ہفتہ، 31 اکتوبر، 2015

اپنا ذہن بدلنا

جب میں نے یہ الفاظ سُنے کہ ’’میں ایک نشئی ہوں اور مجھے مدد کی ضرورت ہے‘‘ میری زندگی ڈرامائی انداز میں بدل گئی۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں نے جس شخص سے شادی کی، میرا اچھا دوست اور روح کا ساتھی، اتنا گہرا راز رکھتا ہوگا۔
تین دن بعد جب میں پہلی نارانون میٹنگ میں آئی تو میں غصے اور تلخی سے بھری ہوئی تھی۔ میں خود کو ایک مظلوم کی طرح محسوس کررہی تھی اور اپنے شوہرکی بیماری کے بارے میں سوالات کے جواب شدت سے تلاش کر رہی تھی۔
میں وہ سب کچھ سیکھنا چاہتی تھی جو میں اس لت کوختم کرنے کیلئے کرسکتی تھی۔ مجھے احساس ہی نہیں تھا کہ میں اپنی زندگی کے جس سب سے اہم شخص کے بارے میں سیکھوں گی وہ میں خود ہوں۔
نارانون نے مجھے سکھایا کہ میں خود کو دوبارہ جانچوں کہ میں کیسی شخصیت ہوں۔ میں نے میٹنگز میں جاتے ہوئے پُرسکون محسوس کرنا شروع کر دیا، خصوصاً جب  وہاں لوگوں سے میری جان پہچان ہوگئی۔ مجھے محسوس ہوا کہ آخرکار میں نے ایک محفوظ جگہ پالی جہاں میں اپنے گہرے احساسات کے بارے میں بتا سکتی ہوں اور وہ محبت اور مدد حاصل کرسکتی ہوں جس کی مجھے ضرورت ہے؛ جہاں میں اپنے آپ کو کھوج سکتی ہوں اور ایک بہتر زندگی گزارنا سیکھ سکتی ہوں۔
ایک دن میٹنگ میں میں نے بتایا کہ میں اعتبار کے حوالے سے پریشان ہوں۔ میں نے اپنے شوہر پر مکمل طور اعتماد کھو دیا تھا۔ ایک ساتھی رُکن نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے اس کو بھی بالکل ایسا ہی مسئلہ درپیش تھا۔ اُس نے بتایا کہ اُس نے اس مسئلے کو یہ سوچ کر حل کیا کہ اُس کی مثبت سوچوں کے سچ ثابت ہونے کے بھی اتنے ہی امکانات ہیں جتنے اس کے بدترین خدشات کے سچ ثابت ہونے کے تھے۔
میں نے اُس کا پیغام  سمجھ لیا اور اپنے شوہر کے مثبت پہلوؤں پر توجہ دینا شروع کر دی۔ اپنی مثبت سوچ کی وجہ سے میں اچھا محسوس کرنے لگی۔ میرے شوہر نے یہ خوفناک راز طویل عرصے سے چھپایا ہوا تھا مگر اپنے رویے میں تبدیلی کی وجہ سے میں نے یہ محسوس کرنے کی بجائے کہ میرے ساتھ دھوکہ ہوا ہے شکرگزار رہنا شروع کر دیا کہ میرے شوہر نے نشے کی بیماری کا سامنا کیا اور مدد مانگی۔
آج کی سوچ:
’’آج کے دن آج‘‘ اور’’چھوڑ دو اور خدا کو کرنے دو‘‘ میرے پسندیدہ اقوال ہیں۔ یہ مجھے اپنی مثبت سوچ کے ساتھ رابطے میں رہنے میں مدد کرتے ہیں۔ نارانون مجھے میری بالاتر طاقت کے ساتھ رابطہ رکھنے میں مدد کرتی ہے جس کا مجھے اس پروگرام میں آنے سے پہلے کوئی تصور نہیں تھا۔

’’میرے وقت کی سب سے بڑی دریافت یہ ہے کہ انسان اپنے ذہنی رویوں کو بدل کر اپنی زندگیاں بدل سکتے ہیں۔‘‘ ~ ولیم جیمز

جمعہ، 30 اکتوبر، 2015

شئیرنگ

نارانون آنے سے پہلے میں ہمیشہ اپنے اندرونی احساسات کو چھُپاتی تھی۔ میں نے انہیں کبھی بھی سب کے سامنے نہیں لانا چاہا۔ مجھے لگتا تھا کہ دوسروں کے سامنے اپنی سوچ بیان کرنے سے وہ معمولی بن جاتی ہیں۔

تاہم جو درد میں محسوس کرتی تھی وہ حقیقی تھا اور جذباتی زخم جن کی وجہ سے یہ درد تھا شدید گہرے تھے۔ اپنی سوچوں اور احساسات کو چھُپانے سے صرف میرا درد بڑھا اور اس نے بحالی میں میری کوئی مدد نہیں کی۔

جب میں پہلی بار نارانون میں آئی تو میں نے بہت ہی مختصر شئیرنگ کی۔ اپنی بات کرنے کی بجائے میں نے صرف دوسروں کو سُنا۔ جب میں نے دوسرے ارکان کو ان کے نشئی خاندانوں کے مسائل بیان کرتے سُنا جو میرے مسائل جیسے تھے تو میری جرآت بڑھی اور میں نے خود کو محفوظ محسوس کیا۔

جب میں نے پہلی بار اپنے احساسات کو بیان کیا تو یہ واضح تھا کہ اپنے خوف، پریشانیوں اور مسائل کو بیان کرنے سے مجھے مدد ملی۔ ایک مختصر پانچ منٹ کے بیان سے میں نے محسوس کیا کہ میرے کندھوں سے پانچ پاؤنڈ کا وزن اُتر گیا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ دوسرے لوگ میرے مسائل سمجھ گئے۔

میں ابھی بھی اکثر پریشان ہو جاتی ہوں اور میری منتشر سوچوں میں ہمیشہ ربط نہیں ہوتا، لیکن دوسرے ارکان میری بات صبر کے ساتھ سُنتے ہیں۔ کئی سالوں تک بات چیت نہ کرنے کے بعد مجھے اب زیادہ مشق کی ضرورت ہے کیونکہ میرے لئے اپنی سوچیں بیان کرنا بھی مشکل ہے۔ جب مجھ مشکل پیش آ رہی ہو تو میں پہلے انہیں لکھ لیتی ہوں۔

نارانون میں آنے سے پہلے میری زندگی بدنظمی کا شکار تھی۔ مجھ میں اپنے اردگرد مثبت اور اچھی چیزوں کو بھول جانے کی عادت تھی۔ جب بھی ایسا ہوتا میں میٹنگ میں جاتی ہوں اور فیلوشپ کی پیار بھری مدد حاصل کرتی ہوں۔

آج کی سوچ:

عقل کی باتیں کہنا میری بہترین صلاحیت نہیں، لیکن مجھے دوسروں سے اپنی بات کہنے سے زخم بھرنے کے اثر کا اندازہ ہوا۔ جس وقت میں سب سے زیادہ اپنے مسائل میں کے پیچھے چھُپنا چاہتی ہوں اُسی وقت مجھے سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے کہ میں کسی دوسرے سے اپنی بات بیان کروں۔


