اتوار، 8 نومبر، 2015

بوجھ سے رہائی

میں تقریباً چھ مہینے پہلے اپنے بڑے بچوں کے زور دینے پر نارانون آئی کیونکہ وہ میری صحت اور بہبود کے حوالے سے فکر مند تھے۔ انہوں نے میری ضرورت کو بھانپ لیا تھا کہ مجھے اپنے لئے مدد کی ضرورت ہے۔ میں اس وقت یقیناً ان کی رائے سے متفق نہ تھی۔ آخر میں گزشتہ سولہ سالوں سے کاروبار ٹھیک سے سنبھال نہیں رہی تھی اور کیا میں نشئی کی طرف سے کیے جانے والے نقصانات کو قابو نہیں کررہی تھی؟

کیا میں نے کبھی غلطی کی؟ میرے سب سے بڑے بیٹے نے کہا کہ اگر میں فون کرکے منشیات سے متعلق کسی گروپ کا پتا کروں گی تو وہ میرے ساتھ میٹنگ میں جائے گا۔ اس طرح میں نارانون گروپ میں شامل ہوگئی۔

یہ میری زندگی کا سب سے عقلمندانہ فیصلہ تھا۔ اپنی پہلی میٹنگ میں جانے کے بعد اور دوسروں کی کہانیاں سُننے کے بعد مجھے فوراً ہی احساس ہوگیا کہ میں اپنے دوستوں اور خاندان کے لوگوں کے درمیان موجود ہوں۔ جو مجھ پر بیت رہی ہوتی ہے اس کو نارانون خاندان کے لوگ اس طرح سمجھتے ہیں جس طرح کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔

اس شام کا موضوع لاتعلقی اختیار کرنے کی اہمیت پر تھا جسے سُننے کی مجھے ضرورت تھی۔ نارانون خاندان کی بات سُننے کے بعد مجھے سمجھ آگیا کہ میرا اپنا خاندان مجھے کیا بتانا چاہ رہا تھا۔

مجھے بھی بحالی کی اتنی اشد ضرورت تھی جتنی میرے ادھیڑ عمر بیٹے کو تھی۔ میں پہلی میٹنگ سے بہت سکون اور ذمہ داری سے آزادی کے احساس کے ساتھ اٹھ کر آئی۔ میں اپنے آپ کو بوجھ سے آزاد کرنے کی اجازت کے ساتھ اس میٹنگ سے باہر آئی۔

آج کی سوچ:

میں یہ تنہا نہیں کر سکتی۔ مجھے دوسروں کی مدد کی ضرورت ہے۔ صرف آج کیلئے میں یہ مدد تلاش کروں گی؛ میں اپنے پروگرام پر عمل کروں گی اور وہ بوجھ جو میرے اُٹھانے کا نہیں ہے اُسے اُتار پھینکوں گی۔


’’جو بھی مطمئن اور پاک ہونا چاہے گا اُسے صرف ایک چیز کی ضرورت ہے ۔ لاتعلقی اختیار کرنے کی۔‘‘ مائسٹر ایکہارٹ

ہفتہ، 7 نومبر، 2015

سکون پانا

مجھے ابھی نارانون آتے ہوئے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا لیکن مجھے یاد ہے کہ مجھے اتنا شدید غصہ آتا کہ میرا دل چاہتا کہ میں اٹھ کر چیخیں مارتے ہوئے میز کو پکڑ کر اُلٹ دوں۔ میں محسوس کرتی کہ میں غصے میں قابو سے باہر ہو جاتی ہوں۔ میں کتنے خوفناک اندھیرے میں اُتر چکی تھی، نجانے کیوں؟ کیونکہ ایک بیمار شخص وہ سب کچھ کر رہا ہے جسے میں ٹھیک نہیں سمجھتی۔ یہ غصہ اور اندھیرا مجھے تباہ کر رہے تھے۔

نارانون میٹنگز میں آنے سے مجھے یہ قبول کرنے میں آسانی ہوئی کہ میرا اپنی نشئی بیٹی کی زندگی پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ چاہے اس سے بات کرتے اور اسے دھمکیاں دیتے دیتے میں ہلکان ہو جاؤں مگر یقیناً اس کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ تاہم یہ مجھ پر ضرور اثر انداز ہوا۔ جب بھی میں اُسے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی میں پاگل ہو جاتی۔

میں نہیں چاہتی تھی کہ میری زندگی ہمیشہ کیلئے اندھیرے میں ڈوبی رہے۔ میں بھی روشنی چاہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ غم ہمیشہ کیلئے دور چلا جائے، مگر میں یہ بھی سمجھتی ہوں کہ ایسا روحانی ترقی کے ساتھ ہی ہو گا۔ نارانون میٹنگز اور میری بالاتر طاقت کی مدد مجھے سکھاتے ہیں کہ مجھے اپنی زندگی میں روشنی کیسے واپس لانی ہے۔ جب میں خود کو بہتر کرنے پر توجہ دیتی ہوں تو صحیح معنوں میں سکون محسوس کرنا ممکن ہے۔

آج کی سوچ:

نارانون میٹنگز کے ذریعے اور بالاتر طاقت کی مدد سے میں نے پایا کہ خود کو تبدیل کرنا ممکن ہے۔ یہ میرے لیے موقع ہے کہ میں اپنی زندگی میں موجود نعمتوں کا شکر ادا کروں اور بحالی کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے اطمینان اور سکون کو پاؤں۔


’’اگر چیزیں غلط ہو رہی ہوں تو تم ان کے ساتھ مت چلو۔‘‘ ~ راجر بابسن

جمعہ، 6 نومبر، 2015

حقیقت

نارانون پروگرام پر عمل کا ایک حصہ اپنے آپ سے نمٹنا اور اس بات کو سمجھنا ہے کہ میں زندگی کو کیسے دیکھتی ہوں۔ یہ سوچ کہ ’’میں کوئی اختیار نہیں رکھتی‘‘ مجھے یاد دلاتی ہے کہ نشئی سے پرانے طریقوں سے نمٹنے کی بجائے مجھے اپنی صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھنا ہو گا۔

نارانون میٹنگز میں آنا شروع کرنےسے پہلے میں یہ غلط تاثر رکھتی تھی کہ میں اپنی نشئی عزیزہ کو کنٹرول کر سکتی ہوں۔ اب میں جانتی ہوں کہ میں اپنے خیال میں نشئی پر جو بھی اختیار رکھتی تھی وہ کافی عرصے سے ختم ہو چکا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ میرے سکون کی وجہ نشئی کو بحالی مدد لینے پر مجبور کرنا نہیں بلکہ یہ سمجھ بوجھ ہو گی کہ امن تب ہی آئے گا جب میں کسی بھی صورتحال پر اپنے ردعمل میں تبدیلی لاؤں گی۔

