پیر، 31 اگست، 2015

خود کو بدلنا

نشے کی لت کئی طرح کے مسائل پیدا کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو خود نشہ کرنے والے اور اس کے اہلخانہ، دوستوں اور کام کے ساتھیوں کو متاثر کرتی ہے۔ میں نے چیزوں کو کنٹرول کرنے، ان پر پردہ ڈالنے، اور نشئی کے حصے کی ذمہ داریاں خود لینے کی کوشش کی۔

نشئی کی بیماری مجھے اس لیے متاثر کرتی ہے کیونکہ میں اس سے پیار کرتی ہوں اور مجھے اس کا خیال ہے۔ مگر آخر میں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرا استحصال کیا جا رہا ہے اور میں ناخوش محسوس کرتی ہوں۔ میں پریشان ہوتی ہوں، اپنا بھروسہ کھو دیتی ہوں اور غصہ کرنے لگتی ہوں۔ نشئی مجھے اور دوسروں کو الزام دیتا ہے اور مجھے قصوروار ٹھہرانے کی کوشش کرتا ہے۔ کاش میں کچھ بدل سکتی۔

جب مجھے نارانون کے بارے معلوم ہوا تو مجھے اپنے جیسے جذبات اور مسائل کا سامنا کرنے والے اور لوگ ملے۔ میں نے سیکھا کہ میں نشئی کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔ میں اُسے یا کسی دوسرے کو نہیں بدل سکتی، صرف اپنے آپ کو بدل سکتی ہوں۔ میں نشئی کے بارے میں سوچنے کی اتنی عادی ہو چکی ہوں کہ مجھے اپنا دھیان نشئی سے ہٹا کر خود پر منتقل کرنا مشکل لگ رہا تھا۔

میں نے جانا کہ سب سے پہلے مجھے اعتراف کرنا ہوگا کہ میں بے بس ہوں۔ مجھے اپنا سفر شروع کرنے کے لئے اپنی بالاتر طاقت پر بھروسہ کرنا ہوگا، نشئی کو محبت سے رہائی دینا ہوگی اور اُسے بدلنے کی کوشش بند کرنا ہوگی۔

بارہ اقدام پر کام، اُصولوں کی پیروی، اور نارانون پروگرام کے طریقے استعمال کر کے مجھے پتہ چلا کہ میں نشئی کو محبت سے آزاد کرنے کی توفیق پا سکتی ہوں۔

آج کی سوچ:

میں نشے کے رد عمل کا تسلسل توڑ سکتی ہوں۔ میں مزید تسلسل کی کڑی نہیں بنوں گی، جو نشئی کی بیماری میں معاونت کرے۔

’’سیکھنے والی سب سے اہم چیز یہ ہے کہ کس قسم کا میل جول تباہ کن ہو سکتا ہے اور کون سا تخلیقی اور پھر تخلیقی طریقے کو اپنانے کی جرأت کی جائے۔ تبدیلی منشیات کا استعمال نہ کرنے والے سے شروع ہونی چاہئیے۔ منشیات پر انحصار کرنے والا شخص اس وقت تک بحالی کے لیے مدد نہیں مانگے گا جب تک کہ اُس کی ناپختہ ضرورتیں پوری ہوتی رہیں گی اور اسکے مسائل اسکے اہلخانہ اور دوست حل کرتے رہیں گے۔‘‘ ~ منشیات کے عادی فرد کے خاندان کے لئے رہنما کتاب

اتوار، 30 اگست، 2015

غم

جب میرے شوہرکا طویل علالت کے بعد انتقال ہوا تو مجھے بہت دکھ ہوا۔ میں طویل عرصے تک غمگین رہی اور اکثر سوچتی کہ میں کبھی بھی اس غم سے باہر نہیں نکل سکوں گی اور دوبارہ اطمینان اور خوشی کو نہیں پا سکوں گی۔

تاہم صحتیابی کا عمل اپنا کام کر رہا تھا اگرچہ میری اس سے بے خبر تھی۔ روزانہ ڈائری لکھنے، مراقبہ کرنے اور نارانون ساتھیوں کی مدد سے میں اپنے غم سے رہائی پانے کے قابل ہوئی۔

کسی نے کہا تھا کہ انہوں اپنے پیارے مریض کو نشے کے ہاتھوں کھو دینے کے بعد اپنے غم سے گزرنے میں مدد کے لئے نارانون پروگرام استعمال کیا تھا۔ انہوں نے مجھے اپنے کھو دینے کے احساسات بیان کرنے کی اجازت دی اور میں بحال ہونا شروع ہوئی۔

کچھ دیر پہلے ہی پہاڑوں پر کیمپنگ کے دوران میں نے ڈائری لکھ کر اور مراقبہ کرکے بہت اچھا دن گزارا۔ بعد میں میں جنگل کی سیر کے لیے نکل گئی جہاں مجھے ایک ہرنی دکھائی دی۔ وہ بے حد خوبصورت تھی اور میرے اتنے قریب تھی کہ میں اُسے باآسانی چھو سکتی تھی۔

اُس علاقے میں دیودار کے درخت یا پھول نہیں تھے اور یہ ایسی جگہ نہیں تھی جہاں عموماً آپ لمبی چونچ والے پرندے ہمنگ برڈ کو دیکھ سکیں، مگر اس کے باوجود ایک پرندہ اڑ کر میرے قریب آ گیا۔ اس لمحے مجھے اطمینان کا جو احساس ہوا میں اسے بیان نہیں کر سکتی۔

 میری بیٹی ہمیشہ کہتی تھی کہ اس کا باپ ہمنگ برڈ کی شکل میں واپس آئے گا! میں نے اس خاص چھوٹے پرندے کو اپنے شوہر کی طرف سے ایک اشارہ سمجھا کہ اس کی یادوں اور غم کو جانے دینا اور اپنی زندگی جینا ٹھیک ہے۔ اُس دن کے بعد سے میری زندگی میں خوشی اور اطمینان ہے۔

آج کی سوچ:

میری بالاتر طاقت نے مجھے صحتیابی  کا تحفہ دیا ہے۔ دعاؤں اور مراقبے کے ذریعے مجھے معلوم ہوا کہ میں اپنے پیاروں کو کھونے کے زخموں کو بھرنے اور نشے کے اثرات سے شفایاب ہو سکتی ہوں۔ میں اطمینان اور سکون کو پا سکتی ہوں۔