’’تم اس مقام پر پہنچ جاؤ گے جب تمارے اندر کے خوفناک آسیب چھوٹے سے چھوٹے ہوتے چلے جائیں گے اور تم بڑے سے بڑے ہوتے جاؤ گے۔‘‘ ~ آگسٹ وِلسن

جمعرات، 29 اکتوبر، 2015

بڑے ہونا

نارانون کے اجتماعی تجربات نے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے اور اپنی خوبیوں کو پہچاننے میں میری مدد کی۔ چوتھے قدم پر کام کرنا مشکل ہے لیکن ترقی کے اس عمل میں یہ بہت ضروری ہے۔
میرے کردار کے نقائص نے مجھے کافی لمبے عرصے تک غلام بنائے رکھا۔ میں اپنے پیاروں کے بُرے رویوں کو برداشت کرتی کیونکہ میں مناسب حدود کا تعین کرنے کے قابل نہیں تھی۔ میں نے مظلوم کا کردار اپنایا اور دوسروں پر الزام تراشی اور انہیں شرمندہ کرنے کا کھیل چُنا۔ یہ کام مجھے تھکا دیتا اور میری ساری توانائی ضائع کر دیتا تھا۔
میں تبدیلی کے لئے تیار ہو گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے اپنے سوالوں کی تلاش کے لیے اپنے اندر جھانکنا تھا۔ اب وقت آگیا تھا کہ میں خودترسی چھوڑوں اور ’’میں ہی کیوں؟‘‘ کہنا بند کردوں۔
ماضی کی غلطیاں میری شخصیت کا تعارف نہیں۔ وہ میرے سیکھنے کے عمل کا حصہ تھیں۔ میرا احساسِ جرم اور شرمندگی صرف اس وقت مجھے ترقی کرنے سے روک سکتے ہیں جب میں انہیں اجازت دوں۔ یہ احساسات مجھے اس وقت تک پریشان یا کنٹرول نہیں کر سکتے جب تک میں بحالی کے ’ایمانداری‘ کے طریقہ کار کو استعمال کرتی رہوں۔
اب مجھ میں اتنی جرآت ہے کہ میں اپنی کمزوریوں کو دیکھوں، ان کے بارے میں بات کروں اور ان پہلوؤں کو بہتر بناؤں۔ میری توانائی بحال ہو رہی ہے۔ میرے کردار کے نقائص بدل کر اب میری شخصیت کا خاصہ بن رہے ہیں۔ میرے دردناک ماضی کی طرح اب صحت مند خدوخال بھی میری ذات کا حصہ ہیں۔
میں سیکھ رہی ہوں کہ کس طرح نئی سوچ کے ساتھ اپنی زندگی میں توازن پیدا کروں۔ زندگی کئی دھاگوں سے بنی ایک تصویر ہے۔ وہ زندگی کی تصویر مکمل کرتے ہیں جو مکمل طور پر میری ہے۔ اس کے ذریعے میں نے اپنی صلاحیتوں کو پہچانا۔ میں ٹھیک ہوں۔ خدا نے اچھا کام کیا۔ میں اپنے آپ میں ہی شاہکار ہوں۔ میں دوبارہ سے خود کو مکمل محسوس کرتی ہوں، تقریباً مکمل۔ یہ ایک عمل ہے۔
آج کی سوچ:
بحالی کا مطلب روحانی ترقی پانا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس پر کام شروع کیا جائے۔

’’اگر تم خود سے نہیں پوچھو گے کہ تم کیا جانتے ہو تو تم دوسروں کو ہی سُنتے رہو گے اور تبدیلی نہیں آئے گی کیونکہ تم اپنا سچ تو سُن ہی نہیں سکوں گے۔‘‘ ~ سینٹ بارتھلومیو

لاتعلقی

میری پہلی نارانون میٹنگ پر لوگوں کو لاتعلقی اختیار کرنے کا کہا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ یہ لفظ مجھے کتنا غیرمانوس لگا تھا۔ مجھے یاد ہے میں نے سوچا کہ ’’میں یہ کیسے کرسکتی ہوں؟‘‘ جب میں میٹنگ سے اٹھ کر آئی تو مجھے معلوم تھا کہ مجھے لاتعلقی کے بارے میں مزید جاننے کی ضرورت ہے۔ میں کچھ حد تک قائل ہوگئی تھی کہ شاید یہی میرے سوالوں کا جواب ہو سکتا ہے جسے میں تلاش کررہی تھی!

میں نے لاتعلقی اختیار کرنے کے بارے میں پڑھنا شروع کر دیا۔ شروع میں یہ کام مجھے سخت لگا۔ مجھے نشئی کو خود اپنی کی دیکھ بھال کرنے دینا چاہیئے۔ نشئی کو اس کے منہ کے بل گرنے دینا ہے؟ اس کو میری اشد ضرورت ہے، میں کیسے مدد سے رُک سکتی ہوں اور اسے اس کے مسائل کا سامنا کرنے دے سکتی ہوں۔ وہ یقیناً ٹوٹ جائے گی۔ میں یہ کیسے کر سکتی ہوں؟ ایسے تمام سنسنی خیز سوال میرے دماغ میں اُبھر آئے۔

اب مجھے لگتا ہے کہ میں بھی اُتنی ہی بیمار تھی جتنی کہ نشے کی مریضہ تھی۔ میری بیماری اس کی مدد کرنا اور اس کے لئے زندہ رہنا تھی جبکہ میں اس کے ڈرامے میں اپنی زندگی نظر انداز کررہی تھی۔ میں اس کی مدد نہیں کر رہی تھی؛ میں اسے مسائل کو دیکھنے اور انہیں خود حل کرنے سے روک رہی تھی۔ میں نشئی کی خدا بن کر اس کے فیصلے کر رہی تھی تاکہ میری مرضی کے نتائج مجھے حاصل ہوں لیکن ضروری نہیں کہ نشئی کو ان کی ضرورت ہو۔

تب سے میں نے نشئی سے لاتعلقی اختیار کرنا سیکھا اوراب میں بے حد پُرسکون زندگی گزار رہی ہوں۔ میں ہر روز خود کو کہتی ہوں کہ مجھے اس کے ڈرامے کا حصہ نہیں بننا۔ میں نے اپنی کچھ حدود متعین کی ہیں اور وہ ان کا احترام کرتی ہے۔ وہ ابھی تک انکاری ہے کہ منشیات کا استعمال ایک مسئلہ ہے لیکن مجھے اُمید ہے کہ ایک دن وہ اسے محسوس کر لے گی۔ دوسروں کا خدا بننے کی کوشش کرنا میری ذمہ داری نہیں ہے۔

آج کی سوچ:

نشئی کو اپنی زندگی کے مسائل سے خود نمٹنا چاہیئے، جیسا کہ ہم خود اپنی زندگیوں کا خیال رکھتے ہیں۔ اگر وہ اس کا تجربہ نہیں کریں گے تو شاید وہ کبھی نہ جان سکیں کہ کوئی مسئلہ ہے۔ یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں اپنی اور اپنی زندگی کی دیکھ بھال کروں۔ لاتعلقی اختیار کرنے سے میں یہ سب محبت کے ساتھ کرسکتی ہوں۔


