بدھ، 30 ستمبر، 2015

اضطراب

جب ہم کسی نشئی کے ساتھ رہتے ہوں تو پریشانی و اضطراب میں زندگی کے ہر لمحے کو ضائع کر دینا بہت آسان ہوتا ہے۔ میں کنٹرول کا ایک جھوٹا احساس محسوس کرتی اور جب میں سوچتی کہ میری زندگی میں موجود نشئی منشیات استعمال کر رہی ہے تو مضطرب ہو جاتی۔

میں نشئی کے ساتھ رہتے ہوئے اس کے لیے زندگی کزارنے میں اتنی منہمک ہو گئی تھی کہ میں نے اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ میں نے گھر پر رہنا شروع کردیا تاکہ میں ہر لمحے اس کی حرکات پر نظر رکھ سکوں، جیسے ایسا کرنے سے مسئلہ حل ہو جائے گا۔ میرا خیال تھا کہ میں اُسے منشیات کے استعمال، بہت زیادہ پیسہ خرچ کرنے یا ہماری زندگیوں کو مزید نقصان پہنچانے سے بچا سکوں گی۔

اگر میں اُسے یہ دکھا سکوں کہ وہ اپنی زندگی، اپنے خاندان اور ہم سب کی زندگیوں کے ساتھ کیا کر رہی ہے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ہم سب ایک خوشگوار، محبت بھری، صحتمند اور پریشانی سے آزاد زندگی گزار سکیں گے۔ آخر جب میری ہمت جواب دے گئی تو میں نے محسوس کیا کہ میں اب ایسا کرنا جاری نہیں رکھ سکتی اور پھر مجھے احساس ہوا کہ یہ میرا پاگل پن تھا۔

نشے کی لت کے عفریت نے میری ہر سوچ، عمل اور جذبے کو اس حد تک چاٹ لیا تھا کہ میں جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر بیمار ہو گئی۔ مجھے یہ سب فوری بند کرنا پڑا۔ میں نے ’جانے دو‘ کا اُصول سیکھا۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ بلآخر مجھے سمجھ آگئی۔ میرا نشئی پر کوئی کنٹرول نہیں، نہ کبھی تھا اور نہ کبھی ہوگا۔

آج کی سوچ:

ہم اپنے فیصلے کرنے میں اُسی طرح آزاد ہیں جس طرح نشئی اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہے۔ ہم کسی کو کنٹرول نہیں کر سکتے اور ایسا کرنے کی کوشش صرف پریشانی کا سبب بنے گی۔

’’ہمیں خود اپنا باغ کاشت کرنا چاہیئے۔‘‘ ~ وولٹیئر

منگل، 29 ستمبر، 2015

پیش رفت نہ کہ کاملیت

میں نارانون کی ایک شکرگزار رکن ہوں اور لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنی عزت نفس کی پرواہ نہ کرنے کی عادت سے بحال ہو رہی ہوں۔ میں ایک نشئی کے ساتھ کئی سال شادی کے بندھن میں رہی تھی اور میں ضرورت سے زیادہ مسائل کا شکار رہی کیونکہ میں نے یہ مسائل خود اپنے اوپر مسلط کیے تھے۔

میں اپنے سارے مسائل کے لئے نشئی کو الزام دیتی اور اپنی خود کی ذمہ داریاں اٹھانے سے اُسی طرح انکاری تھی جیسے نشئی اپنی ذمہ داریوں کو اٹھانے سے انکاری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں یہاں ہوں۔

پہلے میں نارانون میں آنے کے لئے راضی نہیں تھی۔ جب میں نے نارانون میٹنگز میں آنا شروع کیا تو میں سُنتی بھی نہیں تھی۔ میں وہاں سُن بیٹھی رہتی لیکن کچھ عرصہ کے بعد میں نے بہتر محسوس کرنا شروع کردیا اور یہاں آنا جاری رکھا۔

میں نے نارانون کا لٹریچر پڑھنا شروع کردیا۔ آخرکار میں نے بھی شئیر کرنا شروع کیا اور یہی وقت تھا جب میں نے بہتر ہونا شروع کردیا۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میں وہیں ہوں جہاں مجھے ہونے کی ضرورت تھی اور یہ کہ جو میں محسوس کرتی تھی دوسرے اسے سمجھتے تھے۔ بالآخر میں دوسرے لوگوں کی کہانیاں سُننے کے بھی قابل ہو گئی اور میں نے ان کی پرواہ کرنا شروع کردیا۔

میں نے نارانون میں سیکھا کہ میں صرف ایک انسان ہوں۔ اس بات کے احساس سے مجھے بہت سکون ملا کہ میری زندگی کی بہت ساری ناکامیوں کے پیچھے میری نالائقی نہیں تھی بلکہ جو کچھ بھی میں کرنے کی کوشش کر رہی تھی وہ فانی انسانوں کے لئے جسمانی، ذہنی اور جذباتی اعتبار سے کرنا ناممکن ہے۔