’’ہم آپ کو یہ یقین دلانے کی امید کرتے ہیں کہ کسی بھی طرح کی صورتحال اتنی مشکل اوردکھ اتنے بڑے نہیں ہوتے کہ آپ ان پر قابو نہ پا سکیں۔‘‘ ~ نارانون نیلا کتابچہ

ہفتہ، 29 اگست، 2015

جذبات

میں نے نارانون میں سیکھا کہ جذبات صرف جذبات ہوتے ہیں۔ ایک دن میں نے فیصلہ کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ میں انہیں پگھلانا شروع کردوں۔ میں اپنے جذبات کو محسوس کرنے کے لئے تیار تھا جنہیں میں نے کئی برسوں سے منجمند کیا ہوا تھا۔ اب وقت آ گیا تھا کہ منشیات کی لت کا سامنا اور اس کا مقابلہ کیا جائے۔

مجھے احساس ہوا کہ اپنے کسی پیارے کا نشے کی لت میں مبتلا ہونا ایسا ہی ہے جیسے آپ اس شخص کی موت کو محسوس کر رہے ہوں۔ اور کچھ نہیں تو یہ اپنے ان خوابوں کی موت کو محسوس کرنے جیسا تھا جو میں نے اس کے ساتھ زندگی کے بارے میں دیکھے تھے۔ میری اداسی اور درد کے سارے جذبات امڈ آئے۔

مجھے معلوم ہے کہ میں انہیں کافی عرصے سے دبائے بیٹھا تھا۔ اب وقت تھا کہ میں اس نقصان کا ماتم کر کے اس ایک زندگی کو دوبارہ جینے کا آغاز کروں جو مجھے ملی ہے، میری اپنی زندگی۔ میں اپنی بحالی کا سفر شروع کرنے کے لئے تیار تھا۔

اگر دوسرے مدد مانگنے سے احتراز کریں اور نشے کو اپنی زندگی تباہ کرنے دیں، تو ٹھیک ہے۔ یہ مجھے اُداس کر دے گا؛ شاید یہ مجھے غصہ دلائے، مجھے اس سے نفرت محسوس ہو اور اس سے میرے دل میں درد اُٹھے۔ آج کے دن ان جذبات کو محسوس کرنا ٹھیک ہے، جب تک کہ میں ان کے ساتھ لمبے عرصے تک نہ رہوں۔

نارانون فیلوشپ کی مدد سے میں اپنا عزت و وقار برقرار رکھوں گا اور کسی نہ کسی خوشی کو تھامے رکھوں گا۔ میرا اطمینان ایسی چیزوں سے منسلک نہیں ہو گا جن پر میرا کوئی اختیار نہیں ہے؛ بلکہ یہ میرے اندر سے آئے گا۔

آج کی سوچ:

میں کوشش کرنے کے لئے رضامند ہوں، اگرچہ مجھے کبھی کبھی ناکامی کا سامنا ہو گا۔ میں کامیاب بھی ہوں گا اور تھوڑی مزید کوشش کروں گا۔ ان سب کے دوران میں ترقی کروں گا۔ یہی وقت ہے جب مجھے اپنے ساتھ تحمل برتنے کی ضرورت ہے۔ ایک اچھے پروگرام پر عمل کرنے اور مستقل مزاجی سے میٹنگز میں شریک ہونے کی رضامندی کے باعث میں جلد ہی پہلے سے زیادہ مضبوط اور عقلمند ہو جاؤں گا۔

’’خود کو کم ہمتی کے جذبات کا شکار نہ ہونے دو؛ آخر میں تمہیں یقیناً کامیابی ملے گی۔‘‘ ~ ابراہم لنکن


جمعہ، 28 اگست، 2015

محبت یا جنون

نارانون میٹنگ کا آغاز نارانون لٹریچر کے صفحات پڑھنے سے ہوتا ہے۔ ایک شام ایک نووارد نے پوچھا ’’ ’ںظر رکھنا پیار نہیں‘ کا کیا مطلب ہے‘‘؟ میں اُسے کوئی واضح جواب نہیں دی سکی۔ مجھے معلوم تھا کہ  میں نے اپنی زندگی میں مسلسل ایک نشئی پر نظر رکھتی تھی۔ اسی لئے اگر ’ںظر رکھنا محبت نہیں‘ تو پھر نشئی کے لئے میرے کیا جذبات تھے؟

منطقی انسان ہونے کے باعث میں نے محبت کی تعریف تلاش کی: ’’محبت ایک گہرا، لطیف شفقت اور ہمدردی والا جذبہ ہے۔‘‘ میں نے نشئی کے لئے اپنے جذبات کا بغور جائزہ لیا۔ مجھے یہ بات ماننی پڑی کہ میرے جذبات شدید ہیں، لیکن ان میں سے بہت سے نہ ہمدردی والے ہیں نہ شفقت والے۔

مجھے اس سے محبت ہی ہوگی؛ میں ہر وقت اس کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں۔ میں نے اس سے پہلے بھی سُنا تھا کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے مریض کے بارے میں جنونی ہوتے ہیں، اس لئے میں نے ’جنون‘ کی تعریف دیکھنے کے لئے دوبارہ لغت اُٹھائی۔ ’’جنون ایک ایسا خیال یا جذبہ ہے جو دماغ پر مکمل قابض ہو۔‘‘ یہ یقیناً انہی جذبات کی تعریف تھی جو نشئی کے ساتھ میرے رویے میں نمایاں تھے۔

مجھے ایک اور مطالعہ یاد آیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ہم نے سیکھا ہے کہ نشہ ایک بیماری ہے۔۔۔ یہ دوہری بیماری ہے: ایک جسمانی الرجی کے ساتھ دماغی جنون۔‘‘ پھر میں نے پھر ایڈکشن یعنی ’کسی چیز کی لت‘ کی وضاحت کو دیکھا۔ وہاں دو وضاحتیں دی گئیں تھیں؛ ایک میں منشیات پر جسمانی انحصار کی تشریح تھی اور دوسری عمومی تھی،’’کسی چیز میں گہری دلچسپی جس پر بہت زیادہ وقت صرف کیا جائے۔‘‘

آج کی سوچ:

جب میں اپنے نشے کے مریض کے علاوہ کچھ نہیں سوچ سکتی تو میں خود کو یاد کرواتی ہوں کہ جنون کا مطلب محبت کی بجائے ایڈکشن یعنی ’کسی چیز کی لت‘ سے زیادہ قریب تر ہے۔ آج میں محبت کا انتخاب کرو گی۔ 
’’کسی پر ںظر رکھنا محبت نہیں۔‘‘~ کارل جی۔ جنگ

جمعرات، 27 اگست، 2015

لا تعلقی اختیار کرنا، پیار اور احترام سے

’’ٹوٹ پھوٹ ایک اہم پیش رفت کا راستہ بنا دیتی ہے۔‘‘ یہ قول نارانون کے ایک رُکن کے معالج کا ہے جو اس نے میٹنگ میں شئیر کیا۔ یہ قول پیار اور احترام سے لاتعلقی اختیار کرنے کے میرے سفر کا خلاصہ بیان کرتا ہے۔

میں نے اپنی بے شمار غلطیوں سے سبق سیکھا اور ان اسباق نے میری انا کو اتنی ٹھیس پہنچائی کہ بالآخر مجھے سمجھ آ گئی اور میں نے جذباتی لاتعلقی اختیار کرنے کو قبول کر لیا۔  یہ کوئی خوشگوار وقت نہیں تھا اگرچہ ماضی پر نظر ڈالوں تو میں اسے اپنی مکمل ٹوٹ پھوٹ اور نارانون میں ایک ایماندارانہ بحالی کی شروعات کے طور پر دیکھ سکتی ہوں۔

میں اکثر یہ بات سنتی ہوں کہ ’’نشئی کو نشیب میں گرنا ہوتا ہے‘‘ اور میں اس کو اپنے پستی میں گرنے اور اپنی ٹوٹ پھوٹ کے ساتھ جوڑ سکتی ہوں۔ جب میں سمجھنے، یقین کرنے اور قبول کرنے لگی کہ مجھے بدلنا ہوگا، مجھے صحیح معنوں میں روشنی مل گئی۔ میری نظر میں لاتعلقی کامیابی کی کُنجی ہے جیسا کہ ہمارے نارانون کے ایک کتابچے میں کہا گیا ہے۔ مجھے اپنے نارانون لٹریچر کے ہر لفظ، قول، جملے اور نارانون کی ہفتہ وارمیٹنگز میں سب کی شئیرنگ میں نئے معانی ملتے رہتے ہیں۔

آج کی سوچ:

مجھ سے بڑی ایک طاقت نے میری آمادگی کے جواب میں میری حوصلہ افزائی کی کہ میں یہاں واپس آنا اور سیکھنا جاری رکھوں۔

’’رحمتوں کو تلاش کرتے رہو۔ ہم جتنا اُنہیں تلاش کریں گے، وہ ہمیں اتنی ہی زیادہ نظر آئیں گی۔۔۔۔۔۔اپنی مصیبتوں کو گنتے گنتے رحمتوں کو کھو دینے سے بہتر ہے کہ ہم اپنی رحمتوں کے نام لیتے لیتے گنتی بھول جائیں۔‘‘ ~ مالٹبی ڈی  باب کوک

بدھ، 26 اگست، 2015

معاونت کرنا

میری نارانون میٹنگ میں نشے میں معاونت پر بحث ہوئی۔ ایک رکن نے پوچھا، ’’میں کیسے کسی اجنبی کو خوراک، کپڑے، پیسے اور پناہ دے سکتا ہوں مگر اپنے پیارے نشئی کی مدد نہیں کر سکتا؟ یہ ٹھیک نہیں ہے کہ میں اجنبی کو دے سکتا ہوں مگر اپنے خاندان کے فرد کو نہیں۔ اگر میں نشئی سے محبت کرتا ہوں، جو ایک مرض میں مبتلا ہے، تو اسے بنیادی ضروریات سے کیوں محروم کروں؟‘‘

دوسرے رکن نے کہا ’’میرا خیال ہے کہ اپنی زندگی میں شامل نشئی کو پیسے، خوراک، کپڑے یا پناہ دینا اس کی قبر کھودنے میں مدد دینے کے برابر ہے۔ میں اُسے اپنے اعمال کے نتائج کو بھگتنے کی اجازت نہیں دے رہا۔ میں اُسے نشیب میں گرنے اور بحالی کا انتخاب کرنے سے بچا رہا ہوں۔‘‘

جب میں مریض کی معاونت کرتا ہوں تو کیا اس کا مطلب ہے کہ میں اس سے غیر مشروط محبت کر رہا ہوں؟ کیا میں نشئی کے رویوں کے قدرتی نتائج کی راہ میں کھڑا ہوں؟  کیا میں ایسا اپنے خوف اور احساسِ جرم کو ختم کرنے کے لیے کر رہا ہوں؟ کیا میں ایسا اپنے آپ کو بہتر محسوس کرانے یا یہ محسوس کرانے کے لیے کر رہا ہوں کہ دوسرے کو میری ضرورت ہے؟

محبت کے ساتھ جانے دینے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نشئی کو محروم کر رہے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کو آزادانہ اختیار دے رہے ہیں۔ جب میں اس کی معاونت کرتا ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں نشئی کو اپنی عظمت اور عزتِ نفس کو پانے کی اجازت نہیں دے رہا ہوتا  جو ذمہ داری اُٹھانے اور مسائل کو حل کرنے سے آتی ہے۔

آج کی سوچ:

میرے پاس اپنی مرضی کرنے کا اختیار ہے۔ پہلے میں اپنی مقاصد اور پھر اپنے اعمال کے نتائج پر غور کر سکتا ہوں۔ ایک بار جب میں کوئی چیز منتخب کر لوں مثلاً نشئی کی مدد کرنے یا اپنے تحفط سے متعلق کوئی حد مقرر کر لوں تو میں استقامت سے اس پر قائم رہنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں اپنی بالاتر طاقت کی مدد سے فیصلے کرتا ہوں۔ میں اپنے آپ کو یاد دہانی کراتا ہوں کہ چیزیں بدلتی ہیں اگر میں تبدیلی کو نہ بھی دیکھ سکوں۔

’’اگر میں مسئلے میں کھڑا رہوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں حل تلاش نہیں کر رہا۔‘‘ ~ گمنام 