’’زندگی کو بہت زیادہ سنجیدگی سے نہ لو؛ ورنہ تم اسکو زندہ دلی سے نہیں گزار سکو گے۔‘‘ ~ البرٹ ہیوبرڈ

منگل، 27 اکتوبر، 2015

یہ اس وقت کام کرتا ہے جب تم اس پر کام کرتے ہو

میں جتنی بھی نارانون کی میٹنگز میں حاضر ہوئی ان کا اختتام سکون کی دعا اور حوصلہ افزائی کے کچھ اجتماعی الفاظ کیساتھ ہوا: ’’واپس آتے رہنا؛ یہ اس وقت کام کرتا ہے جب تم اس پر کام کرتے ہو، اس لیے کام کرتے رہنا؛ تم اس قابل ہو۔‘‘
واپس آتے رہنا۔ یہ وہ الفاظ تھے جو مجھے اپنی پہلی میٹنگ میں یاد رہ گئے۔ شروع میں میں نارانون میٹنگ میں اپنے لیے نہیں آتی تھی۔ میں اس لیے آتی تھی کیونکہ میں اپنی زندگی میں موجود نشئی شوہر کو تبدیل کرنا چاہتی تھی۔ ایک خیال جو مجھے پسند نہیں آیا اور نہ ہی میں نے اسے قبول کیا یہ تھا کہ مجھے خود کو تبدیل کرنا ہے۔
مجھے لگتا تھا کہ میرے کردار میں کوئی نقائص نہیں تھے اور یقیناً میں مسئلے کی ذمہ دار نہیں تھی۔ میں میٹنگز میں جا کر سنتی رہی اور حیرت انگیز طور پر میں نئی چیزیں سیکھتی رہی۔
دوسرے ساتھیوں سے ان کے تجربات، استحکام اور اُمید کے بارے میں سُننے سے میں نے دو چیزیں سیکھیں۔ ایک تو یہ کہ میں تنہا نہیں ہوں اور دوسرا یہ کہ میں کردار کے نقائص سے پاک نہیں۔
اب میں جانتی ہوں کہ میں میٹنگز میں جاسکتی ہوں اور اپنے غصے اور غیض وغضب کے جذبات کے بارے میں بتا سکتی ہوں۔ یہاں پر لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں۔ وہ میرے بارے میں رائے قائم نہیں کرتے۔
 پہلی بارمجھےغصہ کرنے کی اجازت ملی اور مجھے اس کو چھپانے یا اس پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک دفعہ جب غصہ گزر جاتا ہے تو میں ان چیزوں کو دیکھنا شروع کرسکتی ہوں جنہیں میں بدل سکتی ہوں، یعنی خود میں۔
میں نارانون میں اپنے زخم بھر سکتی ہوں اوراپنی بحالی کو پا سکتی ہوں، اگر میں یہاں واپس آتی رہوں اور اس پر کام کرنا جاری رکھوں، کیونکہ میں اس کےقابل ہوں۔
آج کی سوچ:
میں جانتی ہوں کہ میں اکیلی نہیں ہوں۔ میرے پاس نارانون فیلوشپ کی مدد ہے۔ میرا کام صرف واپس آتے رہنا ہے۔
’’چونکہ کوئی چیز ’وارد‘ نہیں ہوتی، کوئی معجزاتی دن نہیں آتا جب ہم اچانک سکون حاصل کرلیں اور ہمیشہ کے لئے تناؤ یا پریشانی سے آزاد زندگی گزاریں، اس لیے ہم میں سے اکثر لوگ آخرکار صبر کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ ہم نے پایا کہ ہم بحالی کے عمل پر اعتماد کر سکتے ہیں کہ یہ ہمیشہ ہمیں آگے لے جائے گا، اگر ہمیں کئی بار ایسا محسوس ہو کہ ہم پیچھے کی طرف جا رہے ہیں تب بھی۔‘‘ ~ ہاؤ ایل انون ورکس (ایل انون کیسے کام کرتی ہے)

پیر، 26 اکتوبر، 2015

جیل میں دسواں قدم

نارانون پروگرام میں گزارے وقت نے مجھے ایک جھوٹا احساسِ تحفظ دیا۔ ہر کسی نے مجھے بتایا کہ میں کتنی اچھی طرح پروگرام پر کام کر رہی تھی۔ میں نے قبول کر لیا کہ میں اپنے شوہر کو نہیں بدل سکتی، لیکن میں ابھی بھی اس کی مدد کرنا چاہتی تھی۔

میں ابھی بھی سوچتی تھی کہ میں نشئی کی بحالی میں لازمی حصہ ہوں۔ میں نے تھوڑی تھوڑی مدد کبھی کسی کام میں کچھ یہاں اور کچھ وہاں کرنا شروع کردی لیکن میرا پروگرام میرے ساتھ تھا۔

مجھے محسوس ہوا کہ ’’اس بار میں ٹھیک ہوں، میں جانتی ہوں میں کیا کر رہی ہوں، اور میں اس سے نمٹ سکتی ہوں۔ یہ وقت مخلتف ہے۔‘‘

ایک شام میں نے گھر فون کیا اور نشئی نے فون کا جواب دیا۔ چند ہی منٹوں میں مجھے معلوم ہو گیا کہ اُس نے منشیات کا استعمال کیا تھا۔ میں جلد ہی دفتر سے اٹھی اور اُس کا سامنا کرنے کیلئے فوراً گھر واپس گئی۔

یہ سامنا جلد ہی باہمی جسمانی تصادم میں بدل گیا۔ نشئی نے میری گاڑی لے جانے کی کوشش کی اور میں نے پولیس کو فون کر دیا۔ جب پولیس آئی تو ہم نے اپنی اپنی کہانی بتائی اور ہم دونوں کو جیل لے جایا گیا۔

اس وقت مجھے پروگرام پر کام کرتے ہوئے ایک سال ہو گیا تھا اور مجھے لگا کہ میراردعمل میرے اختیار میں ہے۔ میں ان نتائج سے بچنے کیلئے پروگرام میں سیکھے ہوئے کسی بھی طریقہ کار کو استعمال کر سکتی تھی۔ میرے پاس اُس رات سوچنے کا کافی وقت تھا۔

اس وقت میں نے وہی کیا جو میرے خیال میں میرا پہلا ایماندارانہ دسواں قدم تھا: میں نے تسلیم کیا کہ میں اس وقت جیل کی کوٹھری میں ہوں، نشئی کی وجہ سے نہیں، جو میرے ساتھ والی کوٹھری میں موجود تھا، بلکہ اپنے غیرعقلمندانہ اعمال اور ردعمل کی وجہ سے یہاں پہنچی ہوں۔ میں اپنے نتائج کیلئے خود ذمہ دار تھی۔

آج کی سوچ:

بحالی ایک عمل ہے۔ میں شاید کبھی بھی مکمل بہتر نہ ہوں۔ اگر میں ایک ایماندار، کھُلے اور رضامند ذہن کے ساتھ چیزوں کو نئے انداز میں کرنا جاری رکھوں تو میں ہر روز آگے بڑھنا سیکھ سکتی ہوں۔


