واضح طور پر بتا سکتا،  بتاتا تھا، کبھی کبھی کچھ زیادہ ہی الفاظ استعمال کر جاتا مگر پھر بھی نتائج سے مطمئین نہ ہوتا۔ میں ہمیشہ یہ سوچتا کہ دوسرا انسان مجھے سمجھ نہیں پایا۔

 جب میں نے نار انون میٹنگز میں جانا شروع کیا، مجھے لگا کہ میری بات کو سمجھا گیا ہے۔ مگر مجھے پھر بھی لگتا تھا کہ میں سب سے مختلف ہوں اور میری صورت حال میں کوئی خاص بات ہے۔ مگر اب میں نے جانا  ہےکہ یہ  بھی میری کوتاہیوں میں سے ایک کوتاہی  ہے۔ میں لوگوں کے درمیان فرق کی طرف زیادہ توجہ دیتا، مگر یکسانیت کی طرف نہیں۔ میں منفرد بننا چاہتا تھا اگرچہ میں تنہا محسوس کرتا تھا۔

 مجھ میں ایک اور نقص یہ تھا کہ میں ہمیشہ اپنی توقعات اس بات پر لگاتا کہ مجھے سمجھا جائے گا۔ میں سمجھتا کہ اگر نشئی یہ سمجھ جائے کہ میں کیسا محسوس کر رہا ہوں تو وہ مجھے تکلیف پہنچانا یا مایوس کرنا چھوڑ دے گا۔ میں اب سیکھ رہا ہوں کہ میں اپنے آپ کو تنہا کیے بغیر اپنی انفرادیت قائم رکھ سکتا ہوں۔

میں اپنے تجربات نارانون کے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ شئیر کر سکتا ہوں اور بحالی کے سفر میں ان کے ساتھ شریک ہو سکتا ہوں۔ بات کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ مجھے اپنے تجربات دوسروں تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم، میں منطق اور لمبی تشریح سے دوسروں کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں چلا سکتا۔ میرے پاس یہ اختیار نہیں۔

 میں کیسا محسوس کر رہا ہوں اس کا اظہار کر سکتا ہوں، مگر جب میں ایک ہی بات بار بار کرنے لگتا ہوں تو اس بات کا امکان ہے کہ میں اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کی بجائے انہیں کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہوں یا کسی طرح اپنی بات منوانے کے لیے ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہوں۔

آج کی سوچ
 میں اپنے الفاظ کنڑول کرنے کے لیے نہیں، اپنے تجربات، اپنی خوبیاں اور بحالی میں آگے بڑھنے کی امید بیان کرنے کے لیے استعمال کروں گا۔

’’اچھی تقریر کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم اپنے الفاظ اور لہجے کی طرف توجہ دیں بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہمارے الفاظ میں دوسروں کے لیے ہمدردی اور فکرمندی ہو اور انہیں زخم اور ٹوٹ پھوٹ  کی بجائے مدد اور شفا ملے۔‘‘

 بھانتے ہینیپولا گوناراتنا کی کتاب’’ایٹ مائنڈ فل سٹیپس ٹو ہیپی نس‘‘ سے اقتباس