منگل، 25 اگست، 2015

غصہ

میرے والد کا غصہ بہت خوفناک تھا۔ میری ماں اکثر مجھے بتایا کرتی تھی کہ میں نے اپنے باپ جیسا غصہ پایا ہے۔ اس دن جب میرے والد میرے منہ پر مجھے بُرا بھلا کہہ رہے تھے اور میں نے ان کے سر پر ان کی کھانے کی پلیٹ دے ماری تو مجھے اپنی ماں کی بات پر یقین آگیا۔

جب میرے بیٹے چھوٹے تھے تو میں انہیں غصے کی حالت میں سزا دینے سے ڈرتا تھا۔ میں اس وقت تک انہیں ان کے کمروں میں بھیج دیتا جب تک کہ میرا غصہ ٹھنڈا نہ ہو جاتا۔

تاہم جب میرا نشئی بیٹا نشہ استعمال کر رہا تھا تو کئی بار وہ اس لیے لڑائی شروع کردیتا کہ وہ اس کو بہانہ بنا کر چلا جائے اور نشہ استعمال کرے۔ کئی بار میں نے جذباتی تقریریں کر کے، بے تکی باتیں کر کے، چیخ چلا کر اُسے یہ موقعہ عطا کیا جس کے بعد وہ دروازے زور سے مارتا ہوا گھر سے باہر چلا گیا۔

آج جبکہ میں بحالی کے عمل میں ہوں، میں اب بھی جانتا ہوں کہ نشئی یا کسی دوسرے کو غصہ دلانے کے لئے کونسا بٹن دبانا ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ دوسروں کو بھی معلوم ہے کہ مجھے اشتعال کیسے دلانا ہے۔ آج میں اس بات کی ذمہ داری لیتا ہوں کہ میں کیا کر رہا ہوں اور کس سمت جارہا ہوں۔ آج میں اپنا ردعمل چننے کی کوشش کرتا ہوں۔ آج میں ٹھہر کر غصے میں رد عمل کا اظہار کرنے سے پہلے سوچتا ہوں۔  آج میں کچھ مزاحیہ بات کہوں گا یا مہربان انداز میں کوئی جواب دوں گا۔ آج میں نہیں چاہتا کہ میرا غصہ نشئی کیلئے نشہ کرنے کا بہانہ بنے۔

آج کی سوچ:

اپنے احساسات کو پہچاننا اور انہیں قبول کرنا میری بحالی میں ایک اہم قدم ہے۔ اپنے احساسات کے ردعمل کا انتخاب کرنا سیکھنا ایک نایاب تحفہ ہے۔ دوسرے کا رویہ میرے بارے میں نہیں ہے۔ میں اس کی وجہ نہیں ہوں۔ میں اس کو قابو نہیں کر سکتا۔ میں اس کا علاج نہیں کر سکتا۔ تاہم میرے اپنے رویے کی وجہ میری سوچیں ہیں۔ صرف میں اپنی سوچوں کو قابو کر سکتا ہوں۔ صرف میں اپنا رویہ بدل سکتا ہوں۔ میں اس بات کو چن سکتا ہوں کہ منفی چیزوں کو جانے دوں۔ میں سکون پانے کو منتخب کر سکتا ہوں۔    

’’اے خدا مجھے اپنے اور دوسروں کے غصے کو تسلیم و رضا اور سکون حاصل کرنے کے سفر کا عمومی حصہ سمجھ کر قبول کرنے میں مدد دے۔ اسی خیال کے ساتھ مجھے اپنی ذات کے احتساب مدد دے۔‘‘ ~ میلوڈی بیٹی  



پیر، 24 اگست، 2015

بد سلوکی:میرے ماضی کا بھوت

ایک شام میں میٹنگ میں بیٹھا تھا اور ’بچوں سے زیادتی‘ کا موضوع سامنے آیا۔ دوسروں کے واقعات سنتے ہوئے مجھے بھی اپنے بچپن کی بدسلوکی یاد آئی تھی، جو سکول کے زمانے سے ہی شروع ہوگئی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ بچپن میں میرے ساتھ ہونے والی زیادتی کا اثر میرے بالغ ہونے کے بعد تعلقات پر بھی ہوا۔ اس بدسلوکی کا اثر اس بات پر بھی ہوا کہ میں اپنے زندگی میں موجود نشے کے مریضوں سے کیسے نمٹتا ہوں۔ میں نے مظلوم بننا سیکھ لیا تھا۔

پانچ برس کی عمر سے مجھے جسمانی، جذباتی اور ذہنی زیادتی کا سامنا رہا تھا۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں تھی کہ کبھی کبھی اب بھی جب کوئی مجھ سے دھمکی آمیز لہجے میں بات کرتا ہے تو میں ڈر جاتا ہوں۔ میں اس بات پر نہیں سوچتا کہ اپنی دلیل پر قائم رہنا میرے مفاد میں ہے یا نہیں۔ میں بغیر سوچے سمجھے ردعمل کا اظہار کرتا ہوں، خوف میں بھاگ جاتا ہوں اورپھر درد اور مایوسی میں ڈوبے کئی دن گزار دیتا ہوں۔

نارانون میرے زخموں کو مندمل کرنے میں مدد کرتی ہے۔ ان اوقات میں میں پروگرام کے طریقوں کو استعمال کر سکتا ہوں جب خوف سے نمٹنا مشکل ہو۔ میں جتنا زیادہ اپنے پروگرام پر عمل کرتا ہوں، میٹنگز میں باقاعدگی سے جاتا ہوں، اقدام کو اپنی مشکلات میں استعمال کرتا ہوں، شیئر کرتا اور بغور سُنتا ہوں، اتنی ہی آسانی سے میرا خوف یقین میں بدل جاتا ہے۔ میں زیادہ مضبوط اور صحتمند انسان بن رہا ہوں اور اب یہ پیغام دوسروں تک پہنچا سکتا ہوں۔

میں جتنا زیادہ دعا کرتا ہوں، غورو فکر کرتا ہوں اور اپنے لئے رہنمائی مانگتا ہوں، اُتنی ہی زیادہ مجھے مدد ملتی ہے جس کی مجھے ضرورت ہوتی ہے۔ اب مایوسی اور درد میں سکون حاصل کرنا میرے لئے زیادہ آسان ہے، نارانون کے بارہ اقدام کی بدولت اور میرے نارانون خاندان کے ساتھیوں کی بدولت، جو اپنی غیرمشروط محبت سے مجھے بحالی اور صحتمند ہونے میں مدد دیتے ہیں۔