’’انکی مدد کرو کہ وہ اپنی ناکامی کو اپنی قابلیت کی پیمائش کے طور پر نہیں لیں بلکہ ایک نئی شروعات کے موقع کے طور پر دیکھیں۔‘‘ ~ عمومی دعاؤؤں کی کتاب 

اتوار، 25 اکتوبر، 2015

خود آگہی

یہ ایک فرضی خودکلامی ہم میں سے اُن لوگوں کی ہو سکتی ہے جو نشے کے اثرات سے بحال ہو رہے ہوں:

’’میں‘‘ کون ہوں؟ ’’میں‘‘ جو’’اُن‘‘ کا خیال رکھتا ہوں۔ جب ایک بار’’وہ‘‘ ٹھیک ہو جائیں گے تو ’’میں‘‘ بہت بہتر ہو جاؤں گا۔ ’’میرے‘‘ لئے کہاں وقت ہوتا ہے جب ’’اُن‘‘ کیلئے بہت کام کرنے والا ہو؟ ’’وہ‘‘ ’’میری‘‘ تعریف نہیں کرتے؛ ’’وہ‘‘ ان اچھے کاموں کو نہیں دیکھتے جو ’’میں‘‘ ’’اُن‘‘ کیلئے کررہا ہوں۔ ’’میں‘‘ جانتا ہوں ’’انہیں‘‘ کس چیز کی ضرورت ہے، ’’انہیں‘‘ صرف سُننا چاہیئے۔ ’’وہ‘‘ سوچتے ہیں کہ ’’وہ‘‘ خود کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں، لیکن ’’میرے‘‘ بغیر ’’وہ‘‘ کہاں ہوں گے؟ ’’وہ‘‘ بار بار ایک جیسی غلطیاں کرتے رہیں گے اور ’’مجھے‘‘ ان کے پھیلائے ہوئے گند کو صاف کرنا پڑتا ہے۔ ’’میں‘‘ غلطیاں نہیں کرتا؛ ’’میں‘‘ بہت زیادہ ’’اُن‘‘ کی غلطیوں میں ہی مصروف رہتا ہوں۔ ’’وہ‘‘ سُنیں گے؛ ’’میں‘‘ ’’انہیں‘ بناؤں گا۔ ’’میں‘‘ کوشش کرنا ترک نہیں کرتا؛ ’’میں‘‘ ’’انہیں‘‘ بہتر بنانے کے لئے راستہ ڈھونڈ نکالوں گا۔ درد دور ہو جائے گا، تب ’’میں‘‘ تمام وقت خوف میں مبتلا نہیں رہوں گا۔ ’’وہ‘‘ دیکھ لیں گے کہ ’’میں‘‘ ’’اُن‘‘ سے کتنی محبت کرتا ہوں، ’’میں‘‘ نے ’’اُن‘‘ کے لئے کتنی قربانی دی ہے۔ تب ’’وہ‘‘ ’’مجھے‘‘ خوش کردیں گے، اور ہم سب بھی بہتر ہوجائیں گے۔


آج کی سوچ:

ہم شاید یہ سوچتے ہیں کہ اپنی زندگی کی ذمہ داریاں اُٹھانے سے زیادہ آسان دوسروں کے رویے کا شکار ہونا ہے۔ نارانون ہماری توجہ ہماری زندگی میں موجود نشئی سے ہٹا دیتا ہے اور اپنے آپ پر مرکوز کرواتا ہے۔ اپنے اندر جھانکنا اور جو بھی ہم سوچ اور محسوس کر رہے ہوں اس کی ذمہ داری لینا بہت خوفناک لگتا ہے۔ نارانون ہمیں ان سب کو دیکھنے کیلئے محفوظ ماحول اورہماری بڑھوتری کے لئے ہمیں ایک پیارا سا پروگرام دیتا ہے۔


’’ہر کوئی دنیا کو بدلنے کا سوچتا ہے لیکن کوئی بھی خود کو بدلنے کے بارے میں نہیں سوچتا۔‘‘ ~ لیو ٹالسٹائی

ہفتہ، 24 اکتوبر، 2015

حوصلہ افزائی

میں نے نارانون میں سیکھا ہے کہ نشئی کے ساتھ رہتے ہوئے اپنے آپ کو حوصلہ دینے کے بہت سے طریقے ہیں۔ جب میں میٹنگز میں جاتی ہوں، لٹریچر پڑھتی ہوں، اقدام پر کام کرتی ہوں اور اپنی بالاتر طاقت پر ایمان رکھتی ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں نے اپنی دیکھ بھال کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

مگر نشئی کا کیا کریں؟ اگر نشئی پروگرام میں نہ آنا منتخب کرلیتا ہے تو میں محسوس کرتی ہوں کہ میرے علاوہ کوئی نہیں جو اس کی حوصلہ افزائی کرے۔ میں جانتی ہوں کہ میں ایسا کچھ نہیں کر سکتی جو نشئی کو بدل ڈالے یا اس کے اندر تبدیلی کی خواہش پیدا کرے، لیکن میں تعمیری انداز میں اسکی حوصلہ افزائی کچھ اس طرح کرسکتی ہوں:

·       میں اُس کی زندگی کو کنٹرول کرنا یا چلانا بند کر سکتی ہوں۔ اُسے فیصلہ کرنا، گرنا، ناکام ہونا اور خود سیکھنے دے سکتی ہوں۔ شاید میرا اُسے اپنے کاموں کے نتائج سے بچانے کا مطلب ہے کہ اُسے اپنی پستی تک پہنچنے اور مدد مانگنے میں مزید لمبا عرصہ لگے گا۔
·       میں اُس پر یقین کر سکتی ہوں کہ وہ بحالی میں کامیاب ہوگا۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ مجھے جو بھی کہتا ہے میں اس پر یقین کروں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میرا مثبت رویہ اور توانائی اُس پر اثر کرے گی۔
·       میں اپنی توقعات کم رکھتی ہوں۔ بہت زیادہ توقعات کی بجائے میں یہ نوٹ کرتی ہوں کہ نشئی نے کہاں سے کہاں تک ترقی کی، ناکہ یہ کہ میری اس کی ترقی کے بارے میں کیا توقعات تھیں۔
·       میں اس کی کامیابیوں، پیش رفت اور ترقی پر اس کی زبانی حوصلہ افزائی کرتی ہوں۔ میں اچھی چیزوں کے لئے تعریف کرتی ہوں چاہے وہ چیزیں متوقع ہو یا معمولی۔
·       میں یقین رکھتی ہوں کہ بالاتر طاقت نشئ کی دیکھ بھال کرے گی اور اسی وجہ سے میں نشئ کی بحالی کے عمل میں مداخلت نہیں کرتی۔

آج کی سوچ:

نشئی کی چند ایسے طریقوں سے حوصلہ افزائی کے ذریعے میں نشئی کی بحالی کے عمل میں رکاوٹ نہیں بنتی اور اپنے آپ کو اس جھوٹی ذمہ داری کہ شاید میں نشئی کو منشیات سے پاک کرنے کوشش کرسکتی ہوں سے نجات دلا کر سکون اور اطمینان میں ہوں۔