جب میں اپنے آپ کو ایسی چیزوں تک محدود رکھتی ہوں جو میں کر سکتی ہوں اور مجھے کرنے کا حق رکھتی ہوں تو میں انہیں عمدہ طریقے سے کرتی ہوں۔ حتیٰ کہ اگر میں اچھے طریقے سے نہ بھی کر سکوں تو میں جانتی ہوں کہ ایسا اس لئے ہے کہ میں محض ایک انسان ہوں اور اسی لئے میں کامل یا بے عیب نہیں ہوں ۔۔۔ بالکل دوسروں کی طرح۔

آج کی سوچ:

میں نے سب سے بڑا تحفہ جو نارانون سے حاصل کیا وہ ہے عزتِ نفس۔ اب میں جانتی ہوں کہ میں محبت، پُرسکون ماحول اوراپنے لیے عزت کی حقدار ہوں۔


’’ان بارہ اقدام کے ذریعے اپنی زندگی میں تبدیلی کے عزم کے بعد ہم اس چیز کو پہچانتے ہیں کہ تبدیلی ایک عمل ہے اور ہم ہر قدم کو بار بار استعمال کریں گے۔’کاملیت نہیں پیش رفت‘ قول کی طرح ہم اپنی روحانی ترقی کی راہ میں ہر موڑ پر ہر قدم کا نیا رُخ سمجھ پائیں گے۔‘‘ ~ نارانون بارہ اقدام کا پروگرام

پیر، 28 ستمبر، 2015

اونچی لہروں پر سواری کرنا

میں نے یہ بیان کرنے کیلئے استعارہ تلاش کرنے کی کوشش کی کہ میں کس طرح تمہاری نشہ میں ڈوبی زندگی کو دیکھتی ہوں۔ جب میں ساحل کے کنارے پر بیٹھی تھی تب مجھے وہ استعارہ مل گیا۔ اب مجھے احساس ہوا کہ تم سمندر کی اونچی لہروں پر سواری کر رہے ہو! 

ایک طویل عرصہ سے میں تمہیں یا تم کہاں رہے ہو کے بارے میں نہیں جانتی۔ میں تمہیں سُن سکتی تھی لیکن تمہیں دیکھ نہیں سکتی تھی۔ اب میرے ذہن میں یہ تصور ہے کہ تم کہاں رہے ہو مگر میں یہ نہیں سمجھ سکتی کہ تم کیوں اپنے پرانے ہلاکت خیز رویے کی طرف واپس لوٹنا چاہتے ہو۔

میں خیال کرتی ہوں کہ کوئی شخص جو تیر کر ساحل پر پہنچ جائے اور خطرناک قسم کی اونچی سمندری لہروں سے زندہ بچ نکلے وہ اپنی خوش قسمتی کو یاد رکھے گا اور کبھی واپس نہیں جائے گا۔

پھر بھی اپنی بحالی کے دوران میں تم نے دوبارہ نشہ آزمانے کی اپنی خواہش بیان کی! میرا غصہ گلے تک آ گیا جب میں اپنی زبان پر آنیوالے ان الفاظ کو دبا رہی تھی کہ ’’کیا تم اپنے حواس میں تو ہو؟‘‘ یقیناً تم اپنے حواس میں ہو۔ یہ نشے کا پاگل پن بول رہا ہے۔ میں جانتی ہوں یہ کیا ہے، میں اسے سُننا برداشت نہیں کر سکتی مگر یہی تمہاری سچائی ہے اور مجھے اس کو لازمی قبول کرنا ہے۔

وہ لوگ جنہوں نے اونچی سمندری لہروں پر سواری کی ہے صرف وہی جانتے ہیں کہ ان سے کیسے زندہ بچنا ہے۔ تمہیں لازمی اپنی زندگی کی حفاظت کے لیے ایک سپانسر تلاش کرنا چاہیئے۔ میں نے تمہیں تمہارے پاگل پن سے بچانے کی اس حد تک کوشش کی کہ میں خود کو تباہ کرنے کے قریب پہنچ گئی۔ لیکن نارانون سے میں نے سیکھا کہ مجھے ساحل کنارے پر انتظار کرنا چاہیئے۔

جب میں تمہارا انتظار کررہی ہوں گی کہ تم کب اونچی لہروں پر سواری کرنا بند کرو گے اس وقت میں اپنے سکون و اطمینان کے لئے دعا کروں گی جس کی مجھے ضرورت ہے۔

آج کی سوچ:

میں خود کو نشے کی عادت کی اونچی لہر میں جھونکنے کا خطرہ مول نہیں لوں گی۔ میں میٹنگ میں جاؤں گی یا نارانون کے کسی ساتھی کو ٹیلی فون کروں گی، مگر میں تمہارے ساتھ اونچی لہروں کی سواری نہیں کروں گی۔