آج کی سوچ:

میں اپنی ماضی میں ہونے والی زیادتیوں کے بھوت کو اپنی زندگی پر حکمرانی کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔ اپنی بالاتر طاقت کی مدد سے اور نارانون پروگرام کے سہارے، میں خوف کی بجائے اطمینان اور سکون کا انتخاب کروں گا۔


’’یہ ہوسکتا ہے کہ نیا آنے والا شخص اپنے آپ کو ان لوگوں اور حالات کی بدولت مظلوم سمجھتا ہو جن پر اس کا کوئی اختیار نہیں لیکن جتنی بھی زیادہ وہ کوشش کر لے وہ ان پر قابو نہیں حاصل کر سکتا۔ ان اقدام نے بہت سے ایسے لوگوں کو، جن کے حالات ملتے جُلتے ہیں، یہ  سکھانے میں مدد کی ہے کہ کس طرح مظلوم بننا بند کریں اور اپنی زندگیوں کے اس حصے کی ذمہ داری لیں جسے منظم وہ کر سکتے ہیں اور منظم کرنا چاہئیے جبکہ زندگی کے ان حصوں کی تکلیف سے بچنے کے راستے تلاش کریں جن پر وہ قابو نہیں پا سکتے یا نہیں پانا چاہئیے۔‘‘ ~ نارانون بارہ اقدام کا پروگرام

اتوار، 23 اگست، 2015

آٹھواں قدم

آٹھواں قدم یہ نہیں کہتا کہ میں ان نقصانات کی فہرست بناؤں جو لوگوں نے مجھے پہنچائے۔ آٹھواں قدم مجھ سے کہتا ہے کہ میں ان نقصانات کی فہرست بناؤں جو میں نے لوگوں کو پہنچائے، انہیں تسلیم کروں اور ماضی کی غلطیوں کو درست  کروں۔

پہلی بار آٹھواں قدم پڑھنے کے بعد میرا ردعمل تھا کہ میں نے کس کو نقصان پہنچایا ہے؟ وہ کون لوگ ہیں جن سے مجھے تلافی کرنی ہے؟

میں نارانون میٹنگ میں پہلی بار آئی تو میں خود کو مظلوم سجمھتی تھی۔ میری زندگی میں نشے کا مریض ظالم ، بے حس، اور خود غرض انسان تھا۔ میں سمجھتی تھی کہ مجھے اپنی غلطیوں کی تلافی کی ضرورت نہیں تھی تھی بلکہ اس بات کی ضرورت تھی کہ مجھ سے تلافی کی جائے۔

یہ ایک سست رفتارعمل ہے لیکن میں سیکھ رہی ہوں کہ اس تعلق میں میں نے خود اپنا کردار چنا تھا۔ میں خود اپنے مظلوم ہونے کی ذمہ دار تھی۔ میں اپنی مرضی سے ایسی صورتحال میں ٹھہری رہی جو میرے لئے نا قابلِ قبول تھی، اُس شخص کیساتھ جس سے میں محبت تو کرتی تھی لیکن جس میں کئی کمیاں تھیں۔ اس لئے مجھے اپنے آپ کو سر فہرست رکھنے کی ضرورت تھی۔

نشے کے مریض کی جانب اپنے منفی رویے کی وجہ سے میں سمجھتی تھی کہ ہر چیز کا خیال رکھنا میرے لیے ضروری ہے۔ میرے ذہن میں تھا کہ نشئی اس قابل نہیں؛ وہ زندگی اور اسکی مشکلات کے ساتھ نمٹ نہیں سکتا۔

جیسے جیسے میں نارانون پروگرام میں آگے بڑھتی گئی، میں نے محسوس کیا کہ میرے پیارے مریض کے ساتھ میرا رویہ بدتمیزی کے علاوہ ایسا تھا جیسے میں اس پر احسان کر رہی ہوں۔ مریض کو کنٹرول کرنے کا میرا رویہ اس پر یہ ثابت کر رہا تھا کہ میں خود کو سماجی اور ذہنی طور پر اس سے برتر سمجھتی ہوں۔ میں اس پر تنقیدی فقرے کستی اور اس کو کمتر سمجھتی۔ میں اس کی بحالی کی راہ میں بھی کھڑی تھی۔ میری فہرست میں دوسرا شخص نشے کا مریض تھا۔

آج کی سوچ:

آٹھواں قدم مجھے اپنے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ اپنے رویے کا جائزہ لینے کا موقع دیتا ہے۔ آٹھواں قدم شفایابی اور زخم بھرنے کا قدم ہے۔ یہ میری مدد کرتا ہے کہ میں حقیقت کی مسخ شدہ تصویر اور ماضی کے رویوں کے احساسِ جرم  کا بوجھ اپنے اوپر سے اتار دوں۔ آٹھویں قدم پر عمل کر کے سے میں نے زندگی جینے کا بہتر طریقہ سیکھا۔


’’اپنی ایک خامی سے آگاہ ہونا کسی دوسرے کی ہزار خامیوں سے آگاہ ہونے سے زیادہ فائدہ مند ہے۔‘‘ ~ دلائی لامہ

ہفتہ، 22 اگست، 2015

جانے دینا! روحانی ترقی کا ذریعہ

جب میں پہلی مرتبہ نارانون میٹنگ میں گیا تو میں اُلجھن کا شکار تھا اور جوابات تلاش کر رہا تھا۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ مجھے نشے کے مریض کے لئے کتنا کچھ کرنا چاہیئے۔ میں مریض کا خیال رکھنے اور مکمل ذمہ داری اٹھانے کے درمیان فرق سمجھنا چاہتا تھا۔

 میں نے میٹنگز میں جانا جاری رکھا اور اپنے نارانون ساتھیوں کے تجربات سے سیکھا۔ میں سیکھ رہا ہوں کہ مریض کی نشے میں معاونت کا ایک طریقہ اس کے وہ کام کرنا ہے جو وہ خود کر سکتا ہے۔