’’محبت کرو اور حالات کو تنہا چھوڑ دو۔‘‘ ~ نارانون نیلا کتابچہ 

جمعہ، 23 اکتوبر، 2015

اپنی دیکھ بھال

میں نے پہلی بار نارانون میٹنگ میں اپنی دیکھ بھال کے بارے میں سُنا۔ مجھے نہیں سمجھ آیا کہ اپنی دیکھ بھال کرنے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ گھر پر بچپن میں مجھے سکھایا گیا تھا کہ مجھے ہمیشہ دوسروں کو ترجیح دینا چاہیئے، خصوصاً اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو۔ ان کی دیکھ بھال میری ذمہ داری ہے۔

مجھے بہت اچھا لگا کہ نارانون مجھے اپنی دیکھ بھال کے بارے میں سکھا رہی ہے۔ اپنی دیکھ بھال کا مطلب ہے کہ میں سب سے پہلے اپنے بارے میں سوچتی ہوں۔ جب میں ایسا کرتی ہوں تو میں ایک بہتر انسان بن جاتی ہوں اور دوسروں کی دیکھ بھال کے لئے میرے اندر زیادہ توانائی آ جاتی ہے۔

میں سوچتی تھی کہ اپنے سابقہ خاوند کی دیکھ بھال کرنا میری ذمہ داری ہے۔ نارانون کے ذریعے میں نے سیکھا کہ ایسا کرکے میں اپنے سابقہ شوہر کو اسکی ذمہ داریاں نبھانے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ اس دوران میرا پانچ سالہ بیٹا اپنا خود دھیان رکھتا تھا۔ یہ اس وقت تک چلتا رہا جب تک اس کی ایک اُستانی نے مجھے ایک طرف کرکے میری غفلت کے بارے میں نہیں بتایا جس کے بعد مجھے حقیقت نظر آئی۔ اس وقت میں نے مدد تلاش کی۔

ایک ماہر نے مجھے نارانون کے بارے میں بتایا۔ میں نے بعد میں اس کو فون کیا اور اس کا شکریہ ادا کیا۔  میں نے اپنے بیٹے کا اور اپنا خیال رکھنا شروع کردیا۔ اب گیارہ سال بعد میری زندگی میں ایک اور بیٹا اور ایک منگیتر ہے اور چیزیں بہت مختلف ہیں۔ میں اب بھی اپنا خیال رکھتی ہوں، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب ایسا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

آج کی سوچ:

اب میں جب بھی کام سے گھر واپس آتی ہوں تو سیدھا باورچی خانے میں جانے کی بجائے میں اپنے کمرے میں جاتی ہوں اور تھکن اُتارتی ہوں۔ جب میں صبح اُٹھتی ہوں تو کسی سے بھی بات کرنے سے قبل اپنی بالاتر طاقت سے بات کرتی ہوں۔ میں ورزش کرتی ہوں اور اپنا لٹریچر روزانہ پڑھتی ہوں۔

’’اگر مجھے اپنے ہمسائے کے ساتھ بھی ایسے ہی محبت کرنی چاہیئے جیسی میں اپنے ساتھ کرتا ہوں تو پھر مجھے اپنے ساتھ محبت بھی اُتنی محبت کرنا بھی جائز ہے جتنی میں ہمسائے سے کرتا ہوں۔‘‘ نکولس ڈی شامفور

جمعرات، 22 اکتوبر، 2015

صرف آج کا دن

میں یہاں نارانون میٹنگ میں اکیلی بیٹھی ہوں اور تنہائی محسوس نہیں کررہی ہوں۔ میں نے چیک کیا کہ لٹریچر پورا ہے، مقامی اخبار کے لئے ایک اطلاع لکھی، ’آج کی سوچ‘ پڑھی اور نشئی اور اسکے خاندان کیلئے رہنمائی کی کتاب کا ایک حصہ پڑھا۔

میں ان لوگوں کی بہت شکر گزار ہوں جو میری ضرورت کے وقت یہاں موجود ہوتے ہیں؛ اس لئے گروپ شروع کرنا بھی ایک طریقہ ہے جس سے جو میں نے یہاں سےحاصل کیا اسے واپس کر سکتی ہوں۔

مجھے اپنی پرانی عادتیں اور رویہ یاد ہیں۔ میرا مصروف دماغ ہمیشہ ایک وقت میں کئی چیزوں پر بہت کچھ سوچتا تھا۔

میں سوچتی تھی کہ بچے کہاں ہیں، کیا وہ سکول گئے تھے یا نہیں؟ کیا وہ وہاں لڑائی کر رہے تھے؟ کیا میرا شوہر منشیات استعمال کر رہا تھا؟ کیا وہ چوری چھُپے گھر میں داخل ہوا؟ کیا میرے بچے نشے میں تھے؟ کیا ان کا باپ انہیں منشیات استعمال کرتا ہوا پکڑ لے گا؟ پھر وہ کیا کریں گے یا کیا کہیں گے اور کل کیا ہوگا؟

آج نارانون میں میرا دماغ ایک ہی سمت میں آرام دہ حالت میں کام کر رہا ہے، بس آج کے دن کے لیے۔

یہ جان کر بہت اطمینان محسوس ہوتا ہے کہ مجھے دوسروں کیلئے فیصلے نہیں کرنے۔ میں دوسروں کے اعمال یا اس بات کی ذمہ دار نہیں ہوں کہ وہ نشہ استعمال کرنا چاہتے ہیں یا اس سے پاک رہنا۔

بعض اوقات میں سوچتی ہوں کہ میرے لئے یہ کہنا آسان ہے کیوں میرے خاندان کے تمام افراد نشے سے پاک ہیں۔ پھر میں یہ سوچنا شروع کر دیتی ہوں کہ اگرایسا نہ ہو تو پھر میں حالات سے کیسے نمٹوں گی۔ ایک اچھے دوست نے مجھے یاد دلایا کہ ’’بس آج کا دن ۔۔۔۔ اس لئے پریشان نہ ہو کہ کل کیا ہو گا، کیونکہ وہ پریشانیاں شاید کبھی نہ آئیں جنہیں تم آج سوچتے ہو۔‘‘

آج کی سوچ:

میں خود کو پسند کرتی ہوں۔ آج میں نارانون میں خدمت کا کام سرانجام دے سکتی ہوں اور کنٹرول نہیں سنبھالتی۔ آج میں زندگی میں کچھ ایسا تلاش کرسکتی ہوں جس کے لئے میں شکرگزار ہوں۔ آج میں اپنے شوہر اور بچوں سے محبت کرتی ہوں۔ آج میں اپنے سے زیادہ طاقتور قوت پر یقین رکھتی ہوں اور اس پروگرام کے بغیرمیں اس مقام پر نہ ہوتی جہاں میں آج ہوں۔ کامل ایمان کے ذریعے میں اس قابل ہوئی کہ میں اپنے اندر ان تبدیلیوں کو ہونے دوں۔

’’ہمیشہ خوشگوار زندگی گزارنا صرف تبھی ممکن ہے جب تم اسے دن بہ دن کی بنیاد پر گزارو۔‘‘ ~ مارگریٹ بونانو