’’کسی چیز کو قبول کرنے کا مطلب یہ نہیں اسے پسند کیا جائے۔‘‘ ~ آئیانلا وین زنت

اتوار، 27 ستمبر، 2015

معافی: محبت کا ایک عمل

مجھے لگتا تھا کہ معافی ایسا کام ہے جو میں کسی کے لئے کرتا ہوں۔ حقیقت میں مجھے اپنے لیے دوسروں کو معاف کرنے کی ضرورت تھی۔ ماضی میں میرا معافی کا تصور یہ تھا کہ میں نشئی کی تکلیف دہ حرکت کو بھول جاؤں۔ مگر اس سے مجھے آئندہ بھی تکلیف ہوتی۔
تو پھر یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ میں نے تمہیں معاف کیا؟ کیا میں اس شخص کو احتساب سے آزاد کر رہا ہوں؟ کیا میں معافی دے کر اپنے لیے چیزوں کو آسان کرنا چاہتا ہوں یا ذاتی تسکین حاصل کرنا چاہتا ہوں؟
اگر میں یہ کہنے کیلئے تیار ہوں کہ ’’تمہارے ذمے میرا کوئی حساب نہیں‘‘ تو میں معاف کرسکتا ہوں اور ان ناراضگیوں کو جانے دے سکتا ہوں جو مجھے بیمار کیے رکھتی ہیں۔ میں اس رولر کوسٹر ریل گاڑی سے اُتر سکتا ہوں گا جو مجھے اوپر نیچے جھٹکے دیتی ہے۔
جب تک معافی نہ دی جائے تو نفرت، غصہ، احساسِ جرم، اور شرمندگی پیدا ہوتے ہیں۔ میں خود کو اور نشئی کو معاف کر سکتا ہوں۔
جب تک میں اپنی ناراضگیوں کو تھامے رکھوں گا وہ مجھے جکڑے رکھیں گی۔ اس کا موازنہ ہم بندر پکڑنے والے جال سے کر سکتے ہیں: بندر ایک سوراخ میں میٹھی ٹافی دیکھتا ہے، پھر وہ اس میں ہاتھ ڈال کر انہیں پکڑ لیتا ہے۔ ٹافیاں پکڑے ہوئے بندر اپنا ہاتھ سوراخ سے باہر نہیں کھینچ سکتا۔ اس طرح وہ پکڑا جاتا ہے۔ بالکل اُسی طرح میں بھی جکڑا جاتا ہوں جب میں معاف نہیں کرتا۔
آج کی سوچ:
میں معاف کرتا ہوں محبت کے ایک عمل کے طور پر نہ کہ طاقت، دوسروں کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے یا انہیں کنٹرول کرنے کے عمل کے طور پر۔ معافی کے ذریعے میں دوسروں کو رائے زنی اور مذمت سے آزاد کر کے خود کو آزاد کرتا ہوں۔

’’ہم معافی کی مشق کرکے ہی اندرونی سکون تک پہنچ سکتے ہیں۔ معافی کا مطلب ماضی کو جانے دینا ہے اور اسی لئے یہ ہماری ماضی کی غلط سوچ اور تصورات کو ٹھیک کرنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔‘‘ ~ جیرالڈ جی جامپولسکی

ہفتہ، 26 ستمبر، 2015

صبر کیساتھ قبول کرنا

صبر انتظار کرنے یا کسی کام میں تاخیر کو بغیر ناراض ہوئے برداشت کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ میں نشئی کے ساتھ ایک غیر معمولی صورتحال میں رہ رہا ہوں کیونکہ اس کا زندگی گزارنے کا انداز میرے لئے ناقابلِ قبول ہے۔ مجھے نشئی، خاندان کے دیگر افراد، دوستوں یا کام کے ساتھیوں کے ساتھ تحمل برتنا مشکل لگتا ہے۔
میری بے صبری کی عادت کا اپنے گرد لوگوں کی زندگیوں کو کنٹرول کرنے کے جھوٹے احساس سے گہرا تعلق ہے۔ جب دوسرے میری خواہش اور میرے ٹائم ٹیبل کے مطابق عمل نہیں کرتے تو مجھے لگتا ہے کہ میرا کنٹرول ختم ہو گیا ہے۔ پھر میں صبر کا دامن چھوڑ دیتا ہوں اور اپنے اردگرد لوگوں پر چیختا اور گالم گلوچ کرتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ ایسے جذبات کا اظہار مجھے دوسروں پر دوبار کنٹرول حاصل کرنے میں مدد دے گا۔
’’جانے دو اور خدا کو کرنے دو‘‘ ایک قول ہے جسے میں مشکل حالات میں یا پھر کسی سے ناراض ہوں تو سکون پانے کے لئے استعمال کرتا ہوں۔ جانے دینے کی مشق سے میں ان جذبات کو رہائی دے کر اپنی بالاتر طاقت کے حوالے کرتا ہوں۔ یہ مجھے اجازت دیتا ہے کہ میں انہیں بغیر کسی احساسِ ذمہ داری سے دیکھوں۔
میں نے جانا کہ جب میں اپنے کنٹرول کرنے کے جھوٹے احساس کو پہچانتا اور جانے دیتا ہوں تو میں اپنی توقعات کو بھی رہائی دے سکتا ہوں اور صبر محسوس کر سکتا ہوں۔
آج کی سوچ:
صبر یہ نہیں ہے کہ میں چیزوں کو اپنے انداز میں کروں۔ یہ معاملہ جو ہے اسے تسلیم کرنے اور قبول کرنے کا ہے اور اس بات پر اعتماد کرنے کا کہ جب مجھے کسی چیز کی ضرورت ہو گی میری بالاتر طاقت مجھے دے گی۔