گزشتہ روز نشے کی مریضہ ہمارے گھر صبح سات بجے آئی۔ جب میں باہر گئی تو میں نے کچھ ایسا دیکھا جو میں نشے کی بیماری اپنے گھر آنے سے لے کر آج تک نہیں دیکھ پائی تھی۔ میں نے جسے دیکھا وہ میری بیٹی نہیں تھی بلکہ ایک تھکی ماندی ستائیس سالہ عورت تھی۔

اُس لمحے میرا اسے دیکھنے کا نظریہ اس تصور سے مختلف تھا جو اس کے نشہ کرنے سے پہلے میرے دماغ میں تھا۔ اس لمحے سے پہلے تک جب بھی میں اپنی بیٹی کے بارے میں سوچتی تو میرے ذہن میں ایک پیاری سی نوجوان لڑکی کا خاکہ ابھرتا جو میری زندگی کی روشنی تھی۔ اس کی اس نئی تصویر نے مجھے چونکا دیا۔

میرا خیال ہے کہ یہ نشے سے ہونے والی ابتدائی تکلیف کا حصہ ہے؛ میں اپنی پیاری نشئی عزیز کو اس طرح دیکھتی تھی جیسے وہ پہلے ایک محبت کرنے والی انسان ہوا کرتی تھی۔ میں اس تصور کو چھوڑنے سے انکار کر رہی تھی۔

 میں اتنی شدت سے اسے اپنی زندگی میں واپس پانا چاہتی ہوں کہ میں حقیقی صورتحال نہیں دیکھ پا رہی۔ میں اتنی شدت سے اپنی نارمل زندگی کو واپس چاہتی ہوں کہ میں اسے حاصل کرنے کے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔ کئی بار میں نے سوچا کہ کاش میں جاگوں تو یہ خوفناک خواب ختم ہو چکا ہو۔

آج کی سوچ:

نارانون نے مجھے یہ احساس دلانے میں مدد کی کہ چونکہ میں دوسروں پر کوئی اختیار نہیں رکھتی تو مجھے اپنی زندگی کی بدلی ہوئی حقیقت کو دیکھنا ہوگا اور اس کے مطابق اپنی زندگی ترتیب دینا ہو گی۔


’’زندگی وہ ہے جو تمہارے ساتھ واقع ہو رہی ہوتی ہے جب تم دوسری چیزوں میں مصروف ہوتے ہو۔‘‘ ~ جان لینن

جمعرات، 5 نومبر، 2015

سوچیں


نارانون میٹنگز میں جانے سے پہلے نشے کی لت نے میری ساری زندگی ضائع کر دی تھی۔ یہ کبھی ختم نہ ہونے والے نہ دور ہونے والے ایک بُرے خواب کی طرح تھا، جو مجھے رات کو آرام سے سونے نہیں دیتا تھا۔

میرا وزن کم ہوگیا کیونکہ میرے پیٹ میں ہر وقت گانٹھیں سی بنی رہتیں۔ میں نے اپنا دھیان نہیں رکھا۔ میری آمدن کم ہو گئی اور میں افسردہ اور مردہ دل سی ہو گئی۔ مجھے یہ ماننا ہوگا کہ میں نے نشے کی لت کو اپنے خاندان اور خود کو تباہ کرنے کی اجازت دی۔

اب میں نے نارانون کے ذریعے سیکھا ہے کہ میں اپنی زندگی کا کنٹرول واپس لے سکتی ہوں۔ میں سیکھ رہی ہوں کہ اگر میں نشئی کے اعمال کی وجہ سے بیمار رہوں گی تو میں اپنا اختیار کھو دوں گی۔ میں سیکھ رہی ہوں کہ اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کا مطلب یہ نہیں کہ میں نشئی کو تنہا چھوڑ رہی ہوں بلکہ اس کا مطلب ہے کہ میں خود کو مضبوط بنا رہی ہوں۔ میں نشئی کو پیار سے رہائی دے رہی ہوں۔

میں نے جانا کہ ابھی مجھے کافی کچھ سیکھنا ہے اور یہ کہ میں نے ابھی سیکھنے کا سفر شروع کیا ہے۔ میں اس پروگرام اور اس کے اصولوں اور طریقوں کی مدد سے ان رکاوٹوں پر قابو پا سکتی ہوں جو زندگی میں میرے سامنے آئیں گی۔

میں نے یہ بھی جانا کہ پہلا قدم ۔۔۔ یہ قبول کرنا کہ میں اس بیماری اور دوسروں کے سامنے بے بس ہوں ۔۔۔ مجھے خود پر اختیار دیتا ہے۔

آج کی سوچ:
اس بیماری میں کوئی مظلوم نہیں صرف سوائے اپنی مرضی سے مظلوم بننے والوں کے۔


’’چاہے تم یہ سوچو کہ تم یہ کرسکتے ہو یا یہ سوچو کہ تم یہ نہیں کرسکتے، تم درست ہو۔‘‘ ~ ہنری فورڈ

بدھ، 4 نومبر، 2015

سکون ہی میرا انعام ہے

میں اپنی دعاؤں اور مراقبے کے دوران اپنی سوچوں کی توجہ بالاتر طاقت پر مرکوز رکھنے کی کوشش کرتی ہوں اور خاموشی سے رہنمائی کا انتظار کرتی ہوں۔ میں صرف اپنی بالاتر طاقت کی رضامندی جاننے اور اس پر عمل کرنے کی طاقت کی دعا مانگتی ہوں۔ اس ایمان کے ساتھ کہ مجھے بہترین راستہ دکھایا جائے گا۔

میں نے نارانون میں سیکھا کہ میری بالاتر طاقت میری ذہنی صحتیابی کو بحال کر سکتی ہے اسی لئے میں ہر روز آدھا گھنٹا دعا اور مراقبے کیلئے وقف کرتی ہوں۔ جب میری زندگی میں ڈرامہ اور بے ترتیبی پھیلی ہو تو میں مزید آدھا گھنٹہ خود کو دیتی ہوں۔

بہت سارے نشئی بدنظمی اور ڈرامہ اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ دعا اورمراقبے کے طریقے ہمیں مسائل کی وجہ یعنی نشے کی بیماری سے توجہ ہٹانے میں مدد دیتے ہیں۔ مجھے اس بدنظمی اور ڈرامے کو اپنے ذہن کو گدلا کرنے کی اجازت دینے کی ضرورت نہیں۔ دعاؤں اور مراقبے کے ذریعے میں ابھی بھی رُک سکتی، سُن سکتی اور گمراہ ہونے سے بچ سکتی ہوں۔