میں نے فیصلہ کیا کہ اپنی مریضہ کی نشے میں معاونت کرنا چھوڑ دوں گا۔ میں ہر دفعہ اس کی معاونت کرنے سے پہلے اپنے آپ سے سوال پوچھوں گا کہ کیا وہ یہ کام خود کر سکتی ہے؟ کیا میں اس کے لئے کچھ ایسا  کرنے جا رہا ہو، جو اس کی روحانی ترقی میں مددگار نہیں ہو گا؟

نشئی کے اعمال کے قدرتی نتائج سے بچنے میں اس کی مدد کرنا نشے میں معاونت کا ایک اور طریقہ تھا۔ لہٰذا میں نے مزید ایک  تبدیلی کی۔ جب میں نے یہ اہم تبدیلیاں کیں تو میں نے مریضہ کے نشہ کرنے کے باعث مصیبت میں پڑنے کے بعد اس کی مدد کرنا چھوڑ دیا۔

جب میں نے میٹنگز میں جانا جاری رکھا تو میں نے سیکھا کہ میں اپنا عزت و وقار کم کیے بغیر میں اپنے رویے میں لچک لا سکتا ہوں۔ میرے لئے اسکا مطلب تھا کہ میرے پاس اپنی مرضی کا اختیار ہے اور جب مجھے صحیح لگے تو میں اپنا ارادہ بدل سکتا ہوں۔

اس سوچ اور روحانی ترقی نے مجھے آرام اور سکون دیا ہے کیونکہ اس نے مجھے دکھایا کہ میں اپنی زندگی کنٹرول کر سکتا ہوں۔ میں اپنے لئے اچھی تبدیلیاں لا رہا ہوں۔


میں نشے کے مریض کی مدد کر سکتا ہوں، جب مجھے لگے کہ ایسا کرنا درست ہوگا، اورمجھے محسوس ہو کہ میں یہ کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے سیکھا کہ میں مریض کو گھٹن زدہ کیے بغیر اسکے کیساتھ محبت کر سکتا ہوں۔

مگر یہ سیکھنا سب سے اچھا لگا کہ مجھے ہر اس شخص جس سے میں محبت کرتا ہوں کے ساتھ رہنے کی ضرورت نہیں، نہ ہی اس وقت اپنے آپ کو قصوروار سمجھنے کی ضرورت ہے جب میں ان کے لئے وہ کچھ نہ کرو جو وہ خود اپنے لئے کچھ کر سکتے ہیں۔

آج کی سوچ:

میں جاننا چاہتا تھا کہ مجھے مریض کو اس کی بالاتر طاقت کے حوالے کرنے سے پہلے خود کتنا کام کرنا ہو گا۔ بلآخر جو بات مجھے سمجھ آئی وہ یہ تھی کہ میں جانے دے سکتا ہوں اور جن سوالات کے جواب میں تلاش کر رہا ہو وہ اس وقت مجھے مل جائیں گے جب میں انہیں قبول کرنے کے لیے تیار ہوں گا۔


’’بعض اوقات رستہ صاف دکھائی نہیں دیتا۔ اس وقت ہمیں رُک جانا چاہئیے، رہنمائی مانگنی چاہیئے اور آرام کرنا چاہئیے۔ یہی وقت ہوتا ہے جب خوف کو جانے دینا چاہیئے۔ انتظار کرو۔ اُلجھن اور بُرے حالات کو محسوس کرو اور پھر جانے دینا دو۔ رستہ خود بخود دکھائی دے گا۔ اگلا قدم ظاہر ہو جائے گا۔‘‘ ~ میلوڈی بیٹی

جمعہ، 21 اگست، 2015

رحمدلی


میں نے زندگی کے تجربات سے دوسروں کی نیکی کے بارے شک اور سوال کرنا ہی سیکھا۔ میرا خیال تھا کہ جب بھی کوئی مجھ سے محبت یا نیکی کرے گا تو مجھے اس کی قیمت ادا کرنا ہو گی۔ میں ایسے خاندان میں پلی بڑھی جہاں نشہ استعمال کیا جاتا تھا اور مجھے رحمدلی اور قربت کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔ میں دوسروں کے قریب نہیں جا سکتی تھی کیونکہ میں اس کی قیمت ادا نہیں کرنا چاہتی۔

جب میں نے اپنے خاندان سے باہر تعلقات بنانے کی کوشش کی، تو میں نے اپنے اہل خانہ جیسے لوگوں کا ہی انتخاب کیا اور میرے تعلقات ناکام ہوئے۔ پھر میں نے اپنے آپ کو تکلیف سے بچانے کے لئے ہر طرح کے تعلقات میں اپنے آپ کو پابند کرنا چھوڑ دیا۔

وقت کے ساتھ مجھے احساس ہوا کہ میری حکمت عملی میری صحت کے لئے خطرناک بنتی جا رہی ہے اور میں حقیقت میں زندگی نہیں جی رہی ہوں۔ میں خود ساختہ اکیلے پن سے وابستہ ہو چکی تھی۔ میں تنہا تھی کیونکہ مجھے جینے کا یہی طریقہ محفوظ لگتا تھا۔ میں نے فیصلہ کیا تھا کہ میں دوبارہ کسی کو اجازت نہیں دوں گی کہ وہ مجھے دکھ پہنچائے۔ کچھ عرصہ بعد مجھے احساس ہوا کہ جینے کا یہ طریقہ بھی غلط ہے۔

جب میں نے اپنے اوپر زیادہ غور کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ مجھے مدد کی ضرورت ہے۔ میں نے خطرہ مول لیا اور نارانون میٹنگز میں جانا شروع کر دیا۔ میرا رویہ یہ تھا کہ میٹنگز میں تھوڑا وقت گزار کے دیکھو۔ مجھے انتظار کرکے نارانون کے بحالی کے اقوال کی سچائی کو دیکھنا تھا، اور زیادہ اہم بات یہ دیکھنا تھا کہ مجھے اس کی کیا قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

مجھے نئی زندگی کی ضرورت تھی؛ میری پرانی زندگی اور اس کے طور طریقے ناکام ہو گئے تھے۔ مجھے تنہا چھوڑے جانے اور مسترد کیے جانے کےخوف سے نجات کی ضرورت تھی۔