’’تم ہتھوڑے سے سنگ مرمر کو پیس کر ایک مجسمہ نہیں بنا سکتے؛ تم ہتھیاروں کے زور پر روح کی سچائی کو سامنے نہیں لا سکتے۔‘‘ ~ کنفیوشیئس

جمعہ، 25 ستمبر، 2015

الزام

میرے لئے سب مسائل کا الزام اپنی زندگی میں موجود نشے کے مریضوں کو دینا آسان کام ہے لیکن انہیں الزام دینے سے میرے حالات میں بہتری نہیں ہوتی اور یقیناً اُن کے حالات بھی بہتر نہیں ہوتے۔ درحقیقت نشئی کے مسائل، کمزوریوں اور رویوں پر توجہ دینے سے میں اپنی کمزوریوں پر توجہ دینے بچ جاتی ہوں اور ایسا کرنا مجھے صحت مند اور خوش انسان بننے سے روکتا ہے۔

جب میں خود پر توجہ دیتی ہوں تو میں اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کر سکتی ہوں۔ جب نشئی مجھ سے میری گاڑی یا پیسے مانگے تو میں نا کہہ سکتی ہوں۔ میں بحث کے چکر میں نہ پڑنے کے لئے گھر سے باہر جا سکتی ہوں۔ میں بحث کے سلسلے کو روک کر اپنے سپانسر کو فون کر سکتی ہوں۔ حتیٰ کہ میں نشے کے مریضوں کو اپنی رائے رکھنے کا حق دے سکتی ہوں۔

 مجھے مریض کی جیل سے کی گئی کالز کی ادائیگی کرنے یا اس کے وکیل کی فیس بھرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ مجھے کسی بھی قسم کے بچاؤ کے مشن میں حصہ لینے کی ضرورت نہیں۔ میں نشئی کو اسکے اعمال کے نتائج بھگتنے دے سکتی ہوں۔

حتیٰ کہ مجھے خود کو بھی الزام دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اپنی ماضی کی غلطیوں کے لئے خود کو معاف کرسکتی ہوں اور جو کچھ مجھ سے ہو سکتا ہے صرف آج کے دن کے لیے کر سکتی ہوں۔ نارانون پروگرام مجھے سکھاتا ہے کہ مجھے بے عیب ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ روحانی ترقی حاصل کرنے کا پروگرام ہے نہ کہ بے عیب ہونے کا۔

آج کی سوچ:

خود سمیت دوسروں کو الزام دینا ترقی نہیں۔ یہ مجھے روکے رکھتا ہے۔ جب میں الزام دیتی ہوں تو میں ترقی نہیں کر رہی ہوتی اور میری بحالی کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے۔



’’زندگی کو دیکھنے کے صرف دو ہی نظریے ہیں۔۔۔۔ مظلوم کی طرح یا بہادر جنگجو کی طرح۔۔۔ اور تمہیں لازمی فیصلہ کرنا ہے کہ تم عمل کرنا چاہتے ہو یا ردعمل، اپنے پتوں سے کھیلنا چاہتے ہو یا پھر دوسرے کو ہرانے کے لیے پتوں میں ہیرا پھیری کرنا چاہتے ہو۔ اور اگر تم فیصلہ نہ کرپائے کہ زندگی کے ساتھ کیسے کھیلنا ہے تو ہمیشہ زندگی تمہارے ساتھ کھیل کھیلے گی۔‘‘ ~ مرلی شین

جمعرات، 24 ستمبر، 2015

تلافی کرنا

جب میں نے سنا کہ مجھے اپنی غلطیوں کی تلافی کرنا پڑے گی تو میں حقیقتاً ناراض اور اُلجھن کا شکار ہو گئی۔ مجھے کیوں کسی سے اپنے کیے پر معافی مانگنے کی ضرورت ہے؟ یہ سب ضروری تھا۔ جب میں چیختی، چلاتی اور نفرت انگیز باتیں کہتی تو یہ سب اس لئے ہوتا تھا کیونکہ میں ناخوش تھی، نشئی کی وجہ سے۔ میں نے ہمیشہ خود کو ٹھیک سمجھا۔ میں اچھا محسوس نہیں کرتی تھی لیکن میں کیا کر سکتی تھی؟

مجھے صرف پاگل کر دینے والی چیزوں پر پاگلوں جیسا ردعمل اختیار کرنا آتا تھا۔ جب میں اپنے کیے پر معافی کے بارے میں سوچتی تو میں حیران ہوتی کہ مجھے اس کے لئے کیوں معافی مانگنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ تو نشئی کی وجہ سے ہوا تھا۔