اپنے سکون اوراطمینان کو برقرار رکھنے کیلئے گیارہویں قدم پرعمل کرنا سب سے بہترین طریقہ ہے۔ یہ مجھے اپنی مرضی کو بالاتر طاقت کی حولے کرنے اور اس کی طرف سے سمت کو قبول کرنا یاد دلاتا ہے۔

آج کی سوچ:

گیارہویں قدم کے ذریعے میں نے اپنی بالاتر طاقت کے ساتھ شعوری تعلق بنا لیا ہے۔ اپنی سوچوں کو پُرسکون رکھتے ہوئے میں اپنے راستے کو پُرامن طریقے سے سمجھنے کے قابل ہوں۔ اس کا انعام مجھے اکثر سکون کی صورت میں ملتا ہے۔


’’بالاتر طاقت تک پہنچنے کے ہزاروں راستے ہیں اورہم ان میں سے کوئی بھی ایک راستہ منتخب کرسکتے ہیں۔ شکر ہے کہ ہم نے کم از کم ایک راستہ منتخب کر لیا اور اپنی بحالی کے سفر کیلئے نکل پڑے۔‘‘ ~ Paths to Recovery )بحالی کے راستے(

منگل، 3 نومبر، 2015

زندگی جینا سیکھنا

بعض اوقات میں بغیر سوچے سمجھے کچھ ایسے کام کرتی تھی جن کے بارے میں مجھے نہیں معلوم کہ میں یہ کیوں کرتی تھی۔ مثال کے طور پر کئی راتوں کو میں اپنے نشئی بیٹے کو سڑکوں پر ڈھونڈنے چلی جاتی یہ جانے بغیر کہ وہ مجھے کہاں ملے گا اور میں اپنی جان کی پرواہ بھی نہیں کرتی۔

اس کے فیصلے میں کرتی کیونکہ میں سوچتی تھی کہ اس کے فیصلےغلط تھے۔ جیسے ہی وہ گھر آتا میں اس کی جیبوں کی تلاشی لیتی اور اس کے کپٹروں کو سونگھتی۔ میں اپنی کمر اور کندھوں میں خاصا تناؤ محسوس کرتی۔ اس رویے کی وجہ سے میں پستیوں میں جا گری اور واپس صحتمند زندگی کی طرف واپس آنا چاہتی تھی۔ نارانون یہی کرنے میں میری مدد کررہی ہے۔

اپنی زندگی میں نشئی موجود ہونے کا درد غالباً ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا لیکن نارانون کا پیغام مجھے یہ سیکھنے میں مدد کر رہا ہے کہ ہماری خوشی کسی دوسرے شخص کی خوشی پر منحصر نہیں ہوتی۔ یہی ہمارے پروگرام کی خوبصورتی ہے۔

میں نے ایک بار پھر نارانون کے بارہ اقدام کے پروگرام پر عمل کے ذریعے اپنی زندگی میں سکون کی تلاش کا سفر شروع کردیا ہے۔

میں ایک بار پھر ہنسنے کے قابل ہو گئی ہوں حالانکہ نشئی ابھی بھی منشیات استعمال کر رہا ہے اور سڑکوں پر ہے۔ اب میں پراُمید ہوں اور اس دن کا انتظار کرنے کے قابل ہوگئی ہوں جب وہ بحالی کے پروگرام کے لئے تیار ہوجائے گا۔

میں اس قابل ہوں کہ اُداسی کو اپنے اوپر حاوی ہونے سے روک دوں۔ اگرچہ میں اپنے بیٹے اور اس کی خوبصورت مسکراہٹ اور ہنسی کی کمی محسوس کرتی ہوں مگر مجھے سمجھ آئی ہے کہ اس کی منشیات کی لت پر توجہ دینا میرے لئے اچھا نہیں۔

میں نے جانا کہ زندگی کو آج کے آج جینا ہی زخم بھرنے کا واحد راستہ ہے۔ زندہ رہنے کیلئے مجھے اپنی مرضی اور زندگی کو بالاتر طاقت کے حوالے کرنا ہوگا۔

آج کی سوچ:

بحالی ایک روحانی سفر ہے۔ میں اعتماد کرنا سیکھ رہی ہوں کہ میری بالاتر طاقت میری اور نشئی کی دیکھ بھال کرنے کی قابلیت رکھتی ہے۔ یہ اعتماد مجھے سکون دیتا ہے۔


’’ایسے مایوس لوگوں کے زخم کبھی نہیں بھرتے جو دوسرے لوگوں کی زندگیوں کو کھنگالتے رہتے ہیں۔‘‘ ~ ٹی ڈی  جیکس

پیر، 2 نومبر، 2015

شعوری تعلق

ایک دن میں اور میرے شوہر پہاڑوں میں واقع اپنے گھر گئے ۔ ہم نے اشد ضروری ایک ہفتے کی چھٹی شروع کی۔ میں دوسری ریاست میں رہنے والے اپنے نشئی بیٹے کی وجہ سے تھکاوٹ محسوس کر رہی تھی۔ یہ نہ جاننا کہ وہ کیسا ہے اور کیا کر رہا ہے کبھی کبھی میری برداشت سے باہر ہو جاتا ہے۔
ہمارے گھر کے باہر ایک جھونپڑی ہے جس پر میں نے ایک تختی لگا رکھی ہے جس پر لکھا ہے ’’پُرسکون جگہ‘‘۔ میں اپنے ساتھ بارہ اقدام کے پروگرام کا لٹریچر لے گئی اور دروازہ بند کر لیا۔ میں نے چرچ کی موسیقی کی آوازیں سُنیں جو کچھ میلوں کے فاصلے پر پہاڑی کی اُترائی پر لگے چرچ کیمپ سے آ رہی تھیں۔ تب میں ہلکی سی ٹپ ٹِپ آواز سنی جس نے میرے تجسس کو اُبھارا۔ میں نے دیکھنے کیلئے دروازہ کھولا کہ یہ کیا ہے۔ میں نے غور کیا کہ ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو گئی ہے۔
جب میں بارش کے قطروں کو پتوں کو بھگوتے ہوئے دیکھ رہی تھی تو میں نے کچھ فاصلے پر خشک ٹہنیوں اور پتوں کی چڑچڑاہٹ کو سُنا۔ ایک ہرن ماں چل کر میرے سامنے آ گئی۔ ایک منٹ کے لئے ہم ساکت ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے۔
وہ آگے بڑھی اور میرے قریب سے اپنے ننھے بچے کے ساتھ جو اس کے پیچھے تھا گزر گئی۔ جب وہ آہستہ آہستہ ٹہلتے ہوئے میری نظروں کے سامنے سے ہٹے تو مجھے لگا میری بالاتر طاقت مجھے بتا رہی ہے کہ ہماری نگرانی کی جا رہی ہے اور میں چھوڑ سکتی ہوں، خدا کو کرنے دے سکتی ہوں اور اپنی چھٹیوں سے لُطف اندوز ہو سکتی ہوں۔
آج کی سوچ:
میں یاد رکھوں گی کہ یہ طاقت، جو مجھ سے زیادہ طاقتور ہے مجھ تک پہنچنے کے کئی راستے جانتی ہے۔ میں اکثر ہی روزمرہ کے واقعات میں شعوری تعلق کو پاتی ہوں۔ میں اپنا ذہن کھُلا رکھوں گی اور اپنے راستے میں آنے والے پیغامات کو وصول کرنے کیلئے رضامند رہوں گی۔