نارانون پروگرام میں مجھے ایک نیا پیار کرنیوالا خاندان ملا، جو مجھ سے غیرمشروط رحمدلی سے پیش آتا ہے۔ میں اس مہربانی کو کھُلے دل سے قبول کرنا سیکھ رہی ہوں۔ میں ایسا ہی غیر مشروط پیار دینا بھی سیکھ رہی ہوں۔ میرا خیال ہے کہ حقیقی پیار اور رحمدلی وہ تحفے ہیں جو صرف بانٹنے سے ہی بڑھتے ہیں۔

آج کی سوچ:

مجھے ایک بھرپور، خوشگوار اور صحتمندانہ زندگی جینے کے لئے دوسروں سے تعلق رکھنے کی ضرورت ہے۔ نارانون پروگرام نے مجھے دکھایا ہے کہ حقیقی نیکی اور محبت کے ساتھ ہمیشہ کوئی قیمت جُڑی نہیں ہوتی۔

’’حقیقی محبت بےلوث پیار ہے۔ یہ بدلے میں کچھ نہیں چاہتا۔ یہ مشروط نہیں ہوتا۔ یہ کوئی حساب نہیں رکھتا۔ یہ بہت ہی کم دیا جاتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ چوٹ کھائے ہوئے ، نہ چاہے جانے کے احساس، محبت کی شدید چاہت اور بے لوث محبت کرنے کے قابل نہ ہونے کی وجہ سے پروگرام میں شامل ہوتے ہیں لیکن ہم یہ سب سیکھ رہے ہیں۔‘‘ ~ ہر دن ایک نئی شروعات ۔ خواتین کے لئے روزانہ کا مراقبہ
(Each day a New Beginning—Daily Meditations for Women)  

جمعرات، 20 اگست، 2015

لاتعلقی اختیار کرنا، پیار سے

میرا خیال ہے کہ میں نے آخرکار نارانون کے ایک اہم مقصد کو سمجھنا شروع کردیا ہے کہ میں قبول کروں کہ میرا منشیات یا نشے کے مریض پر کوئی اختیار نہیں ہے، اور اس حقتقت کا اعتراف  کہ میری زندگی میرے ہاتھوں سے نکلتی جا رہی ہے۔ میرا سوال ہے: ’’مجھے آگے کیا کرنا ہے؟‘‘

پروگرام کے طریقوں پرعمل کرتے ہوئے میں نے ان مسائل کا سامنا کرنے کے نئے انداز سیکھے۔ ان میں سے ایک ’لاتعلقی‘ ہے۔ بس جانے دو! یہ سننے میں بہت آسان اور سادہ لگتا ہے۔

مجھے احساس ہوا ہے کہ نشے کی عادت مریض کو ایک چالاک انسان بنا دیتی ہے، جو کھوکھلے وعدوں سے بھرا ہوتا ہے مگر اس کی زندگی میں کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ یہ سوچ میرے اندر خوف کی لہر دوڑا دیتی ہے۔ آج میں یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ بھی کر لوں مگر اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ اس ایک احساس سے مجھے لگا کہ مجھ پر سے ذمہ داری کا بوجھ ہٹ گیا ہو۔

پروگرام کے پیغام سے، اپنے گروپ اور نارانون کے اقدام سے میں نے سیکھا کہ نشئی کو اس کی زندگی کا اختیار دیتے ہوئے محبت سے علیحدہ ہو جاؤ۔ اُسے اپنی زندگی کے فیصلے کرنے اور اپنے فیصلوں کے نتائج بھگتنے کی ضرورت ہے۔

میں اپنی ضرورت کے تحت حدود مقرر کرکے نشے کے مریض سے پیار سے لاتعلقی اختیار کر سکتا ہوں۔ میں نشئی سے محبت کر سکتا ہوں لیکن اس کے نشے کی عادت سے لاتعلقی اخیتار کرسکتا ہوں۔

میں میٹنگز میں واپس آنا اور اقدام پر عمل کرنا جاری رکھ سکتا ہوں جب تک وہ مجھے فائدہ دینا نہ شروع کر دیں۔

آج کی سوچ:

اب میں دوسرے لوگوں کو اُن کی ذمہ داریاں قبول کرنے کی اجازت دیتا ہوں، اور محبت کے ساتھ علیحدہ ہونے کی اہمیت کو سمجھتا ہوں۔

’’تمہاری کامیابی اور خوشی تمہارے اندر موجود ہے۔ خوش رہنے کا عہد کرو۔ تمہاری مسرت اور تم مل کر مشکلات کے خلاف ایک  نا قابلِ تسخیر قوت بن سکتے ہو۔‘‘ ~ ہیلن کیلر

بدھ، 19 اگست، 2015

نشے کے عادت سے نمٹنا

مجھے یقین ہے کہ کسی ایسے فرد نے کالر آئی ڈی کی سہولت ایجاد کی ہو گی جو نشے کے عادی مریض کے ساتھ رہتا ہو گا۔ نارانون پروگرام میں شمولیت سے پہلے مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری بھی کوئی مرضی ہے۔ میں یہ سمجھتی تھی کہ مجھے ہر وہ کام کرنا ہے جو مجھے کہا جائے۔ ایسا نہ کرنے کا مطلب یہ تھا کہ میں خود غرض اور مطلبی تھی۔

میں یونیورسٹی میں تھی جب مجھے اپنے نشے کے عادی بھائی کی ’کلیکٹ کالز‘ موصول ہوتی تھیں جس کا بل مجھے ادا کرنا ہوتا تھا۔ وہ بینک میں ڈاکے ڈال کراپنی منشیات کی عادت کو پورا کرتا تھا۔ وہ پکڑا گیا اور جیل چلا گیا۔ میں سمجھتی تھی کہ  مجھے اس کی تمام کالز سننی چاہیئں، چاہے وہ دن یا رات کے کسی بھی وقت میں آئیں، چاہے میری زندگی میں کچھ بھی ہو رہا ہو۔

میں نے نارانون پروگرام میں جانا شروع کیا تو میں نے سیکھا کہ میری بھی کوئی مرضی ہے۔ میں اپنی دیکھ بھال کر سکتی ہوں اور یہ کر سکتی ہوں کہ اپنے بھائی کے حالات کے لیے خود کو ذمہ دار محسوس نہ کروں۔