جب میں نے نارانون پروگرام کے بارہ اقدام میں نواں قدم پڑھا تو میں نے سیکھا کہ میں اپنے رویے میں تبدیلی لا کر اپنی غلطیوں کی تلافی کر سکتی ہوں۔ مجھے یہ معلوم نہیں تھا۔ تب مجھے سمجھ آیا کہ لٹریچر کو پڑھنا اور اسعتمال کرنا کیوں اتنا اہم ہے۔

میں گزشتہ دو سال کے دوران بدل گئی ہوں۔ میرے ردعمل کا انداز بدل گیا، میرا رویہ بدل گیا اور میں نے دیکھا کہ یہ بدلا رویہ کیسے تعلقات پر اثرانداز ہوتا ہے۔ گزشتہ ہفتے میرے حالات اداس کردینے والے تھے۔ مجھے نہیں لگ رہا تھا کہ میرے شوہر میرے لیے وہاں موجود تھے کیونکہ وہ نشے میں تھے اور قابلِ رسائی نہیں دکھائی دیتے تھے۔ اگرچہ یہ سچ تھا مگر میں نے اس وقت انہیں یہ نہیں کہا کہ وہ کتنے ناکام انسان تھے۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ میری توقعات کہ وہ مجھے اپنی بانہوں میں لیں اور سب کچھ ٹھیک کردیں حقیقت سے دور تھیں۔

ایک دن بعد وہ میری توقعات کے مطابق وہاں موجود تھے۔ اس وقت وہ میری طرف متوجہ، خیال کرنے والے، پیارکرنیوالے، بامروت اور بے غرض انسان تھے۔ میں خود کو جنت میں محسوس کر رہی تھی۔ مجھے حقیقت میں ان کی محبت اورپیار محسوس ہو رہا تھا۔ کیا بدلا تھا؟ صرف میرا رویہ مختلف تھا۔

میرا خیال ہے کہ اگر میں اپنے پرانا انداز اختیار کرتی تو وہ ایک غصیلی اور بیزار بیوی سے محبت کا اظہار نہ کرسکتے۔ میں نے ان کے بارے میں اپنا نقطہ نظر بدلا۔ میں ان کے ساتھ پیار اور احترام کے ساتھ پیش آتی ہوں۔ اب وہ مجھے اپنا پیار دینے کے لئے آزاد ہیں، اس لئے نہیں کہ مجھے اس کی توقع ہے بلکہ اس لئے کہ وہ یہ جذبات میرے لئےمحسوس کرتے ہیں۔

آج کی سوچ:

جب میں اپنے لئے پروگرام پر عمل کررہی ہوں تو بعض اوقات بہت سی غلطیوں کا ازالہ خودبخود ہو جاتا ہے۔


’’جب نفرت و حقارت کی دیورایں نہیں ہوتی تو ہم ایک دوسرے کو سمجھنے اور معافی دینے اور لینے کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔‘‘ ~ گمنام

بدھ، 23 ستمبر، 2015

ضروریات

میں چاہتا تھا کہ میرے ساتھ کچھ اچھا ہو اور میں نے اس کے لیے دعا کی اور نارانون وہ جگہ تھی جہاں مجھے یہ اچھائی ملی۔ ایک پرانی کہاوت کہ ’’نشئی کو اپنی پستی میں گرنے دو‘‘ کو آزمانا میرے لئے مشکل ہے۔ نشئی کو مدد کی ضرورت کا احساس ہونے تک حالات خراب ہو سکتے ہیں، اگر کھبی اسے یہ احساس ہو جائے۔

میں نے دیکھا کہ کسی چیز کے برا ہونے کے بارے میں میرا خیال نشئی کے خیال سے مختلف ہوسکتا ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ نشئی کے لیے میری خواہشیں، چاہتیں، ضرورتیں اور مستقبل کی اُمید اس کے اپنے خیالات سے مماثلت نہ رکھتی ہوں۔

جب میں نشئی کی خواہشات اور ضرورتوں کا اندازہ لگانا شروع کرتا ہوں تو میں ایک بار پھر اسکی زندگی کو کنٹرول کرنے اور اس کی بالاترطاقت کی جگہ لینے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک بار پھر میں نے محسوس کیا کہ میں پھر سے پرانے جال میں پھنس گیا ہوں اور نشئی کے لئے وہ سب کررہا ہوں جو اُسے خود اپنے لئے کرنا چاہئیے۔

جب میری توجہ نشئی پر اور اسکی ضرورتوں اور خواہشوں پر ہوتی ہے تو میں اسے اپنی خواہشات اور ضرورتوں کا ذمہ دار بھی بنا رہا ہوتا ہوں۔ آج جب میں نشئی کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے فیصلہ کرتا ہوں تو میں اپنے لیے فیصلہ کرتا ہوں۔

مجھے یہ یقین آگیا ہے کہ مجھ سے زیادہ بڑی طاقت میری خواہشات، ضروریات اور چاہتوں کو پورا کرسکتی ہے۔ جس طرح میری بالاتر طاقت نے مجھے نارانون تک پہنچنے میں رہنمائی کی یہی بالاتر طاقت نشئی کو بھی مدد تک پہنچائے گی جب نشئی بحال ہونا چاہے گا۔