’’سب چیزوں کو ویسا ہی رہنے دو جیسا کہ وہ ہیں۔‘‘ ~ دی وائس

اتوار، 1 نومبر، 2015

بالاتر طاقت کا مرتبان

کئی مہینوں تک پروگرام پر کام کرنے اور میٹنگ میں جانے کے باوجود میں ایسا محسوس کرتا تھا کہ میں کئی ایک ایسی چیزوں کو چھوڑ نہیں پا رہا جن کے بارے میں جانتا ہوں کہ میرا ان پر کوئی اختیار نہیں ہے۔
ایک خاص چیز جو مجھ پر بوجھ بنی ہوئی تھی وہ میرے نشئی کا غصہ تھا۔ وہ اپنی مرضی سے نوے دن کے بحالی کے پروگرام میں گزارنے کے بعد ایک عارضی جگہ میں رہ رہا تھا، لیکن جب بھی ہماری بات چیت ہوتی تو وہ مجھ سے ناراض ہی رہتا۔
یہ غصہ مجھے پاگل کر رہا تھا۔ میں یہ نہیں جان پایا کہ میں نے اس کے ساتھ ایسا کیا کیا ہے کہ وہ میرے ساتھ اتنا غصہ کرتا ہے اور نہ ہی میں اسکو قائل کرسکا کہ اسے مجھ سے اتنا ناراض نہیں ہونا چاہئیے۔
آخرکار میں نے اس مسئلے کو میٹنگ میں بیان کیا اور دوسروں کی رائے لینے کے لینے خود کو پیش کر دیا۔ ہر کسی نے تجویز دی کہ مجھے اس کے غصے کو جانے دینا چاہئیے، یہ اس کا معاملہ ہے۔ میں اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتا۔ لیکن مجھے کسی نے یہ نہیں بتایا کہ میں یہ کیسے کروں۔
ایک شخص میٹنگ سے اُٹھ کر گیا اور مونگ پھلی کا ایک خالی مرتبان لے کر واپس آیا۔ اُس نے ڈھکن بند کرکے لیبل کو پینٹ کردیا تھا اور اس میں ایک درز بنا دی تھی۔ اُس نے مجھے بتایا کہ یہ اُس کا ’’خدائی مرتبان‘‘ ہے لیکن جب تک میں اپنا خدائی مرتبان نہیں بنا لیتا میں اِسے استعمال کرسکتا ہوں۔
اُس نے مجھے کہا کہ میں ایک کاغذ پر وہ سب کچھ لکھوں جو میں اپنی بالاتر طاقت کے حوالے کرنا چاہتا ہوں اور اُس کاغذ کو لپیٹ کر ڈھکن پر بنی درز سے مرتبان میں ڈال دوں۔ ایک بار جو چیز مرتبان میں چلی جائے گی وہ میں واپس نہیں نکال سکتا۔ اگر میں دوبارہ کبھی اس مسئلے پر پریشان ہوں تو مجھے صرف یہ یاد کرنے کی ضرورت ہوگی کہ اب یہ میرا مسئلہ نہیں۔
سوچنے، اس کو کاغذ پر لکھنے اور عملی طور پر اس کو مرتبان میں ڈالنے کے عمل نے بہت زبردست کام کیا۔ اگلے دن اس شخص نے مجھے میرا اپنا مرتبان لا دیا، اور اب یہ مرتبان بہت بھاری ہو چکا ہے، لیکن میری روح بہت ہلکی ہے۔
آج کی سوچ:
میں نہیں کرسکتا، لیکن خدا کرسکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھے خدا کو کرنے دینا چاہیئے۔

’’علم کا مطلب ہے ہر روز کچھ سیکھنا جبکہ دانشمندی کا مطلب ہے ہر روز کسی چیز کو جانے دینا۔‘‘ ~ نامعلوم

ہفتہ، 31 اکتوبر، 2015

اپنا ذہن بدلنا

جب میں نے یہ الفاظ سُنے کہ ’’میں ایک نشئی ہوں اور مجھے مدد کی ضرورت ہے‘‘ میری زندگی ڈرامائی انداز میں بدل گئی۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں نے جس شخص سے شادی کی، میرا اچھا دوست اور روح کا ساتھی، اتنا گہرا راز رکھتا ہوگا۔
تین دن بعد جب میں پہلی نارانون میٹنگ میں آئی تو میں غصے اور تلخی سے بھری ہوئی تھی۔ میں خود کو ایک مظلوم کی طرح محسوس کررہی تھی اور اپنے شوہرکی بیماری کے بارے میں سوالات کے جواب شدت سے تلاش کر رہی تھی۔
میں وہ سب کچھ سیکھنا چاہتی تھی جو میں اس لت کوختم کرنے کیلئے کرسکتی تھی۔ مجھے احساس ہی نہیں تھا کہ میں اپنی زندگی کے جس سب سے اہم شخص کے بارے میں سیکھوں گی وہ میں خود ہوں۔
نارانون نے مجھے سکھایا کہ میں خود کو دوبارہ جانچوں کہ میں کیسی شخصیت ہوں۔ میں نے میٹنگز میں جاتے ہوئے پُرسکون محسوس کرنا شروع کر دیا، خصوصاً جب  وہاں لوگوں سے میری جان پہچان ہوگئی۔ مجھے محسوس ہوا کہ آخرکار میں نے ایک محفوظ جگہ پالی جہاں میں اپنے گہرے احساسات کے بارے میں بتا سکتی ہوں اور وہ محبت اور مدد حاصل کرسکتی ہوں جس کی مجھے ضرورت ہے؛ جہاں میں اپنے آپ کو کھوج سکتی ہوں اور ایک بہتر زندگی گزارنا سیکھ سکتی ہوں۔
ایک دن میٹنگ میں میں نے بتایا کہ میں اعتبار کے حوالے سے پریشان ہوں۔ میں نے اپنے شوہر پر مکمل طور اعتماد کھو دیا تھا۔ ایک ساتھی رُکن نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے اس کو بھی بالکل ایسا ہی مسئلہ درپیش تھا۔ اُس نے بتایا کہ اُس نے اس مسئلے کو یہ سوچ کر حل کیا کہ اُس کی مثبت سوچوں کے سچ ثابت ہونے کے بھی اتنے ہی امکانات ہیں جتنے اس کے بدترین خدشات کے سچ ثابت ہونے کے تھے۔
میں نے اُس کا پیغام  سمجھ لیا اور اپنے شوہر کے مثبت پہلوؤں پر توجہ دینا شروع کر دی۔ اپنی مثبت سوچ کی وجہ سے میں اچھا محسوس کرنے لگی۔ میرے شوہر نے یہ خوفناک راز طویل عرصے سے چھپایا ہوا تھا مگر اپنے رویے میں تبدیلی کی وجہ سے میں نے یہ محسوس کرنے کی بجائے کہ میرے ساتھ دھوکہ ہوا ہے شکرگزار رہنا شروع کر دیا کہ میرے شوہر نے نشے کی بیماری کا سامنا کیا اور مدد مانگی۔
آج کی سوچ:
’’آج کے دن آج‘‘ اور’’چھوڑ دو اور خدا کو کرنے دو‘‘ میرے پسندیدہ اقوال ہیں۔ یہ مجھے اپنی مثبت سوچ کے ساتھ رابطے میں رہنے میں مدد کرتے ہیں۔ نارانون مجھے میری بالاتر طاقت کے ساتھ رابطہ رکھنے میں مدد کرتی ہے جس کا مجھے اس پروگرام میں آنے سے پہلے کوئی تصور نہیں تھا۔