اپنی دیکھ بھال شروع کرنے کا ایک طریقہ یہ تھا کہ میں نے کالر آئی ڈی کی سہولت حاصل کی۔ میں نے ایسا اس لئے کیا تاکہ یہ دیکھ سکوں کی کون کال کر رہا ہے اور فیصلہ کر سکوں کہ مجھے نشئی کی کال سننا ہے یا نہیں۔ میں نے یہ اپنے لئے کیا اور یہ بات غیر اہم ہے کہ نشئی یہ جانتا تھا یا جانتا ہے کہ میں آنے والی کالوں کی چھان بین کرتی ہوں۔

نارانون پروگرام نے مجھے سکھایا کہ مجھے اپنی مرضی استعمال کرنے کا حق ہے۔ میں یہ فیصلہ کر سکتی ہوں کہ میں مریض کی مدد کرنا جاری رکھوں یا فیصلہ کر سکتی ہوں کہ اس کی مدد نہ کروں۔

آج کی سوچ:

میرے پاس فیصلے کا اختیار ہے۔ میں اپنے اعمال اور فلاح و بہبود کی ذمہ داری لے سکتی ہوں۔ میں دوسروں کے لئے وہ کام کرنے کی پابند نہیں ہوں جومیں نہیں کرنا چاہتی یا اگر وہ کسی بھی طرح میرے لئے نقصان دہ ہوں۔ اپنا خیال رکھنا خود غرضی نہیں ہے۔ آج میں نے سب سے پہلے اپنی بالاتر طاقت، پھر خود کو اور پھر دوسروں کو رکھتے ہوئے اپنی زندگی جینے کا انتخاب کیا ہے۔

’’مشکل وقت میں سب سے اہم بات اپنا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ تبھی ہم بہت خراب حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو پاتے ہیں؛ تبھی دوسروں کی مدد کر پاتے ہیں جب ہم اپنا خیال رکھیں۔‘‘ ~ میلوڈی بیٹی 

منگل، 18 اگست، 2015

میری کوئی کوشش نشے کے مریض کے فیصلوں میں تبدیلی نہیں لا سکی

میں نے شادی کے آٹھ سال بعد اپنے خاوند کو اس وقت چھوڑ دیا جب اس نے شراب کے نشے میں دھت ہو کر غصے میں میری بازو توڑ ڈالی۔ اُسے گھریلو تشدد کی سزا میں قید ہوئی اور مجھے بارہ اقدام کے پروگرام پر عمل کرنے کا حکم ملا۔

میں اس کے لئے تیار نہیں تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ میٹنگز میں ہر کوئی عقل سے پیدل ہے۔ میں کسی کے نشے کے استعمال کو کس طرح نظر انداز کر سکتی ہوں؟ یہ لوگ پاگل ہیں یا کیا ہیں؟

پیچھے مُڑ کر دیکھتے ہوئے میں یہ لازمی کہوں گی کہ میں صرف اپنی پسند کی چیزوں کو سنتی تھی اور باقی کو نظرانداز کر دیتی تھی۔ میں انکارکی حالت میں تھی اور اس لئے میں اپنا ایمانداری سے جائزہ لینے کے قابل نہیں تھی۔  

کچھ عرصہ بعد میری نوجوان بیٹی کے مسائل شروع ہو گئے۔ اُس نے میری گاڑی تباہ کردی، دو مرتبہ میرا بینک اکاؤنٹ خالی کر دیا اور گھر کی بہت سے چیزوں کو بیچ دیا۔  میں نے اُسے گھر سے باہر نکال دیا۔

اُس وقت اس نے رونا شروع کر دیا اور اعتراف کیا کہ وہ نشہ استعمال کرتی تھی۔ میں جلد ہی حرکت میں آ گئی۔ میں اپنی بچی کو ٹھیک کرنا چاہتی تھی، اس لئے خود کو بہترین ماں سمجھتے ہوئے میں نے بحالی کا ایک مرکز تلاش کر لیا۔ اس مقصد کے لیے درکار رقم حاصل کرنے کے لیے میں نے پہاڑوں کو ہلانے جیسے کام شروع کر دیے۔

میں نے اپنے بینک سے استدعا کی کہ وہ میری گروی رکھی ہوئی چیزوں کا رہن بڑھا دے۔ مجھے پرواہ نہیں کہ میں یہ بوجھ اٹھا بھی سکتی ہوں یا نہیں اور مجھے بالکل نہیں معلوم تھا کہ میں یہ رقم کیسے ادا کروں گی۔ یہ میرا فرض تھا کہ میں اپنی بچی کی مشکلات کو حل کروں۔

میری بیٹی اپنا علاج مکمل کروا کے باہر آ گئی اور اب ٹھیک چل رہی تھی۔ بحالی کے مرکز نے مجھے مشورہ دیا تھا کہ میں نارانون کی میٹنگز میں جاؤں۔ میں نے اس نصیحت کو نظر انداز کردیا۔ میرے خیال میں میرے اندر کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ آخر میں ایک محبت کرنے والی وفادار ماں تھی۔

چھ ماہ بعد میں تب منہ کے بل گری جب میری بیٹی نے دوبارہ نشہ کرنا شروع کر دیا۔ میری دنیا تلپٹ ہو گئی۔ مایوسی میں آخرکار میں نے نارانون سے مدد مانگی۔ میں اس سے زیادہ پرزور انداز میں یہ بات نہیں کہہ سکتی کہ نارانون ہی میری نجات تھی!

مجھے میٹنگز میں جاتے ہوئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ مجھے پتا چلا کہ میری سب سے چھوٹی بیٹی بھی نشہ استعمال کرتی ہے۔ جو کچھ میں نے سیکھا تھا اور پروگرام کی مدد سے میں نے حالات کو بہت مثبت انداز میں سنبھالا۔   

آج کی سوچ:

اب میرا نقطۂ نظر پہلے سے بہتر ہے اس لیے میں لاتعلقی اختیار کر سکتی ہوں، جانے دے سکتی ہوں اور یہ قبول کر سکتی ہوں کہ میری کوئی کوشش نشے مریض کے  فیصلوں میں تبدیلی نہیں لا سکتی۔


’’ہم واقعی صحتیاب ہوتے ہیں۔ آہستگی سے نئے انسان کے طور پر اُبھر کر سامنے آتے ہیں۔ تبدیلی واقع ہو رہی ہے۔‘‘ ~ نارانون نیلا کتابچہ