میں اپنی ذات اور اپنے فیصلوں کی ذمہ داری لے سکتا ہوں، دوسروں کی زندگیوں کی نہیں۔ میں اپنے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ تلافی کر کے اپنے ماضی کے فیصلوں کو قبول کرتا ہوں۔ یہ عمل میرے لئے زندگی گزارنے کے ایک نئے اور مختلف راستے کے دروازے کھولتا ہے۔ میں اپنے ماضی کو دہراتے رہنے کی بجائے کچھ مختلف کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

آج کی سوچ:

آج میں اپنی بالاتر طاقت سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے یاد دلائے کہ میں جو کچھ بھی اپنے لئے چاہتا اور خواہش رکھتا ہوں وہ میرے اندر موجود ہے۔


’’جرأت رونے سے نہیں ڈرتی اور وہ دعا کرنے سے نہیں ڈرتی حتی کہ اس وقت بھی جب اُسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ وہ کس سے دُعا کر رہی ہے۔‘‘ ~ جے روتھ جینڈلر

منگل، 22 ستمبر، 2015

فیصلہ سازی

جب میں نشے کی بیماری سے پیدا ہونے والی بدنظمی میں زندگی گزار رہی تھی تو میں نے دیکھا کہ مجھے اپنی زندگی کے سادہ سے لے کر مشکل ترین مسائل کے بارے میں فیصلے کرنے میں مشکل پیش آتی تھی، ایسے مسائل جو میری اور میرے اہلِ خانہ کی بھلائی پر اثر انداز ہو سکتے تھے۔

حال ہی میں میری آٹھارہ سالہ بیٹی نے، جو نشے کی عادی ہے، خود کو بحران کی صورتحال میں پایا۔ اس کی وجہ سے اُس نے منشیات کا استعمال بڑھا دیا اور اس کا رویہ اور عمل ناقابلِ برداشت ہو گیا۔ نارانوں آنے سے پہلے میں نے اسے ناقابلِ قبول رویے کو جاری رکھنے کی اجازت دے کر خود کو اس افراتفری میں جھونک دینا تھا۔ میں فیصلہ کرنے سے ڈرتی تھی، اسے چلے جانے کا کہنے سے ڈرتی تھی، اور نتائج سے خوفزدہ تھی کہ وہ کیا ردعمل ظاہر کرے گی۔

میں نے نارانون میں سیکھا کہ میری بالاتر طاقت چیزوں کا خیال رکھے گی۔ میں اس کی رہنمائی کا انتطار کروں گی۔ مجھے یقین ہے کہ میری بالاتر طاقت مجھے وہیں لے جائے گی جہاں مجھے ہونا چاہئیے۔ مجھے یقین ہے کہ میں اپنی بالاتر طاقت سے کہہ سکتی ہوں کہ وہ میری رہنمائی کرے اور مجھے یقین ہے اگر میں غلط راستے پر جارہی ہوں گی تو وہ مجھے صحیح راستہ دکھائے گی۔ میں واضح جواب کا انتظار کرتی ہوں کیونکہ بعض اوقات فیصلہ نہ کرنا غلط فیصلہ کرنے سے بہتر ہوتا ہے۔

آج کی سوچ:

نشے کی عادت پورے خاندان کو متاثر کرنے والی ہے۔ اس کی کئی شکلیں ہیں اور یہ صرف نشے کے عادی فرد کو متاثر نہیں کرتی۔ میں اپنی بالاتر طاقت اور نارانون پروگرام کی مدد سے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کر سکتی ہوں۔


’’میں ہر دن کے آغاز میں اپنے ارادے اور اپنی زندگی کو خدا کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہوں ‘‘ ~ بدلنے کی جرأت

پیر، 21 ستمبر، 2015

آگاہی عمل کو جنم دیتی ہے

ایک دن تباہ کن آگاہی نے میری زندگی بدل دی۔ میں کام کررہی تھی اور میرے بچے سکول میں تھے جب مجھے اپنے گھر میں منیشات کے استعمال کے بارے میں معلوم ہوا۔ نشہ میری زندگی میں بھی آہستہ سے شامل ہو گیا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا۔

چرس کا بے جا استعمال میرے عزیز کو زندگی کی حقیقتوں سے فرار کا فریب بھرا راستہ فراہم کرتا۔ ہیروئین کے غلط استعمال سے وہ بے حس و حرکت کئی گھنٹوں تک سویا پڑا رہتا۔ چرس کے عادی شخص کا رویہ بھی پُرتشدد ہو جاتا۔ میرے اہلِخانہ میں منشیات کا استعمال میرے لئے ایک نہایت تکلیف دہ اور افسوسناک حققیت ہے۔