’’میرے وقت کی سب سے بڑی دریافت یہ ہے کہ انسان اپنے ذہنی رویوں کو بدل کر اپنی زندگیاں بدل سکتے ہیں۔‘‘ ~ ولیم جیمز

جمعہ، 30 اکتوبر، 2015

شئیرنگ

نارانون آنے سے پہلے میں ہمیشہ اپنے اندرونی احساسات کو چھُپاتی تھی۔ میں نے انہیں کبھی بھی سب کے سامنے نہیں لانا چاہا۔ مجھے لگتا تھا کہ دوسروں کے سامنے اپنی سوچ بیان کرنے سے وہ معمولی بن جاتی ہیں۔

تاہم جو درد میں محسوس کرتی تھی وہ حقیقی تھا اور جذباتی زخم جن کی وجہ سے یہ درد تھا شدید گہرے تھے۔ اپنی سوچوں اور احساسات کو چھُپانے سے صرف میرا درد بڑھا اور اس نے بحالی میں میری کوئی مدد نہیں کی۔

جب میں پہلی بار نارانون میں آئی تو میں نے بہت ہی مختصر شئیرنگ کی۔ اپنی بات کرنے کی بجائے میں نے صرف دوسروں کو سُنا۔ جب میں نے دوسرے ارکان کو ان کے نشئی خاندانوں کے مسائل بیان کرتے سُنا جو میرے مسائل جیسے تھے تو میری جرآت بڑھی اور میں نے خود کو محفوظ محسوس کیا۔

جب میں نے پہلی بار اپنے احساسات کو بیان کیا تو یہ واضح تھا کہ اپنے خوف، پریشانیوں اور مسائل کو بیان کرنے سے مجھے مدد ملی۔ ایک مختصر پانچ منٹ کے بیان سے میں نے محسوس کیا کہ میرے کندھوں سے پانچ پاؤنڈ کا وزن اُتر گیا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ دوسرے لوگ میرے مسائل سمجھ گئے۔

میں ابھی بھی اکثر پریشان ہو جاتی ہوں اور میری منتشر سوچوں میں ہمیشہ ربط نہیں ہوتا، لیکن دوسرے ارکان میری بات صبر کے ساتھ سُنتے ہیں۔ کئی سالوں تک بات چیت نہ کرنے کے بعد مجھے اب زیادہ مشق کی ضرورت ہے کیونکہ میرے لئے اپنی سوچیں بیان کرنا بھی مشکل ہے۔ جب مجھ مشکل پیش آ رہی ہو تو میں پہلے انہیں لکھ لیتی ہوں۔

نارانون میں آنے سے پہلے میری زندگی بدنظمی کا شکار تھی۔ مجھ میں اپنے اردگرد مثبت اور اچھی چیزوں کو بھول جانے کی عادت تھی۔ جب بھی ایسا ہوتا میں میٹنگ میں جاتی ہوں اور فیلوشپ کی پیار بھری مدد حاصل کرتی ہوں۔

آج کی سوچ:

عقل کی باتیں کہنا میری بہترین صلاحیت نہیں، لیکن مجھے دوسروں سے اپنی بات کہنے سے زخم بھرنے کے اثر کا اندازہ ہوا۔ جس وقت میں سب سے زیادہ اپنے مسائل میں کے پیچھے چھُپنا چاہتی ہوں اُسی وقت مجھے سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے کہ میں کسی دوسرے سے اپنی بات بیان کروں۔


’’تم اس مقام پر پہنچ جاؤ گے جب تمارے اندر کے خوفناک آسیب چھوٹے سے چھوٹے ہوتے چلے جائیں گے اور تم بڑے سے بڑے ہوتے جاؤ گے۔‘‘ ~ آگسٹ وِلسن