بدھ، 21 اکتوبر، 2015

تعلق

چاہے میں کسی بھی طرح کے گروپ میں شمولیت اختیار کرتی مگر میں ہمیشہ خود کو اجنبی محسوس کرتی تھی۔ مجھے کبھی محسوس نہیں ہوا کہ میں بھی اس گروپ کا حصہ ہوں۔ جب میں نارانون میں شامل ہوئی تو یہ احساس بدل گیا۔ یہ میں نے پہلی ہی میٹنگ میں محسوس کر لیا کہ میں نے اپنا دوسرا خاندان پا لیا ہے۔

میں ان لوگوں کے ساتھ گھُل مِل گئی۔ یہاں میں بغیر شرم محسوس کیے اپنے نشئی بیٹے کے بارے میں بات کر سکتی ہوں۔ میرا گروپ سمجھتا ہے کہ میں کیسا محسوس کر رہی ہوں اور میں خود کو تنہا بھی محسوس نہیں کرتی۔ حقیقت میں جو میں ہوں یہاں میں وہی نظر آسکتی ہوں۔

خود کو محفوظ سمجھنا اور نارانون دوست ہونا جنہیں میں فون کر سکتی ہوں کیونکہ وہ میرے پاگل پن کے جذبات کو سمجھ سکتے ہیں میرے لیے بہت اہم ہے۔ میں نارانون گروپ کے سامنے کھڑے ہونے میں آسانی محسوس کرتی ہوں کیونکہ مجھے پتا ہے کہ یہ لوگ مجھے قبول کرتے ہیں۔

میں یہاں برابری کی حثیت رکھتی ہوں۔ میں یہاں عجیب یا یہ محسوس نہیں کرتی کہ لوگ مجھ پر رائے زنی کر رہے ہیں۔ میں نارانون فیلوشپ کا غیر مشروط پیار محسوس کر سکتی ہوں۔ اب میں بحالی محسوس کرسکتی ہوں۔

میرا بہت بُرا وقت چل رہا تھا اور میں نے کئی ہفتوں تک نارانون میٹنگ میں جانا چھوڑ دیا۔ جب میں واپس آئی تو مجھے خوش آمدید کہا گیا۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ ’’تم کہاں تھی؟‘‘ مجھے قبول کیا گیا، گلے لگایا گیا اور بتایا گیا کہ مجھے واپس دیکھ کر انہیں خوشی ہوئی تھی۔ نارانون خاندان کو میں نے خود چنا ہے اورمیں بہت شکر گزار ہوں کہ میں اس گروپ سے تعلق رکھتی ہوں۔

اس تجربے نے مجھے ایک نئے اعتماد کا احساس دلایا۔ اس نئے اعتماد کے احساس نے مجھے نارانون گروپ کے باہر بھی لوگوں سے تعلق بنانے میں میری مدد کی۔ نارانون نے مجھے میری خوداعتمادی اور عزت نفس واپس دلائی۔

آج مجھے معلوم ہے کہ میں اپنی بالاتر طاقت کی مدد سے اپنی زندگی جاری رکھ سکتی ہوں چاہے میرا بیٹا منشیات کا استعمال کررہا ہو یا نہیں۔ میری زندگی دوبارہ مجھے مل گئی ہے اور اب یہ بامعنی ہے۔

آج کی سوچ:

نارانون سے حاصل ہونے والی غیرمشروط محبت نے بالکل دوا کی طرح کام کیا۔ یہ اس درد اور تکلیف سے بچاتی اور سکون پہنچاتی ہے جو میں نے نشئی کی وجہ سے برداشت کی، تاکہ زخم بھرنے سے بحالی کا عمل شروع ہوسکے۔


’’اگر ہم اپنی زندگی کا مقصد ہمدردی اور غیرمشروط محبت والی زندگی گزارنا بنائیں تو یقیناً دنیا ایک باغ بن جائے گی جہاں ہر قسم کے پھول کھِلیں اور پروان چڑھ سکیں گے۔‘‘ الزبتھ کوبلر روس

منگل، 20 اکتوبر، 2015

مدد کرنا

میرے لئے مدد کرنا اہم ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو مجھے کرنا سکھائی گئی تھی۔ مجھے لگا کہ اپنے پیاروں کی مدد کرنا مجھ پر لازم ہے۔ نارانون میں آنے سے قبل میں مدد کرنے کے حوالے سے خوفناک حد تک شش وپنج کا شکار تھی۔

مجھے یہ سمجھنے میں بہت زیادہ سوچ بچار اور وقت لگا کہ مجھے دوسروں کی مدد اس طریقے سے کرنی چاہیئے جس سے ان کے لیے میرا پیار ظاہر ہو اور یہ نقصان دہ نہ ہو اور بدلے میں مجھے کوئی توقع نہ ہو۔

میں نارانون میں مدد کا ایک نیا طریقہ سیکھ رہی ہوں، ایک ایسا طریقہ جو مجھے اُمید ہے کہ میرے پیاروں کو جرآت، خودمختاری، بھرپور زندگی، آزادی اور خوشی کے راستے پر لے جائے گا۔

دوسروں کی مدد کے بارے میں جو میری سوچ تھی وہ حقیقتاً ان کی زندگی میں مداخلت یا نشے میں معاونت تھی۔ آج جب میں کسی کی مدد کا سوچتی ہوں، میں پہلے رُکتی ہوں اور سوچتی ہوں:

میں مدد کیوں کر رہی ہوں؟
میں کس کی مدد کررہی ہوں؟
کیا یہ واقعی مدد ہے؟
کیا انہوں نے مجھے مدد کے لئے کہا ہے؟

میں اپنے آپ سے یہ بھی پوچھتی ہوں کہ جو مدد میں دے رہی ہوں کیا وہ پتھر کی سل جیسی تو نہیں جو انہیں نیچے دبا دیتی ہے اور وہیں ساکت رکھتی ہے، یا میری مدد بہار کے موسم میں چلنے والی ہوا کی طرح ہے جو آہستہ سے بچے کی پتنگ کو اوپر اُٹھانے کی مدد فراہم کرتی ہے۔

میں نارانون میں سیکھ رہی ہوں کہ پورے خاندان کو متاثر کرنے والی نشے کی بیماری میں میں بھی کردار ادا کرتی ہوں اور میرے پاس کئی اختیارات موجود ہیں۔ جب مجھے واضح طور پر معلوم ہو کہ میں کیا کردار ادا کرتی ہوں تو میں رُک سکتی ہوں اور عمل کرنے سے پہلے دیکھ سکتی ہوں کہ میں کیا کرنے جارہی ہوں اور اپنا ردعمل منتخب کر سکتی ہوں۔

اب میں جانتی ہوں کہ جب میں ناراض ہوں یا اپنی مدد سے نتائج میں کسی تبدیلی کی توقع کر رہی ہوں، تب یہ نشئی کی بیماری میں معاونت ہو گی، اس لئے مجھے یہ نہیں کرنا چاہئیے۔ جب میں مداخلت کرتی ہوں تو میں صرف نشئی کی جدوجہد کو طول دے دیتی ہوں۔

آج کی سوچ:

دوسروں کو ذاتی مضبوطی اور خودمختاری دلانے میں مدد دینا اصل مدد ہے۔ نشئی کی مدد کرنا کہ وہ اپنے اعمال کے نتائج کا سامنا نہ کر سکے یا ان کے لئے کچھ ایسا کرنا جو وہ اپنے لئے کر سکتے ہوں ایسا ہی ہے جیسا کہ انہیں مستقل طور پر بیساکھی دے دی جائے۔


’’اُن (نشئی) کے لئے محبت اور ہمدردی کو کھوئے بغیر ہم کچھ دیر کیلئے ایسا کر سکتے ہیں کہ پیچھے ہٹ جائیں اور ان کے لیے کچھ ’نہ کریں‘۔ ایسا کرنا صحیح ہے۔ یہ ڈرامائی انداز میں تبدیلی نہیں لاتا اور جب ہم کچھ ’کرتے تھے‘ تو بھی کوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں آتی تھی۔‘~ نارانون بارہ اقدام پروگرام

پیر، 19 اکتوبر، 2015

حال میں جینا

مجھے حال میں، صرف آج کے دن کیلئے زندگی گزارنے میں مسئلہ ہے، ۔ مجھے یہ سمجھنے میں بہت لمبا عرصہ لگا لیکن بالآخر میں سمجھ گئی کہ میں اپنے نشئی شوہر کو ٹھیک نہیں کرسکتی اور میں اس سے علیحدہ ہو گئی۔ مجھے لگا کہ یہ نارانون کے دوسرے ساتھیوں کے لئے ممکن ہے کہ وہ آج کے دن میں رہ کر زندگی گزاریں لیکن چار چھوٹے بچوں کے ساتھ مجھے اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچنا ہے۔
 اگر میرے بچے میرے شوہرکے نشئی ہونے کا الزام مجھے دیں جیسا کہ میرا شوہر کرتا ہے تو کیا ہو گا؟ اگر وہ خود نشئی بن گئے تو کیا ہوگا؟ کیا میں ان کے لئے ماں اور باپ دونوں بن سکوں گی؟ میں نے حال ہی میں کچھ پڑھا جس نے میرا ذہن بدل دیا:
’’جیسے ہی ہم حالیہ لمحے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، ہم اسے گہرائی تک جیتے ہیں اور ایک اطمینان حاصل کرتے ہیں جسے ہم ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے بارے میں پریشان ہوتے وقت نہیں جان سکتے۔ جو لمحہ ابھی ہے میں اسی کے بارے میں کچھ کر سکتی ہوں اور اسی کی مجھے ضرورت ہے۔‘‘ فوڈ فار تھاٹ (دماغ کے لیے خوراک) از الزبتھ ایل۔
یقیناً میں کبھی کبھی پریشان ہوں گی لیکن یہ تب تک ٹھیک ہے اگر میں اسے خود کو نگلنے نہ دوں۔ اب میں خود سے پوچھتی ہوں ’’کیا آج میرے بچے خوش ہیں؟ کیا میں کچھ ایسا کر سکتی ہوں جو بچوں کے لئے آج کا دن یادگار بنا دے؟‘‘
میں سوچتی ہوں کہ میں ایسا اس لئے کر پائی کہ میں جہاں ابھی ہوں اورجو کچھ بھی ہوں میں اس سے بالآخر مطمئن ہو گئی ہوں۔ میں آج کیلئے اور اس موجودہ لمحے کے لیے شکرگزار ہوں۔
آج کی سوچ:
میں اپنے حال میں یہیں اور ابھی رہوں گی۔ میں مستقبل کو نہیں دیکھ سکتی اور میں شاید کبھی ماضی میں پیچھے مڑ کر دیکھوں لیکن میں اسے مستقل نہیں دیکھتی رہوں گی۔
’’ہر دن اچھی طرح گزارو اور پھر اسے جانے دو۔ جو تم کر سکتے ہو تم نے کیا۔ بے شک کچھ غلطیاں اور لغویات ہو جائیں گی؛ ان کو بھول جاؤ جتنی جلدی تم بھول سکتے ہو۔ کل کا دن نیا ہوگا؛ اسے اچھی طرح اور اطمینان سے اور اتنے جذبے کے ساتھ شروع کرو کہ تمہاری پرانی بیوقوفیاں تمہیں پریشان نہ کر سکیں۔‘‘ ~ رالف والڈو ایمرسن

اتوار، 18 اکتوبر، 2015

تشدد

تشدد کئی شکلوں میں ہوتا ہے مثلاً جسمانی، زبانی، ذہنی اورنفرت آمیز گندے طریقے سے گھورنا۔ میں ان تمام قسموں کے تشدد سے گزری ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ میرے دادا، جو کچھ حد تک میری پرورش کے ذمہ دار تھے، مجھے دھکے دیتے، اونچی آواز میں چیختے اور چٹکیاں کاٹتے۔ وہ شراب کے عادی تھے اور زیادہ تر شراب کے نشے میں مدہوش رہتے تھے۔ ان کا تشدد یہاں تک بڑھا ہوا تھا کہ وہ ہم بچوں کا جنسی استحصال بھی کرتے۔

جب میرے والد کا انتقال ہوا تو میری ماں نے اپنا سارا دکھ مجھ پر نکالا۔ اس کی توقع تھی کہ میں اُس کی سب سے زیادہ مددگار بنوں کیونکہ اسے چار بچوں کو پالنے کے لئے اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا۔ بعد ازاں میں نے ایک ایسے آدمی سے شادی کر لی جو نہ صرف پُرتشدد تھا بلکہ نشئی بھی تھا۔

مجھے یقین ہے کہ ان تمام سالوں میں تشدد کی تمام اقسام کے تجربے نے مجھے اتنی اندرونی مضبوطی دی کہ میں اپنی زندگی کو جاری رکھ سکوں۔ میں جانتی ہوں کہ مجھے دوسروں کو مزید زیادتی کی اجازت دینے یا اسے برداشت کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں یہ بات اس لیے جانتی ہوں کیونکہ میں بہتر سلوک کی حقدار ہوں۔

میں نے دوسروں کا دکھ بھی سمجھنا اور محسوس کرنا شروع کر دیا۔ میں سُننے، سیکھنے اور کسی کے بارے میں بنا رائے قائم کیے اس کی رہنمائی کرنے کے قابل ہوں۔ مجھے اعتماد ہے کہ نارانون میں کسی سے اپنی بات کہنا میرے زخم جلد بھرنے کا ایک طاقتورنسخہ ہے۔

اپنی اس نئی اُمید اور مدد کے ساتھ میں خود کو آزاد اور اس قابل سمجھتی ہوں کہ میں اپنی زندگی میں آگے بڑھنا جاری رکھوں۔ میں نے نارانون میں سیکھا کہ اپنی زندگی کو صحتمند اور بہتر طریقے سے گزارنے کے لئے میرے پاس اپنے فیصلے کرنے کی طاقت ہے۔

آج کی سوچ:

کوئی بھی زیادتی کا مستحق نہیں؛ ہم سب محفوظ رہنے کا حق رکھتے ہیں۔ میں اپنی بالاتر طاقت کی مدد سے مزید مظلوم نہیں بنتی رہوں گی۔ میں ماضی کی زیادتیوں سے بحالی کے لئے مدد حاصل کرنے کا انتخاب کروں گی اوراپنے لئے ایک بہتر زندگی بناؤں گی۔ میں دوسروں کی بھی ایسا کرنے میں مدد کروں گی۔