نارانون تک پہنچنے سے پہلے میں اپنے ماضی اور اپنے عزیزوں کی نشے کی عادت پر توجہ دینے میں پھنسی ہوئی تھی۔ میری خواہش تھی کہ میرے گھر کے افراد پہلے جیسے پیار کرنیوالے اور مہربان ہو جائیں۔ میں اس اعتماد، ہنسی اور تفریح کو بھی یاد کرتی جس سے کبھی ہم لُطف اندوز ہوا کرتے تھے۔

جب میں نے دوسروں کو نارانون میٹنگ میں اپنی کہانی بیان کرتے سُنا تو مجھے احساس ہوا کہ میں اس افسردہ اور پریشان کرنے والی حقیقت میں اکیلی نہیں ہوں۔ میں نے نارانون میں سیکھا کہ میں اپنا ماضی، دوسرے لوگوں یا چیزوں کو نہیں بدل سکتی لیکن میں خود کو بدل سکتی ہوں۔ مجھے ایک خوشگوار آگاہی اور نئی اُمید کا احساس ہوا۔

اپنے پروگرام پر کام جاری رکھتے ہوئے میں نے اپنے دکھ اور خوشیاں دوسروں سے بانٹنا سیکھا۔ اب میں روزانہ اپنی پرانی ناراضگیوں کو جانے دینے کی مشق کرتی ہوں۔ ہر روز میں اپنی توجہ خود پر اور اپنی زندگی میں مثبت چیزوں پر مرکوز کرتی ہوں۔

میرے لئے سب سے فائد مند علاج نارانون پروگرام ہے۔ اب میں کسی پریشانی اور پچھتاوے کے مزید مستقل اضطراب میں نہیں ہوں۔ بارہ اقدام پر کام کرکے اور میٹنگز میں باقاعدگی سے جا کر میں نے ہر نئے دن کو اپنے دل میں اطمینان اور سکون کے ساتھ قبول کرنا سیکھا۔

آج کی سوچ:

آگاہی کسی بھی مسئلے کو پہچاننے میں پہلا قدم ہے اور پس یہی مثبت تبدیلی کی طرف پہلا قدم ہے۔ جب تک میں کسی مسئلے کے بارے میں آگاہ نہیں ہوں گی میں اُسے حل کرنے کے لئے مناسب کارروائی نہیں کر سکتی۔ مجھے یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ میں صرف وہ کر سکتی ہوں جو میرے لئے ٹھیک ہے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی اجازت دے سکتی ہوں۔

’’آج میں ہر آگاہی کے لیے شکرگزار ہوں جو مجھے حاصل ہوتی ہے۔ جب زندگی میری توجہ حاصل کرے گی تو میں شکر، سکون اور وقار کا مظاہرہ کروں گی۔‘‘ ~ میلوڈی بیٹی

اتوار، 20 ستمبر، 2015

اپنے لئے اور اپنی بحالی کیلئے وقت نکالنا

اپنے چھوٹے سے قصبے میں نوعمری کے زمانے میں مجھے لگتا تھا کہ یہ جگہ میرے لیے موزوں نہیں۔ موسم گرما کے کیمپوں اور کانفرنسوں کے دوران میں بہتر محسوس کرتی تھی۔ اس تجربے کا میری اپنی ذات کے بارے میں سوچ میں بہت بڑا حصہ ہے کہ میں کون ہوں۔

جب تک مجھے نارانون کے بارہ اقدام کے پروگرام کا علم ہوا میں خود کو کھو چکی تھی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کون تھی اور میرے لئے کیا اہم چیز ہے۔ حتیٰ کہ مجھ سے یہ فیصلہ بھی نہیں ہوتا تھا کہ میں کونسی فلم دیکھنا چاہتی ہوں۔ میں نے اپنی توانائیوں کو اپنے عزیز کے لیے وقف کر دیا تھا۔ میں وہی چاہتی تھی جو وہ چاہتا تھا، وہی کرتی تھی جو وہ کرتا، میں اپنی تمام تر توانائیاں اس کے مسائل حل کرنے، اس کے مزاج کو سنبھالنے اور اُسے خوش رکھنے کی کوشش میں لگا دیتی۔

نارانون کی ہفتہ وار میٹنگ نے مجھے اپنی ذات پر توجہ دینے میں مدد دی۔ ایک عرصہ تک میٹنگز میں شامل ہونے کے بعد ایک علاقائی ورکشاپ میں شرکت کیلئے میں نے اپنی مصروفیات میں سے پورے ایک دن کا وقت اپنی ذات کیلئے نکالا۔ میں نے یہ نہیں بتایا کہ میں کہاں جا رہی ہوں۔ میرا شوہر سمجھا کہ مجھے کوئی کام ہے اور میں نے اسے ایسا سمجھنے دیا، کیونکہ ابھی بھی میں اپنے حق کیلئے کھڑی نہیں ہوسکتی تھی۔ اُس دن میں نے بہت زیادہ اُمید اور طاقت پائی اور اسکے بعد میں نے مقامی اور علاقائی خدمت، مثلاً نشی لوگوں کو جیل میں ملنا یا میٹنگز کے انعقاد میں مدد کا کام شروع کر دیا۔