جمعرات، 29 اکتوبر، 2015

بڑے ہونا

نارانون کے اجتماعی تجربات نے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے اور اپنی خوبیوں کو پہچاننے میں میری مدد کی۔ چوتھے قدم پر کام کرنا مشکل ہے لیکن ترقی کے اس عمل میں یہ بہت ضروری ہے۔
میرے کردار کے نقائص نے مجھے کافی لمبے عرصے تک غلام بنائے رکھا۔ میں اپنے پیاروں کے بُرے رویوں کو برداشت کرتی کیونکہ میں مناسب حدود کا تعین کرنے کے قابل نہیں تھی۔ میں نے مظلوم کا کردار اپنایا اور دوسروں پر الزام تراشی اور انہیں شرمندہ کرنے کا کھیل چُنا۔ یہ کام مجھے تھکا دیتا اور میری ساری توانائی ضائع کر دیتا تھا۔
میں تبدیلی کے لئے تیار ہو گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے اپنے سوالوں کی تلاش کے لیے اپنے اندر جھانکنا تھا۔ اب وقت آگیا تھا کہ میں خودترسی چھوڑوں اور ’’میں ہی کیوں؟‘‘ کہنا بند کردوں۔
ماضی کی غلطیاں میری شخصیت کا تعارف نہیں۔ وہ میرے سیکھنے کے عمل کا حصہ تھیں۔ میرا احساسِ جرم اور شرمندگی صرف اس وقت مجھے ترقی کرنے سے روک سکتے ہیں جب میں انہیں اجازت دوں۔ یہ احساسات مجھے اس وقت تک پریشان یا کنٹرول نہیں کر سکتے جب تک میں بحالی کے ’ایمانداری‘ کے طریقہ کار کو استعمال کرتی رہوں۔
اب مجھ میں اتنی جرآت ہے کہ میں اپنی کمزوریوں کو دیکھوں، ان کے بارے میں بات کروں اور ان پہلوؤں کو بہتر بناؤں۔ میری توانائی بحال ہو رہی ہے۔ میرے کردار کے نقائص بدل کر اب میری شخصیت کا خاصہ بن رہے ہیں۔ میرے دردناک ماضی کی طرح اب صحت مند خدوخال بھی میری ذات کا حصہ ہیں۔
میں سیکھ رہی ہوں کہ کس طرح نئی سوچ کے ساتھ اپنی زندگی میں توازن پیدا کروں۔ زندگی کئی دھاگوں سے بنی ایک تصویر ہے۔ وہ زندگی کی تصویر مکمل کرتے ہیں جو مکمل طور پر میری ہے۔ اس کے ذریعے میں نے اپنی صلاحیتوں کو پہچانا۔ میں ٹھیک ہوں۔ خدا نے اچھا کام کیا۔ میں اپنے آپ میں ہی شاہکار ہوں۔ میں دوبارہ سے خود کو مکمل محسوس کرتی ہوں، تقریباً مکمل۔ یہ ایک عمل ہے۔
آج کی سوچ:
بحالی کا مطلب روحانی ترقی پانا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس پر کام شروع کیا جائے۔

’’اگر تم خود سے نہیں پوچھو گے کہ تم کیا جانتے ہو تو تم دوسروں کو ہی سُنتے رہو گے اور تبدیلی نہیں آئے گی کیونکہ تم اپنا سچ تو سُن ہی نہیں سکوں گے۔‘‘ ~ سینٹ بارتھلومیو

لاتعلقی

میری پہلی نارانون میٹنگ پر لوگوں کو لاتعلقی اختیار کرنے کا کہا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ یہ لفظ مجھے کتنا غیرمانوس لگا تھا۔ مجھے یاد ہے میں نے سوچا کہ ’’میں یہ کیسے کرسکتی ہوں؟‘‘ جب میں میٹنگ سے اٹھ کر آئی تو مجھے معلوم تھا کہ مجھے لاتعلقی کے بارے میں مزید جاننے کی ضرورت ہے۔ میں کچھ حد تک قائل ہوگئی تھی کہ شاید یہی میرے سوالوں کا جواب ہو سکتا ہے جسے میں تلاش کررہی تھی!

میں نے لاتعلقی اختیار کرنے کے بارے میں پڑھنا شروع کر دیا۔ شروع میں یہ کام مجھے سخت لگا۔ مجھے نشئی کو خود اپنی کی دیکھ بھال کرنے دینا چاہیئے۔ نشئی کو اس کے منہ کے بل گرنے دینا ہے؟ اس کو میری اشد ضرورت ہے، میں کیسے مدد سے رُک سکتی ہوں اور اسے اس کے مسائل کا سامنا کرنے دے سکتی ہوں۔ وہ یقیناً ٹوٹ جائے گی۔ میں یہ کیسے کر سکتی ہوں؟ ایسے تمام سنسنی خیز سوال میرے دماغ میں اُبھر آئے۔

اب مجھے لگتا ہے کہ میں بھی اُتنی ہی بیمار تھی جتنی کہ نشے کی مریضہ تھی۔ میری بیماری اس کی مدد کرنا اور اس کے لئے زندہ رہنا تھی جبکہ میں اس کے ڈرامے میں اپنی زندگی نظر انداز کررہی تھی۔ میں اس کی مدد نہیں کر رہی تھی؛ میں اسے مسائل کو دیکھنے اور انہیں خود حل کرنے سے روک رہی تھی۔ میں نشئی کی خدا بن کر اس کے فیصلے کر رہی تھی تاکہ میری مرضی کے نتائج مجھے حاصل ہوں لیکن ضروری نہیں کہ نشئی کو ان کی ضرورت ہو۔

تب سے میں نے نشئی سے لاتعلقی اختیار کرنا سیکھا اوراب میں بے حد پُرسکون زندگی گزار رہی ہوں۔ میں ہر روز خود کو کہتی ہوں کہ مجھے اس کے ڈرامے کا حصہ نہیں بننا۔ میں نے اپنی کچھ حدود متعین کی ہیں اور وہ ان کا احترام کرتی ہے۔ وہ ابھی تک انکاری ہے کہ منشیات کا استعمال ایک مسئلہ ہے لیکن مجھے اُمید ہے کہ ایک دن وہ اسے محسوس کر لے گی۔ دوسروں کا خدا بننے کی کوشش کرنا میری ذمہ داری نہیں ہے۔

آج کی سوچ:

نشئی کو اپنی زندگی کے مسائل سے خود نمٹنا چاہیئے، جیسا کہ ہم خود اپنی زندگیوں کا خیال رکھتے ہیں۔ اگر وہ اس کا تجربہ نہیں کریں گے تو شاید وہ کبھی نہ جان سکیں کہ کوئی مسئلہ ہے۔ یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں اپنی اور اپنی زندگی کی دیکھ بھال کروں۔ لاتعلقی اختیار کرنے سے میں یہ سب محبت کے ساتھ کرسکتی ہوں۔


’’زندگی کو بہت زیادہ سنجیدگی سے نہ لو؛ ورنہ تم اسکو زندہ دلی سے نہیں گزار سکو گے۔‘‘ ~ البرٹ ہیوبرڈ