’’گھریلو تشدد کسی کے ساتھ بھی، کبھی بھی نہیں ہونا چاہیئے۔ لیکن یہ ہوتا ہے اور جب یہ ہوتا ہے تو مدد بھی موجود ہوتی ہے۔‘‘ ~ ڈومیسٹک وائلنس ہینڈ بک

ہفتہ، 17 اکتوبر، 2015

تبدیلیاں

میرے بالغ بیٹے کے پاس تعلیم، اچھی نوکری، گاڑی اور گھر تھا۔ اپنی نشے کی لت کی وجہ سے اس نے ہر چیز کھو دی اور سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہو گیا جہاں اس نے کچھ بہت بُرے حالات دیکھے۔ اس کا سامنا ایک نوجوان بے گھر لڑکی سے ہوا۔ وہ بھی نشئی تھی اور عوامی بیت الخلا میں اسکا اسقاطِ حمل ہو گیا۔

اُس لڑکی نے میرے بیٹے سے مدد کی التجا کی۔ میرے بیٹے نے اُسکی مدد کی جتنی وہ کر سکتا تھا مگر وہ لڑکی اور اسکا بچہ دونوں مر گئے۔ یہ طرز زندگی اس سے بالکل مختلف تھا جس میں اس نے پرورش پائی تھی۔ وہ ایک اوسط مضافاتی ماحول مگر ایک محفوظ پناہ گاہ میں پلا بڑھا تھا جہاں اس قسم کی تلخ حقیقت سے اسے ڈھال کی طرح بچایا گیا تھا۔

بعد میں اُسے گرفتار کر لیا گیا اور اس نے ایک ماہ جیل میں گزارا۔ تب اس کو منشیات سے بحالی مرکز میں ایک سال گزارنے کی سزا سنائی گئی۔ بحالی کے مرکز میں داخلے سے پہلے معائنہ کرنے والے ڈاکٹر نے میرے بیٹے میں ذہنی صدمے کی تشخیص کی۔

وہ بالکل ایسے صدمے سے دوچار تھا جس طرح کوئی سپاہی جنگ سے بموں کی آوازیں سن سن کر خستہ حال واپس آتا ہے یا دیگر لوگ جو ایسے ہی خوفناک حالات سے گذرتے ہیں۔ اب وہ سڑکوں پر زندگی گذارنے کے دوران ہونے والے ذہنی صدمے سے نجات کے لئے ایک ماہر نفسیات کے پاس جا رہا ہے۔

نشئی کو تکلیف میں دیکھ کر مجھے بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے، لیکن ہوسکتا ہے کہ بظاہر اس ظالمانہ اور سخت تجربے نے نشئی اور اسے چاہنے والے ہر شخص کی زندگی بچائی ہو۔

میں نے نارانون میں سیکھا کہ جب میں اپنے پیارے مریض کو تکلیف میں دیکھنا برداشت نہیں کر سکتی تو میں اس کی نشے میں معاونت کرتی ہوں۔ چونکہ مں اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی اس لیے میں اس کے لئے ہر چیز ٹھیک کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ ایسا کرتے ہوئے میں ان تمام تجربات کی راہ میں حائل ہو جاتی ہوں جن کی بدولت شاید نشئی بدلنے کی جرآت پا سکے۔

آج کی سوچ:

میری سوچیں اور دعائیں ایسے مسائل کا سامنا کرنے والے تمام لوگوں اور ان کے پیاروں کے ساتھ ہیں چاہے وہ والدین ہوں، جیون ساتھی، بچے یا دوست ہوں۔ آپ تنہا نہیں ہیں بلکہ اپنے سچے دوستوں کے درمیان ہیں جو آپ کو دوسروں کی نسبت بہتر سمجھ سکتےہیں۔


’’تبدیلی مستقل ہے، دوبارہ پیدائش کا اشارہ ہے، اس پرندے کی طرح جو مر کر دوبارہ زندہ ہوتا ہے۔‘‘ ~ کرسٹینا بالڈوِن

جمعہ، 16 اکتوبر، 2015

نارانون میں روحانی ترقی

اپنے نشئی بیٹے کی بحالی کے شروع میں ایک دن میں نے اپنے گھرمیں باورچی خانے کی الماری میں رکھے پیاز کو اگتے دیکھا۔ جب میں اُسے اُکھاڑ کر پھینکنے لگی تو مجھے میرے بیٹے نے روک دیا۔ اُس نے کہا کہ وہ اس کو مٹی میں لگانا چاہتا ہے۔ اس بات نے مجھے حیران کیا لیکن میں نے اسے پیاز دے دی۔ اُس نے اسے باہر لگا دیا اور روزانہ اس کو پانی دیتا رہا۔

میں نے یہ بات ایک میٹنگ میں شئیر کی کیونکہ یہ میرے نشئی بیٹے کا عمومی رویہ نہیں تھا، حتی کہ منشیات استعمال کرنے سے پہلے بھی نہیں۔ ایک نارانون ساتھی نے کہا کیا کہ شاید یہ اُس کی بحالی کی اُمید اور نئی روحانی ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔

نارانون ساتھی کے الفاظ نے مجھے بھی اُمید دی۔ پیاز کا پودا بڑٓا ہونے سے پہلے ہی میرا بیٹا چلا گیا مگر میں اسے پانی دیتی رہی۔ پیاز کی ٹہنیاں لمبی اور مضبوط ہوتی گئیں۔ میں اس وقت حیران رہ گئی جب میں نے اس کے سرے پرکلیوں کا ایک خوشہ بنتے دیکھا۔ ایک دن کلیاں جوبن پر آگئیں اور چھوٹے سفید خوبصورت پھولوں میں بدل گئیں۔

میں نے ان سفید گچھوں کی تصویر اتار لی اور اکثر اس کو دیکھتی ہوں۔ یہ مجھے اپنی زبردست اور زندگی بدل دینے والی روحانی ترقی کی یاد دلاتی ہے۔ شروع میں میری بحالی کا عمل بہت سُست تھا اور کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا تھا کہ میری ترقی بالکل نہیں ہو رہی لیکن میں نے پھر بھی واپس آنا جاری رکھا۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ میری ترقی جاری رہی۔

آج کی سوچ:

بحالی اور روحانی ترقی راتوں رات رونما نہیں ہوتی۔ جب ہم نارانون پہلی بار آتے ہیں تو ہم جلد ہی چیزیں ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی بجائے ہمیں نشئی کو رہائی دینا اور اپنی بحالی کو مضبوطی سے پکڑنا سیکھنا ہے، نا کہ نشئی کی بحالی کو۔ ہم صرف خود کو بدل سکتے ہیں۔

’’عظمت بہت ساری چھوٹی چیزیں اچھے طریقے سے کرنے سے آتی ہے۔ انفرادی طور پر یہ کوئی بڑی چیزیں نہیں لگتیں۔ مگر جب ان کو اکٹھا کیا جائے تو یہ بڑی ہو جاتی ہیں۔‘‘ ~ ایڈورڈ ایس فِنکلسٹین