جب مجھے اپنی ہفتہ وار میٹنگز میں زیادہ طاقت اور زیادہ اطمینان ملا تو مجھے یہ اور زیادہ پانے کی خواہش ہوئی۔ مجھے یاد آیا کہ بچپن میں کیسے موسم گرما کے کیمپوں اور کانفرنسوں نے میری مدد کی تھی۔ میں نے اسے دوبارہ آزمایا۔ میں نے خواتین کے ’بارہ اقدام‘ کے گروپ میں شمولیت اختیار کی جو ہر تین ماہ بعد کہیں دور اکٹھے وقت گزارتی تھیں۔ انہوں نے مجھے اپنے پروگرام پر کام کرنے میں مدد کی اور ہفتے کے آخر میں کچھ وقت گھر سے دور گزارنے سے مجھے نیا نقطہ نظر ملا۔ میں نے خود سے سوچنا سیکھا۔

اپنے نوجوان بیٹے کے نشے کے استعمال کے برسوں کے دوران میں بہت خوفزدہ تھی کہ وہ مر جائے گا یا کئی سال جیل میں گزارے گا۔ اُسے جانے دینا اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے دینا بہت مشکل تھا۔ جب میں اس کی مدد نہیں کر سکتی تھی تو میں بطور گروپ سپانسردوسرے نوعمر افراد کی مدد کرتی۔ میں نشے سے بحالی کے ایک مرکز میں خدمت کا کام دیتی اور وہیں میری ملاقات ایک ایسی سپانسر سے ہوئی جس کے بچے نشے کی وجہ سے جیل میں تھے۔

آج کی سوچ:

خدمت کا کام میری بحالی میں صراحت، مضبوطی، اور گہرائی لاتا ہے۔ خدمت کے دوران میں نے اپنی بحالی اور اپنے لئے وقت نکالنے کی اہمیت کے بارے میں سیکھا۔

’’خدمت ایک ایسا طریقہ ہے جس سے پیغام دوسروں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔‘‘ ~ نارانون کا بارہ اقدام کا پروگرام

ہفتہ، 19 ستمبر، 2015

جرأت

ایک شام میٹنگ میںجرأتکے موضوع پر بات چیت ہوئی۔ میٹنگ کے صدر نے کہا ان کے خیال میں بار بار میٹنگز میں آنا جرأت کا ایک مظاہرہ ہے۔ میں اس سے متفق ہوں لیکن یہ بھی محسوس کرتا ہوں کہ ایک اور عنصر بھی ہے: مصمم ارادہ۔ جرأت اور مصمم ارادے کی ضرورت ہے۔
جب میں پہلی بار نارانون میٹنگز میں آیا تو میں اپنی زندگی میں موجود نشی کو بدلنے کی ہر ممکن کوشش کرچکا تھا۔ کسی بھی کوشش نے کام نہیں کیا۔ میں کسی بھی شکل میں خاص قسم کے ’’علاج‘‘ کو بالکل پسند نہیں کرتا تھا اس لیے مجھے یقیناً جرأت اور پختہ ارادے کی ضرورت تھی۔
جب میں پہلی بار نارانون میٹنگز میں آیا تو دوسروں نے کچھ ایسی باتیں کیں مثلاً نشہ ایک بیماری ہے، یہ اخلاقی مسئلہ نہیں اور انسانی فطرت حقیقت سے انکار کی رکاوٹیں لا کھڑی کرتی ہے۔ حقیقت کا مکمل سامنا کرنے کے جس تجربے سے میں گزر رہا تھا اس نے مجھے جسمانی اور جذباتی طور پر اتنا مفلوج کر دیا تھا کہ میں صحیح طرح سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
 جب میں نے میٹنگز میں جانا اور دوسروں کو سننا جاری رکھا تو میں نے ایسے حالات بھی سنے جو مجھ سے بدتر ہیں۔ میں نے حقیقت سے انکار کی جگہ تبدیلی کو قبول کرنا شروع کر دیا۔ میں نے ارکان کو اپنی نشے کی خوفناک کہانیاں شیئر کرتے سُنا مگر پھر بھی وہ سادہ چیزوں پر ہنسنے کے قابل تھے۔ وہ وہاں اطمینان کی اس دولت کے ساتھ بیٹھنے کے قابل ہیں جو بارہ اقدام پر کام کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
 آج کی سوچ:
 وہ سکون و اطمینان جو دوسروں نے حاصل کیا، اسے حاصل کرنے کی خواہش اتنی شدید ہو گئی کہ میں میٹنگز میں بار بار آتا رہا۔ اطمینان کی خواہش نے جلد ہی میرے غصے، غم اور مایوسی کے احساسات کی جگہ لینی شروع کردی۔ آہستہ آہستہ ایک نیا شخص سامنے آنا شروع ہو گیا۔ تبدیلی واقع ہو رہی تھی۔
 ’’جرأت اور ثابت قدمی ایک جادوئی تعویز ہیں جن کے سامنے مشکلات ختم اور رکاوٹیں ہوا میں غائب ہو جاتیں ہیں۔‘‘ ~ جان کوئنسی آڈمز