منگل، 27 اکتوبر، 2015

یہ اس وقت کام کرتا ہے جب تم اس پر کام کرتے ہو

میں جتنی بھی نارانون کی میٹنگز میں حاضر ہوئی ان کا اختتام سکون کی دعا اور حوصلہ افزائی کے کچھ اجتماعی الفاظ کیساتھ ہوا: ’’واپس آتے رہنا؛ یہ اس وقت کام کرتا ہے جب تم اس پر کام کرتے ہو، اس لیے کام کرتے رہنا؛ تم اس قابل ہو۔‘‘
واپس آتے رہنا۔ یہ وہ الفاظ تھے جو مجھے اپنی پہلی میٹنگ میں یاد رہ گئے۔ شروع میں میں نارانون میٹنگ میں اپنے لیے نہیں آتی تھی۔ میں اس لیے آتی تھی کیونکہ میں اپنی زندگی میں موجود نشئی شوہر کو تبدیل کرنا چاہتی تھی۔ ایک خیال جو مجھے پسند نہیں آیا اور نہ ہی میں نے اسے قبول کیا یہ تھا کہ مجھے خود کو تبدیل کرنا ہے۔
مجھے لگتا تھا کہ میرے کردار میں کوئی نقائص نہیں تھے اور یقیناً میں مسئلے کی ذمہ دار نہیں تھی۔ میں میٹنگز میں جا کر سنتی رہی اور حیرت انگیز طور پر میں نئی چیزیں سیکھتی رہی۔
دوسرے ساتھیوں سے ان کے تجربات، استحکام اور اُمید کے بارے میں سُننے سے میں نے دو چیزیں سیکھیں۔ ایک تو یہ کہ میں تنہا نہیں ہوں اور دوسرا یہ کہ میں کردار کے نقائص سے پاک نہیں۔
اب میں جانتی ہوں کہ میں میٹنگز میں جاسکتی ہوں اور اپنے غصے اور غیض وغضب کے جذبات کے بارے میں بتا سکتی ہوں۔ یہاں پر لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں۔ وہ میرے بارے میں رائے قائم نہیں کرتے۔
 پہلی بارمجھےغصہ کرنے کی اجازت ملی اور مجھے اس کو چھپانے یا اس پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک دفعہ جب غصہ گزر جاتا ہے تو میں ان چیزوں کو دیکھنا شروع کرسکتی ہوں جنہیں میں بدل سکتی ہوں، یعنی خود میں۔
میں نارانون میں اپنے زخم بھر سکتی ہوں اوراپنی بحالی کو پا سکتی ہوں، اگر میں یہاں واپس آتی رہوں اور اس پر کام کرنا جاری رکھوں، کیونکہ میں اس کےقابل ہوں۔
آج کی سوچ:
میں جانتی ہوں کہ میں اکیلی نہیں ہوں۔ میرے پاس نارانون فیلوشپ کی مدد ہے۔ میرا کام صرف واپس آتے رہنا ہے۔
’’چونکہ کوئی چیز ’وارد‘ نہیں ہوتی، کوئی معجزاتی دن نہیں آتا جب ہم اچانک سکون حاصل کرلیں اور ہمیشہ کے لئے تناؤ یا پریشانی سے آزاد زندگی گزاریں، اس لیے ہم میں سے اکثر لوگ آخرکار صبر کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ ہم نے پایا کہ ہم بحالی کے عمل پر اعتماد کر سکتے ہیں کہ یہ ہمیشہ ہمیں آگے لے جائے گا، اگر ہمیں کئی بار ایسا محسوس ہو کہ ہم پیچھے کی طرف جا رہے ہیں تب بھی۔‘‘ ~ ہاؤ ایل انون ورکس (ایل انون کیسے کام کرتی ہے)

پیر، 26 اکتوبر، 2015

جیل میں دسواں قدم

نارانون پروگرام میں گزارے وقت نے مجھے ایک جھوٹا احساسِ تحفظ دیا۔ ہر کسی نے مجھے بتایا کہ میں کتنی اچھی طرح پروگرام پر کام کر رہی تھی۔ میں نے قبول کر لیا کہ میں اپنے شوہر کو نہیں بدل سکتی، لیکن میں ابھی بھی اس کی مدد کرنا چاہتی تھی۔

میں ابھی بھی سوچتی تھی کہ میں نشئی کی بحالی میں لازمی حصہ ہوں۔ میں نے تھوڑی تھوڑی مدد کبھی کسی کام میں کچھ یہاں اور کچھ وہاں کرنا شروع کردی لیکن میرا پروگرام میرے ساتھ تھا۔

مجھے محسوس ہوا کہ ’’اس بار میں ٹھیک ہوں، میں جانتی ہوں میں کیا کر رہی ہوں، اور میں اس سے نمٹ سکتی ہوں۔ یہ وقت مخلتف ہے۔‘‘

ایک شام میں نے گھر فون کیا اور نشئی نے فون کا جواب دیا۔ چند ہی منٹوں میں مجھے معلوم ہو گیا کہ اُس نے منشیات کا استعمال کیا تھا۔ میں جلد ہی دفتر سے اٹھی اور اُس کا سامنا کرنے کیلئے فوراً گھر واپس گئی۔

یہ سامنا جلد ہی باہمی جسمانی تصادم میں بدل گیا۔ نشئی نے میری گاڑی لے جانے کی کوشش کی اور میں نے پولیس کو فون کر دیا۔ جب پولیس آئی تو ہم نے اپنی اپنی کہانی بتائی اور ہم دونوں کو جیل لے جایا گیا۔

اس وقت مجھے پروگرام پر کام کرتے ہوئے ایک سال ہو گیا تھا اور مجھے لگا کہ میراردعمل میرے اختیار میں ہے۔ میں ان نتائج سے بچنے کیلئے پروگرام میں سیکھے ہوئے کسی بھی طریقہ کار کو استعمال کر سکتی تھی۔ میرے پاس اُس رات سوچنے کا کافی وقت تھا۔

اس وقت میں نے وہی کیا جو میرے خیال میں میرا پہلا ایماندارانہ دسواں قدم تھا: میں نے تسلیم کیا کہ میں اس وقت جیل کی کوٹھری میں ہوں، نشئی کی وجہ سے نہیں، جو میرے ساتھ والی کوٹھری میں موجود تھا، بلکہ اپنے غیرعقلمندانہ اعمال اور ردعمل کی وجہ سے یہاں پہنچی ہوں۔ میں اپنے نتائج کیلئے خود ذمہ دار تھی۔

آج کی سوچ:

بحالی ایک عمل ہے۔ میں شاید کبھی بھی مکمل بہتر نہ ہوں۔ اگر میں ایک ایماندار، کھُلے اور رضامند ذہن کے ساتھ چیزوں کو نئے انداز میں کرنا جاری رکھوں تو میں ہر روز آگے بڑھنا سیکھ سکتی ہوں۔


’’انکی مدد کرو کہ وہ اپنی ناکامی کو اپنی قابلیت کی پیمائش کے طور پر نہیں لیں بلکہ ایک نئی شروعات کے موقع کے طور پر دیکھیں۔‘‘ ~ عمومی دعاؤؤں کی کتاب 

اتوار، 25 اکتوبر، 2015

خود آگہی

یہ ایک فرضی خودکلامی ہم میں سے اُن لوگوں کی ہو سکتی ہے جو نشے کے اثرات سے بحال ہو رہے ہوں:

’’میں‘‘ کون ہوں؟ ’’میں‘‘ جو’’اُن‘‘ کا خیال رکھتا ہوں۔ جب ایک بار’’وہ‘‘ ٹھیک ہو جائیں گے تو ’’میں‘‘ بہت بہتر ہو جاؤں گا۔ ’’میرے‘‘ لئے کہاں وقت ہوتا ہے جب ’’اُن‘‘ کیلئے بہت کام کرنے والا ہو؟ ’’وہ‘‘ ’’میری‘‘ تعریف نہیں کرتے؛ ’’وہ‘‘ ان اچھے کاموں کو نہیں دیکھتے جو ’’میں‘‘ ’’اُن‘‘ کیلئے کررہا ہوں۔ ’’میں‘‘ جانتا ہوں ’’انہیں‘‘ کس چیز کی ضرورت ہے، ’’انہیں‘‘ صرف سُننا چاہیئے۔ ’’وہ‘‘ سوچتے ہیں کہ ’’وہ‘‘ خود کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں، لیکن ’’میرے‘‘ بغیر ’’وہ‘‘ کہاں ہوں گے؟ ’’وہ‘‘ بار بار ایک جیسی غلطیاں کرتے رہیں گے اور ’’مجھے‘‘ ان کے پھیلائے ہوئے گند کو صاف کرنا پڑتا ہے۔ ’’میں‘‘ غلطیاں نہیں کرتا؛ ’’میں‘‘ بہت زیادہ ’’اُن‘‘ کی غلطیوں میں ہی مصروف رہتا ہوں۔ ’’وہ‘‘ سُنیں گے؛ ’’میں‘‘ ’’انہیں‘ بناؤں گا۔ ’’میں‘‘ کوشش کرنا ترک نہیں کرتا؛ ’’میں‘‘ ’’انہیں‘‘ بہتر بنانے کے لئے راستہ ڈھونڈ نکالوں گا۔ درد دور ہو جائے گا، تب ’’میں‘‘ تمام وقت خوف میں مبتلا نہیں رہوں گا۔ ’’وہ‘‘ دیکھ لیں گے کہ ’’میں‘‘ ’’اُن‘‘ سے کتنی محبت کرتا ہوں، ’’میں‘‘ نے ’’اُن‘‘ کے لئے کتنی قربانی دی ہے۔ تب ’’وہ‘‘ ’’مجھے‘‘ خوش کردیں گے، اور ہم سب بھی بہتر ہوجائیں گے۔


آج کی سوچ:

ہم شاید یہ سوچتے ہیں کہ اپنی زندگی کی ذمہ داریاں اُٹھانے سے زیادہ آسان دوسروں کے رویے کا شکار ہونا ہے۔ نارانون ہماری توجہ ہماری زندگی میں موجود نشئی سے ہٹا دیتا ہے اور اپنے آپ پر مرکوز کرواتا ہے۔ اپنے اندر جھانکنا اور جو بھی ہم سوچ اور محسوس کر رہے ہوں اس کی ذمہ داری لینا بہت خوفناک لگتا ہے۔ نارانون ہمیں ان سب کو دیکھنے کیلئے محفوظ ماحول اورہماری بڑھوتری کے لئے ہمیں ایک پیارا سا پروگرام دیتا ہے۔


’’ہر کوئی دنیا کو بدلنے کا سوچتا ہے لیکن کوئی بھی خود کو بدلنے کے بارے میں نہیں سوچتا۔‘‘ ~ لیو ٹالسٹائی

ہفتہ، 24 اکتوبر، 2015

حوصلہ افزائی

میں نے نارانون میں سیکھا ہے کہ نشئی کے ساتھ رہتے ہوئے اپنے آپ کو حوصلہ دینے کے بہت سے طریقے ہیں۔ جب میں میٹنگز میں جاتی ہوں، لٹریچر پڑھتی ہوں، اقدام پر کام کرتی ہوں اور اپنی بالاتر طاقت پر ایمان رکھتی ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں نے اپنی دیکھ بھال کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

مگر نشئی کا کیا کریں؟ اگر نشئی پروگرام میں نہ آنا منتخب کرلیتا ہے تو میں محسوس کرتی ہوں کہ میرے علاوہ کوئی نہیں جو اس کی حوصلہ افزائی کرے۔ میں جانتی ہوں کہ میں ایسا کچھ نہیں کر سکتی جو نشئی کو بدل ڈالے یا اس کے اندر تبدیلی کی خواہش پیدا کرے، لیکن میں تعمیری انداز میں اسکی حوصلہ افزائی کچھ اس طرح کرسکتی ہوں:

·       میں اُس کی زندگی کو کنٹرول کرنا یا چلانا بند کر سکتی ہوں۔ اُسے فیصلہ کرنا، گرنا، ناکام ہونا اور خود سیکھنے دے سکتی ہوں۔ شاید میرا اُسے اپنے کاموں کے نتائج سے بچانے کا مطلب ہے کہ اُسے اپنی پستی تک پہنچنے اور مدد مانگنے میں مزید لمبا عرصہ لگے گا۔
·       میں اُس پر یقین کر سکتی ہوں کہ وہ بحالی میں کامیاب ہوگا۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ مجھے جو بھی کہتا ہے میں اس پر یقین کروں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میرا مثبت رویہ اور توانائی اُس پر اثر کرے گی۔
·       میں اپنی توقعات کم رکھتی ہوں۔ بہت زیادہ توقعات کی بجائے میں یہ نوٹ کرتی ہوں کہ نشئی نے کہاں سے کہاں تک ترقی کی، ناکہ یہ کہ میری اس کی ترقی کے بارے میں کیا توقعات تھیں۔
·       میں اس کی کامیابیوں، پیش رفت اور ترقی پر اس کی زبانی حوصلہ افزائی کرتی ہوں۔ میں اچھی چیزوں کے لئے تعریف کرتی ہوں چاہے وہ چیزیں متوقع ہو یا معمولی۔
·       میں یقین رکھتی ہوں کہ بالاتر طاقت نشئ کی دیکھ بھال کرے گی اور اسی وجہ سے میں نشئ کی بحالی کے عمل میں مداخلت نہیں کرتی۔

آج کی سوچ:

نشئی کی چند ایسے طریقوں سے حوصلہ افزائی کے ذریعے میں نشئی کی بحالی کے عمل میں رکاوٹ نہیں بنتی اور اپنے آپ کو اس جھوٹی ذمہ داری کہ شاید میں نشئی کو منشیات سے پاک کرنے کوشش کرسکتی ہوں سے نجات دلا کر سکون اور اطمینان میں ہوں۔


’’محبت کرو اور حالات کو تنہا چھوڑ دو۔‘‘ ~ نارانون نیلا کتابچہ